تین روز قبل تک ایران مذاکرات کے لیے بالکل تیار نہیں تھا۔ پاکستان ایک عجیب کشمکش سے گزر رہا تھا۔ پھر کیا وجہ بنی کہ ایرانی وزیر خارجہ کو اچانک پاکستان آنا پڑا؟ اس کی تین ممکنہ وجوہات ہو سکتی ہیں۔ پہلی آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی سے امریکہ ہاری ہوئی جنگ لڑے بغیر جیتنا چاہتا ہے۔ دوسری بدھ 22 اپریل کو برطانیہ میں تیس سے زائد ممالک کے ملٹری مندوبین کا اجلاس، جس میں آبنائے ہرمز کو کھلوانے اور اس کے بعد کثیر الملکی فوجی اتحاد کے قیام کی کوششوں کے حوالے سے مختلف آپشنز پر غور کیا گیا۔ اگر ایسے کسی بھی آپشن پر عمل درآمد ہوتا ہے، تو ایران کا خطے اور آبنائے ہرمز پر اثر و رسوخ کم ہو جائے گا اور ممکنہ طور پر ٹرمپ نیٹو کو ایران کے ساتھ کسی جنگ میں الجھا بھی سکتا ہے، جو اس کی دیرینہ خواہش بھی ہے۔ جو موجودہ حالات میں ایرانی اسٹیک ہولڈرز کو قابل قبول نہیں ہوگا۔ تیسرا، ناکہ بندی سے امریکہ ایران کو معاشی اور اندرونی طور پر شدید دباؤ میں لانا چاہتا ہے۔
خیال رہے کہ ایران کی بحری ناکہ بندی میں 10 ہزار فوجی اہلکار، سو سے زائد فائٹرز اور 17 بحری جنگی جہاز حصہ لے رہے ہیں۔ راقم کے اس موقف کی تائید اقوام متحدہ میں ایرانی سفیر امیر سعید کے اس بیان سے بھی ہوتی ہے، جس میں انہوں نے کہا کہ “اگر امریکہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کر دے تو ایران فوری طور پر مذاکرات کے لیے تیار ہے”۔
آبنائے ہرمز کی امریکی ناکہ بندی اور ایرانی بندش ایک ہی جنگی سکے کے دو رخ ہیں۔ دونوں کے ان نامناسب طرز عمل کا خمیازہ پوری دنیا بھگت رہی ہے۔ ناکہ بندی سے ایران پر اندرونی اور معاشی طور پر شدید دباؤ ہے۔ ایرانی ویب سائٹ “عصر ایران” کے مطابق ایران پر پابندیوں، جنگ، مکمل انٹرنیٹ بندش اور ناکہ بندی سے لوگوں کی قوت خرید بری طرح متاثر ہو رہی ہے، جس کے نتیجے میں چالیس لاکھ نوکریاں ختم ہو چکی ہیں یا متاثر ہوئی ہیں۔ ایک ڈالر پندرہ لاکھ ایرانی ریال کا ہو چکا ہے۔ فیکٹریاں تباہ ہونے سے بڑے پیمانے پر بڑھتی ہوئی بیروزگاری سے کساد بازاری کا دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔
ناکہ بندی سے ایران کو روزانہ کی بنیاد پر لاکھوں ڈالرز کا نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے، جو ایرانی دگرگوں معیشت کے لیے ناقابل برداشت بوجھ ہے۔ جبکہ ایرانی حکومت کی ترجمان فاطمہ مہاجرانی روسی میڈیا سے بات کرتی ہوئی کہہ چکی ہیں کہ “ابتدائی اور محتاط اندازے کے مطابق جنگ سے اب تک ہونے والا نقصان تقریباً 270 ارب ڈالر بنتا ہے، تاہم اس رقم میں اضافہ بھی ہو سکتا ہے”۔ بین الاقوامی میڈیا میں ایران میں سیاسی اور ملٹری قیادتوں کے درمیان بڑھتے ہوئے فاصلوں کی خبریں آنا معمول بن چکا ہے۔ عرب ممالک پر حملوں کی وجہ سے ان کے ساتھ سفارتی تعلقات تاریخ کے نازک ترین موڑ پر پہنچ چکے ہیں۔
