افغانستان کے صوبہ پکتیا میں طالبان کے نائب وزیرِ دفاع ملا حمید اللہ اخوندزادہ کے عسکری قافلے پر ہونے والا خونریز حملہ محض ایک روایتی سکیورٹی واقعہ نہیں، بلکہ اس وسیع تر اور تشویش ناک صورتِ حال کا واضح ثبوت ہے جو گزشتہ کچھ عرصے سے پورے افغانستان میں جنم لے رہی ہے۔ پنجشیر کے دور دراز اور دشوار گزار پہاڑوں سے شروع ہونے والی طالبان مخالف مسلح و سیاسی مزاحمت آج بدخشاں، بغلان، تخار اور اب پکتیا جیسے صوبوں تک پھیل چکی ہے۔ یہ سلسلہ وار پیش رفت اس بات کا روشن اشارہ ہے کہ پورے ملک پر کامل کنٹرول کے طالبانی دعوے عملی سطح پر شدید دراڑ کا شکار ہو چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق افغانستان میں سرگرم اہم طالبان مخالف مسلح گروپ افغان فریڈم فرنٹ (اے ایف ایف) نے اس کارروائی کی باقاعدہ ذمہ داری قبول کی ہے۔ تنظیم کے ذرائع اور بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق جس وقت نائب وزیرِ دفاع کے قافلے کو نشانہ بنایا گیا، اس وقت وہاں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے شعبہ نشر و اشاعت عمر میڈیا سے وابستہ اہم شخصیت شیر زمان المعروف مخلص یار بھی موجود تھے۔ حملے کے فوراً بعد دونوں جانب سے جدید اور بھاری ہتھیاروں سے شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا جو کافی دیر جاری رہا۔
نائب وزیرِ دفاع کے قافلے میں ٹی ٹی پی کی اہم شخصیت کی موجودگی نے پاکستان اور عالمی برادری کے ان دیرینہ تحفظات کو عین درست ثابت کر دیا ہے کہ افغان سرزمین پر ٹی ٹی پی سمیت دیگر عسکریت پسند گروہ نہ صرف آزادانہ موجود ہیں بلکہ انہیں افغان طالبان کی صفوں اور اعلیٰ سطح کی سرپرستی بھی حاصل ہے۔ پاکستان ہمیشہ سے عالمی برادری اور بین الاقوامی فورمز پر یہ مؤقف پیش کرتا رہا ہے کہ افغان طالبان کی جانب سے اپنی سرزمین کو کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے دینے کے دعوے حقائق سے مطابقت نہیں رکھتے۔ اس واقعے نے اسلام آباد کے موقع و مؤقف کی حقیقت پر مہرِ تصدیق ثبت کر دی ہے اور یہ ثابت کر دیا ہے کہ عالمی برادری کے سیکیورٹی خدشات بالکل بجا تھے۔
تاریخ کا یہ بنیادی سبق ہمیشہ سے عیاں رہا ہے کہ جو نظام مذاکرات، سیاسی نمائندگی، عوامی شمولیت اور سماجی انصاف کی بجائے صرف اور صرف جابرانہ قوت اور عسکری طاقت کے بل بوتے پر قائم رہتے ہیں، وہ زیادہ عرصے تک قائم نہیں رہ سکتے۔ طالبان حکومت نے گزشتہ برسوں کے دوران افغان شہریوں کے بنيادی انسانی حقوق، اقلیتی گروہوں کی سیاسی شمولیت، اور خاص طور پر خواتین کی اعلیٰ تعلیم و روزگار پر سخت پابندیاں عائد کر کے ایک شدید سماجی و معاشی گھٹن پیدا کر دی ہے۔ یہی نظرانداز کیا جانے والا اور بنیادی حقوق سے محروم طبقہ اب اپنے غصب شدہ حقوق اور آزادیوں کی بحالی کے لیے مسلح اور غیر مسلح مزاحمت کا روپ دھار رہا ہے۔
پکتیا جیسے حساس اور عسکری نقطہ نظر سے انتہائی اہم صوبے میں طالبان کی اعلیٰ ترین قیادت پر حملہ اس امر کا ثبوت ہے کہ مزاحمتی تحاریک اب صرف شمال کے روایتی علاقوں تک محدود نہیں رہیں بلکہ طالبان کے مضبوط گڑھ اور طاقت کے مرکزی محور کے بالکل قریب پہنچ چکی ہیں۔ اس سے قبل صوبہ بغلان کے ضلع دوشی میں طالبان کے ملٹری قافلے پر راکٹ حملہ، جس میں سات اہلکار ہلاک اور چھ زخمی ہوئے، دو روز کے دوران مختلف جھڑپوں میں چار اہم طالبان کمانڈروں کی ہلاکت، اور بدخشان کے اضلاع یفتل و زیباک میں طالبان کے فوجی ڈرون گرانے اور ہیلی کاپٹروں کی لینڈنگ ناکام بنانے کے واقعات اس بات کو ثابت کرتے ہیں کہ سیکیورٹی کنٹرول کا دعویٰ دن بہ دن کمزور پڑ رہا ہے۔
بغلان، بدخشاں اور پکتیا کا یہ ابھرتا ہوا نیا سکیورٹی منظرنامہ طالبان انتظامیہ کے لیے ایک حتمی اور واضح پیغام ہے۔ محض عسکری طاقت کے استعمال سے عوام کے دلوں اور ایک پورے ملک پر مستقل حکمرانی قائم رکھنا ممکن نہیں۔ اگر طالبان حکومت نے اپنی موجودہ سخت گیر پالیسیوں پر فوری اور سنجیدہ نظرثانی نہ کی، ٹی ٹی پی جیسے دشت گرد گروہوں کی سرپرستی ختم نہ کی، تمام قومی طبقات اور اقلیتوں کو قومی دھارے میں شامل نہ کیا، اور افغان عوام کے بنیادی حقوق کو تسلیم نہ کیا، تو ملک میں عدم استحکام، عوامی بے چینی اور مسلح مزاحمت کی یہ لہر آنے والے دنوں میں مزید شدت اور وسعت اختیار کرتی جائے گی۔