افغانستان فریڈم فرنٹ (اے ایف ایف) نے 26 جولائی کو نئی ویڈیوز جاری کر دیں۔ ان ویڈیوز میں دعویٰ کیا گیا کہ اس کے جنگجوؤں نے بدخشاں کے ضلع زیبک میں طالبان کی متعدد چوکیوں پر پیش قدمی کرتے ہوئے قبضہ کر لیا ہے۔
فریڈم فرنٹ کی جانب سے جاری ویڈیوز میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ زیبک میں اس کے جنگجو طالبان کی سابقہ فوجی پوزیشنوں پر موجود ہیں۔ تنظیم کا مؤقف ہے کہ یہ ویڈیوز طالبان چیف آف اسٹاف کے اس دعوے کی نفی کرتی ہیں کہ ضلع زیبک میں فریڈم فرنٹ کی کوئی موجودگی نہیں۔
تنظیم کے مطابق جھڑپیں چوتھے روز بھی جاری ہیں۔ اور طالبان اب تک قبضہ کیے گئے مقامات واپس لینے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔
مبصرین کے مطابق طالبان حکومت مسلسل طالبان مخالف مزاحمتی گروہوں کی موجودگی اور ان کی پیش رفت سے انکار کر رہی ہے۔ تاہم اس انکار سے حکومتی مؤقف اور زمینی صورتحال کے درمیان فرق مزید نمایاں ہوتا جا رہا ہے۔
فریڈم فرنٹ کی جاری کردہ ویڈیوز میں جنگجوؤں کو شمالی زیبک میں بلند پہاڑی مقامات پر موجود دکھایا گیا ہے۔ تنظیم کا دعویٰ ہے کہ یہ طالبان کی سابقہ فوجی چوکیاں ہیں جن پر اب اس کا کنٹرول ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق برسوں سے جاری سیاسی محرومی، نسلی عدم توازن، معاشی بحران اور سخت گیر حکمرانی نے افغانستان میں ایسے حالات پیدا کیے ہیں۔ ان کے مطابق انہی حالات نے مختلف علاقوں میں طالبان مخالف مزاحمت کو تقویت دی ہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ طالبان مخالف مزاحمتی سرگرمیوں میں اضافہ حکومت کے اندر بڑھتے ہوئے دباؤ اور داخلی چیلنجز کی نشاندہی کرتا ہے۔
دیکھیے: افغانستان میں بڑھتی ہوئی مسلح مزاحمت اور طالبان کا مستقبل