صہیونی ساہوکار ٹرمپ اس ساری صورت حال کا فائدہ اٹھا کر اور ناکہ بندی کو بطور ہتھیار استعمال کرتے ہوئے ٹیبل ٹاک پر زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کر کے فاتح بننے کا خواب دیکھ رہا ہے۔ حتیٰ کہ ایرانی اسپیکر محمد باقر قالیباف کے مشیر مہدی محمدی کہنے پر مجبور ہو گئے کہ “ٹرمپ کی جانب سے ناکہ بندی کا تسلسل ایران پر بمباری سے مختلف نہیں”۔
ناکہ بندی اگر طول کھینچتی ہے تو عالمی معیشت جو پہلے ہی کساد بازاری کا شکار ہے، بین الاقوامی برادری اس کے خلاف ہو سکتی ہے۔ شنید ہے کہ امریکہ بین الاقوامی دباؤ برداشت نہ کرتا ہوا کوئی درمیانہ راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہو جائے گا۔ ایرانی اس تمام صورت حال کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہوں گے۔ ایرانی وزیر خارجہ کا دورہ اسی سلسلے کی کڑی ہے، تاکہ وہ جا کر یہ اندازہ لگا سکیں کہ امریکی کیا چاہتے ہیں؟ کس حد تک لچک کا مظاہرہ کریں گے؟ کیونکہ ٹرمپ پہلے یہ کہہ چکا ہے کہ “وہ پائیدار امن کی خواہش پر ایران کے ساتھ ایک ایسے معاہدے کے لیے پرامید ہیں جو پرانے جوہری معاہدے سے بہتر ہو”۔
سوال یہ ہے کہ ایرانی وزیر خارجہ کے پاس امریکہ کو دینے کے لیے کتنے اور کیا اختیارات ہیں؟ ان کی باڈی لینگویج سے ظاہر ہو رہا ہے کہ انہیں خاص بریف کر کے بھیجا گیا ہے، جس سے وہ زیادہ پرامید نظر نہیں آ رہے۔ مذاکرات کے دوران ہونے والی بارگیننگ سے جلد ہی معلوم ہو جائے گا کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے، کیونکہ دونوں فریق ہارنے کا رسک کسی بھی صورت میں لینے کے لیے تیار نہیں۔ بہرحال پاکستان سرتوڑ کوشش کر رہا ہے کہ کسی طرح دنیا کو تیسری عالمی جنگ کی ہولناکیوں سے بچا لیا جائے۔
بالفرض ایران اور امریکہ کے درمیان اگر کوئی سمجھوتہ نہیں بھی ہوتا، اس کے باوجود دونوں جانب سے سیاسی فوائد کے لیے تندوتیز بیانات کے علاوہ ہلکی پھلکی جھڑپیں جاری رہ سکتی ہیں، لیکن ایک بڑی جنگ کی نوبت نہیں آئے گی، تاوقتیکہ ایرانی رجیم یا ایرانی معیشت کمزور ہو کر کسی سمجھوتے پر پہنچ جائے۔ امریکہ نے ایران کی بحری ناکہ بندی سے ایران کو ایک ایسی بند گلی میں دھکیل دیا ہے کہ مذاکرات ناکام ہونے کی صورت میں امریکہ نے ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے محدود حملوں کا آپشن بھی کھلا رکھا ہوا ہے۔ ایران اس ناکہ بندی کو صرف ایک صورت میں ناکام بنا سکتا ہے کہ الجھے بغیر ایسے محفوظ متبادل راستے اختیار کرے جو کم از کم اس کی معاشی ضرورت پوری کرتے رہیں، اور ساتھ ساتھ سیز فائر پر عمل درآمد بھی کرتا رہے۔ ورنہ ایرانی رجیم کے پاس یا تو امریکی خواہش پر معاہدہ یا پھر “مارو اور مر جاؤ” کی پالیسی کی بنیاد پر جنگ۔
بہرحال چند دنوں میں سب کچھ ظاہر ہو جائے گا کہ کیا ہونے جا رہا ہے؟