آزاد جموں و کشمیر میں جاری سیاسی احتجاج اور عوامی مطالبات کی آڑ میں ملک دشمن عناصر اور کالعدم تنظیموں کے مابین ایک خطرناک گٹھ جوڑ کا انکشاف ہوا ہے۔ رپورٹس اور شواہد کے مطابق کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی/فتنۃ الخوارج) کی جانب سے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے حق میں ایک باقاعدہ تحریری اعلامیہ جاری کیا گیا ہے، جس نے ملکی سلامتی کے اداروں اور تجزیہ کاروں کے لیے تشویش کی ایک نئی لہر پیدا کر دی ہے۔
تفصیلات کے مطابق سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر سامنے آنے والے شواہد میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کالعدم ٹی ٹی پی کے ترجمان محمد خراسانی کے نام سے جاری کردہ اس مبینہ خط میں راولاکوٹ فائرنگ اور عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنما عمر نذیر کشمیری پر ہونے والے حملے کو بنیاد بنا کر ریاستی اداروں کے خلاف شدید ہرزہ سرائی کی گئی ہے۔
🚨 BREAKING | JAAC–Fitna Al Khawarij Nexus Exposed? 🚨
— Conflict Watch (@ConflictWatchX) June 7, 2026
A written statement allegedly issued by Fitna Al Khawarij (TTP) in support of JAAC is raising serious questions and exposing what many are calling a dangerous nexus. Reports also claim that the first X account amplifying the… pic.twitter.com/zdtUksqoGa
اس اعلامیے میں سیاسی، سماجی اور عوامی حلقوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ کشمیری عوام کے مطالبات کی آڑ میں موجودہ نظام اور سیکورٹی اداروں کے خلاف کھڑے ہوں۔
سکیورٹی ماہرین کے مطابق اس معاملے کا سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ کالعدم تنظیم کے اس اعلامیے کو سوشل میڈیا پر سب سے پہلے ابھینندن مشرا نامی ایک معروف بھارتی اکاؤنٹ سے شیئر اور ایمپلیفائی کیا گیا۔ ماہرین کا دعویٰ ہے کہ مذکورہ ایکس اکاؤنٹ مبینہ طور پر بھارتی خفیہ ایجنسی را سے وابستہ نیٹ ورک کا حصہ ہے، جو پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنے کے لیے مسلسل مہم چلاتا رہتا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایک طرف کالعدم فتنۃ الخوارج کی حمایت اور دوسری طرف بھارتی نیٹ ورکس کے ذریعے اس کی فوری تشہیر اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ پاکستان میں ہونے والے پُرامن یا سیاسی احتجاجی مظاہروں کو پرتشدد رنگ دینے اور ملک میں انارکی پھیلانے کے لیے ایک منظم اور مربوط کوشش کی جا رہی ہے۔
عوامی مطالبات کو ریاست اور سیکیورٹی فورسز کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کا یہ حربہ پاکستان کے امن کو سبوتاژ کرنے کی ایک بڑی اور گہری سازش کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
قومی سلامتی کے ماہرین نے اس صورتحال پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ قوم کو حقائق، شفافیت اور جوابدہی کی ضرورت ہے، اور کسی بھی بیرونی یا اندرونی شرپسند عنصر کو یہ اجازت نہیں دی جانی چاہیے کہ وہ عوامی مسائل کی آڑ لے کر پاکستان کے امن و استحکام کو داؤ پر لگائے۔