دخشاں کے ضلع نسی میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے، جہاں طالبان حکومت نے شکی کے علاقے سے تازہ دستے نسی کی جانب روانہ کیے ہیں۔
مقامی طالبان حکام ایک جانب باغی کمانڈر جمعہ خان فتح کے ساتھ مذاکرات اور مفاہمت کی بات کر رہے ہیں۔ تاہم آماج نیوز کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ ان دستوں کی روانگی کا اصل مقصد نسی پر قبضہ کرنا اور جمعہ خان فتح کو ہلاک کرنا ہے۔
شکی ضلع کے مقامی ذرائع کے مطابق طالبان کی جانب سے نسی کی طرف فورسز روانہ کیے جانے کے بعد جنوبی افغانستان سے تعلق رکھنے والے تقریباً 20 مسلح طالبان رینجرز بھی نسی کے لیے روانہ ہوئے ہیں۔
بدخشاں کی تازہ صورتحال پر طالبان حکومت کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں لایا گیا۔
واضح رہے کہ نسی میں طالبان فورسز اور جمعہ خان فتح کے وفاداروں کے درمیان لڑائی گزشتہ کئی روز سے جاری ہے۔ فتح، جو ماضی میں طالبان کے دورِ حکومت میں زابل کے نائب گورنر رہ چکے ہیں، حالیہ مہینوں میں سونے کی کان کنی کے تنازع پر طالبان قیادت سے اختلافات کا شکار ہوئے تھے۔ مذاکرات کے متعدد ادوار کے باوجود کشیدگی میں کمی نہیں آ سکی، اور بدخشاں طالبان کی صفوں میں بڑھتے اندرونی اختلافات کا مرکز بنا ہوا ہے۔