جب سے بنی نوع انسان نے اپنی بقاء و تحفظ کے لیے حق دفاع کا راستہ اختیار کیا ہے ۔ اس وقت سے لیکر آج تک دنیا دو متضاد بیانیوں کے درمیان تقسیم چلی آرہی ہے۔ ایک جو عدل وانصاف، حق وسچائی پر مبنی ہے ۔ جس کا سب سے بہتر تصوررحمت اللعالمین سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے عملی شکل میں پیش کیا تھا۔ جو رہتی دنیا تک انسانوں کی رہنمائی کرتارہے گا۔اور دوسرا جو توسیع پسندانہ عزائم تعصب و عناد کی بنیاد پر ہے ۔
جو ہر دور میں فرعونیت و تکبر کا دعویٰ کرنے والوں کی سرشست میں شامل ہوتا ہے ۔ موجودہ عالمی منظرنامے میں یہ بیانیہ اسرائیل “صہیونیت” نقطہ نظر سے منسلک ہے ۔ جس کا زیادہ ترنشانہ امت مسلمہ ہی بنتی ہے ۔ گذشتہ تین دہائیوں اور خاص کر پچھلے چار سالوں کے دوران مشرق وسطیٰ میں ہونے والے مختلف عسکری واقعات کا تزویراتی گہرائی سے جائزہ لیا جائے ۔ صاف محسوس ہوتا ہے کہ جو بیانیہ سامراجیت پر استوار ہو ۔
وہ کسی بھی فورس کے اخلاقی بگاڑ کا سبب بننے کے ساتھ ساتھ اس کے لڑنے کا مورال بھی متاثر کرتاہے ۔ ایسی صورت میں ایک منظم فورس غیر محسوس طریقے و حالات کے تحت شکست خوردہ ذہنیت میں تبدیل ہو جاتی ہے ۔ قیادتیں جنگ سے جی چرانے لگتی ہیں یا پھر ان میں خوف و شدت سرایت کر جاتی ہے ۔ ایسے میں دشمنوں کا جاسوسی کا نیٹ ورک اندر تک نفوذ کر جاتا ہے۔ جو ناقابل یقین حد تک افرادی واسٹریٹجک اثاثہ جات کے بڑے پیمانے پر نقصان کا باعث بن جاتا ہے ۔ موجودہ جنگی منظر نامے میں امریکہ ، اسرائیل ، بھارت و بشار نصیری فورسز کی شکست وریخت اس کی مثالیں ہیں ۔
دشمنوں کے بہکاوے میں آکر خود ساختہ حقوق ، نام نہاد آزادی اور زبردستی مسلط کیئے گے انتہاپسندانہ دینی افکار کی بنیاد پر اپنوں کے ہی خلاف مسلح کاروائیاں فساد فی الارض کے سوا کچھ نہیں۔ ایسے بیانیے ہزاروں بے گناہ انسانوں کی ہلاکتوں کا سبب بنتے ہیں ۔ یہ اسلامی تعلیمات و انسانیت نہیں بلکی بدترین شیطانیت ہے ۔ جس کا کوئی بھی مذہب اجازت نہیں دیتا ۔ خطے میں گذشتہ پانچ دہائیوں سے مذہب کے نام پر اور کبھی مسیحا کی آمد کی آڑ میں انتہا پسندی ، قتل وغارت گری ، عبادت خانوں میں دہشت گردانہ حملے ، علماء کرام کا قتل عام، فرقہ وارانہ تشدد۔ جس کا تصور نہ تو اسلام میں ہے اور نہ ہی عیسائیت میں۔
جبرواستبداد ، ظلم وستم اور نسل کشی سے اگر کوئی علاقہ فتح ہو بھی جاتا ہے ۔ یا پھر متشددانہ افکار و نظریات کو زبردستی لوگوں کے اذہان پر مسلط کر بھی دیا جاتا ہے ۔ تو ایسے جابرانہ قبضے و سوچ کی اندھیری رات چاہیے کتنی ہی طویل اور تاریک کیوں نہ ہو ؟۔ ایسے بیانیوں کا انجام ہمیشہ عبرتناک ہی ہوتا ہے ۔ جیسے مشرق وسطیٰ میں مختلف فورسز و نظریات کا زمین بوس ہونا ۔ یہ کوئی مبالغہ آرائی نہیں بلکہ زمینی حقائق ہیں ۔ بالآخر ایک پرامن سحر نمودار ہر کر رہتی ہے ۔
