بدخشاں ایک بار پھر طالبان مخالف مزاحمت کا مرکز بن گیا ہے، جہاں فائرنگ کے واقعات میں مسلسل شدت دیکھی جا رہی ہے۔
مقامی ذرائع کے مطابق متنازع علاقوں میں شدید فائرنگ اور ہیلی کاپٹروں کی سرگرمیوں میں اضافہ ہو رہا ہے، جو بڑھتی ہوئی جھڑپوں کی نشاندہی کرتا ہے۔
طالبان مخالف مزاحمتی تحریکیں طالبان رجیم کے کنٹرول کو مسلسل چیلنج کر رہی ہیں، جس سے شمالی افغانستان میں عدم استحکام کی صورتحال واضح ہو رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ بڑھتی ہوئی جھڑپیں اس امر کی نشاندہی کرتی ہیں کہ شمالی افغانستان اب بھی مکمل طور پر پُرامن اور مستحکم نہیں۔
اس صورتحال نے طالبان کی جانب سے ملک بھر میں امن اور مکمل علاقائی کنٹرول کے بار بار کیے جانے والے دعووں کی حقیقت کو بھی آشکار کر دیا ہے۔
دیکھیے: افغانستان: بدخشان میں طالبان مخالف مزاحمتی گروہوں کی سرگرمیوں میں اضافہ