بدخشاں میں سکیورٹی صورتحال کی خرابی کے بعد امارتِ اسلامیہ کے رہنما محمد اسماعیل غزنوی کا پہلا بیان سامنے آ گیا ہے۔ بیان میں انہوں نے صوبے میں سب کچھ ٹھیک ہونے کا دعویٰ کیا۔
بدخشاں میں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماضی میں نیٹو اور امریکہ کی حمایت کے باوجود مخالفین ناکام رہے۔ ان کے مطابق مخالفین اب دوبارہ اقتدار میں نہیں آ سکتے۔
اسماعیل غزنوی نے مخالفین کو مذاکرات کی پیشکش بھی کی۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے مخالفین کو متنبہ بھی کیا۔ دوسری جانب افغان حکام کے سب ٹھیک ہے کے دعوؤں کے برعکس زمینی حقائق بالکل مختلف ہیں۔
مقامی ذرائع کے مطابق علاقے میں حالات تاحال کشیدہ ہیں۔ حالیہ دنوں میں بدخشاں میں ڈیورنڈ لائن کے قریب، کران و منجان، اور زیباک کے علاقے میں جھڑپوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
ذرائع کے مطابق ان جھڑپوں میں امارتِ اسلامیہ کی افواج اور مسلح گروہوں کے درمیان شدید تصادم دیکھا گیا۔
دیکھیے: افغانستان میں بڑھتی ہوئی مسلح مزاحمت اور طالبان کا مستقبل