پاک چائنا پیس اسٹریٹجک کوارڈینیشن کی سعی پیہم کی وجہ سے دنیا دن بدن محفوظ ہو رہی ہے ۔ طاقت کا توازن تبدیل ہو رہا ہے ۔ حقیقت میں امریکہ کی سپر میسی کا سورج غروب ہو رہا ہے ۔ اور دنیا پاک چائنا کے ارد گرد اکٹھی ہورہی ہے ۔ پاک ثالثی کے پرعزم کردار نے انسانیت کے قاتل نیتن یاہو کو بھی لبنان کے ساتھ جنگ بندی کرنے پر مجبور کر دیا ہے ۔ اس کے باوجود یہ خدشات بدرجہ اتم موجود ہیں کہ دنیا کو تیسری عالمی جنگ کی ہولناکیوں میں دھکیلنے والے بدفطرت دشمنوں کو ثالثی اور امن کا کردار ہضم نہیں ہو رہا ۔ملعونوں کی قتل وغارت گری سے بھری سیاہ تاریخ اس کی شاہد ہے کہ وہ فتنہ برپا کرنے سے بعض نہیں آئیں گے ۔ جس طرح ملعون امریکہ و امریکیوں کی ذلت وجگ ہنسائی کا سبب بنے ہیں ۔ قیاس ہے وہ مودی اور اس کی انتہا پسند کچن کیبینٹ کے جنگی جنون کو اپنے عزائم کی تکمیل کے لیے استعمال کرتے ہوئے بھارت کے بھی حصے بخرے کروا کر ہی چھوڑیں گے۔ مودی کے لیے جتنا جلدی ممکن ہو سکے صہیونی بیانیہ سے جان چھڑائے ۔ کیونکہ صہیونی بیانیہ تباہی وبربادی کے سوا کچھ نہیں لاتا ۔
مودی آخر کب تک پاکستان فوبیا کی بنیاد پر عوام کا سیاسی استحصال کرتا رہے گا ؟۔ پرتشدد سیاسی بیانیہ معاشروں میں مختلف طبقوں کے درمیان نفرتوں کو جنم دیتا ہے ۔ جو عدالتی جانبداری ، سیاسی ڈکٹیٹرشپ اور بیروزگاری کا سبب بنتا ہے ۔ لہذا مودی کے لیے بہتر یہی ہے کہ وہ ضد، انا اور تعصب کے پرفریب جال سے نکل کر پاکستان کےساتھ “معاہدہ برائے بقائے امن ” کرے۔ دنیا کو محفوظ بنانے کے لیے کیئے جارہے ثالثی کے پرخلوص کردار سے مودی جی موقع سے فائدہ اٹھائے۔ تاریخ میں ایسا موقع شادرونادر ہی ملتا ہے ۔ جس سے قوموں ، ملکوں و ریاستوں کے مستقبل سنورتے ہیں ۔ پاکستان کے دیرینہ جائز مطالبات کو تسلیم کرتے ہوئے مقبوضہ ریاست کشمیر، ریاست جونا گڑھ اور ریاست حیدرآباد پر پاکستان کے حق ملکیت کو تسلیم کیا جائے ۔تاکہ باقی ماندہ بھارت کو صہیونی بیانہ کی خوفناک سازشوں سے بچایا جا سکے ۔ موجودہ بین الاقوامی سطح پر چلنے والی امن کی لہر سے مودی کو سمجھ لینا چاہیے ۔ کہ دنیا اب جنگوں ، خون خرابہ ، نسل کشیوں سے تنگ آچکی ہے ۔ مودی کو ان زمینی حقائق کا ادراک کرنا ہو گا ۔
دہائیوں بعد دنیا نے حیران کن منظر دیکھا، کہ یورپ ، نیٹو اور چرچ نے اس سارے انسانیت کش صہیونی بیانیہ کا ساتھ دینے سے یکسر انکار کر دیا ۔ مودی اور اس کی متعصب جنگی کابینہ کو کھلے ذہن سے سرخم تسلیم کر لینا چاہیے کہ دنیا امن ومحبت ، مضبوط معیشت اور عدل وانصاف کی بالادستی سے چلتی ہے ناکہ زبردستی، دھونس و نفرت انگیز بیانیہ سے ۔مودی کو یہ سمجھنا ہو گا کہ ایران وامریکہ کو بچانے کے لیے پاکستان میدان میں آگیا ۔ جس کے ساتھ پوری دنیا کھڑی ہے ۔ لیکن کل کلاں مودی کی ہٹ دھرمی سے بھارت کو بچانے کے لیے کوئی نہیں آئے گا ۔ ابھی تو مقبوضہ ریاست کشمیر، جونا گڑھ اور حیدآباد تک بات محدود رہے گی ۔ دوسری صورت میں پورا بھارت ٹکڑوں میں بکھر جائے گا۔