آسٹریلوی حکومت نے بی ایل اے اور اس کے تین رہنماؤں بشیر زیب، حمل ریحان اور جیئند بلوچ پر مالیاتی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ دہشت گردوں کی معاونت پر 10 سال قید کی سزا مقرر۔

May 8, 2026

چارسدہ میں عوامی بیداری اور مولانا فضل الرحمان سمیت جید علمائے کرام کے دوٹوک مؤقف نے فتنہ الخوارج کے نظریاتی ڈھانچے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ یہ اداریہ اس ابھرتی ہوئی مزاحمت اور فکری جنگ کے مختلف پہلوؤں کا احاطہ کرتا ہے۔

May 8, 2026

چارسدہ میں علمائے کرام کی ٹارگٹ کلنگ کے خلاف عوامی احتجاج، شہریوں نے خارجی دہشت گردوں سے بیزاری کا اظہار کرتے ہوئے دیواروں پر احتجاجی نعرے درج کر دیے۔

May 8, 2026

بلخ کے سابق پولیس کمانڈر ایشان خالد کی ہمشیرہ نے اختر لوچک نامی شخص پر گھر پر قبضے اور طالبان رکن سے زبردستی شادی پر مجبور کرنے کا الزام عائد کیا ہے؛ متاثرہ خاندان دربدر ہونے پر مجبور۔

May 8, 2026

ایرانی افواج کی جانب سے امریکی بحری بیڑے پر حملے کے بعد امریکہ نے ایران میں میزائل اور ڈرون لانچ سائٹس کو نشانہ بنایا ہے؛ سینٹ کام کا کہنا ہے کہ وہ کشیدگی میں اضافہ نہیں چاہتے۔

May 8, 2026

طالبان حکومت نے 119 دفعات پر مشتمل نیا عدالتی فوجداری کوڈ’نافذ کر دیا ہے، جس میں سماجی طبقے کی بنیاد پر سزاؤں کا تعین اور مختلف جرائم کے لیے شرعی قوانین شامل ہیں۔

May 8, 2026

طالبان کا نیا 119 دفعات پر مشتمل عدالتی فوجداری کوڈ نافذ؛ افغانستان میں سزاؤں کا باضابطہ نظام متعارف

طالبان حکومت نے 119 دفعات پر مشتمل نیا عدالتی فوجداری کوڈ’نافذ کر دیا ہے، جس میں سماجی طبقے کی بنیاد پر سزاؤں کا تعین اور مختلف جرائم کے لیے شرعی قوانین شامل ہیں۔
طالبان حکومت نے 119 دفعات پر مشتمل نیا عدالتی فوجداری کوڈ'نافذ کر دیا ہے، جس میں سماجی طبقے کی بنیاد پر سزاؤں کا تعین اور مختلف جرائم کے لیے سخت شرعی قوانین شامل ہیں۔

افغانستان میں طالبان کا نیا فوجداری ضابطہ نافذ۔ سپریم لیڈر کی منظوری سے جاری گزٹ میں توہینِ رسالت، ارتداد، اور منشیات سمیت مختلف جرائم کے لیے سخت سزائیں مقرر کی گئی ہیں۔

May 8, 2026

افغانستان کی طالبان حکومت نے ملکی عدالتی نظام کو دستاویزی شکل دیتے ہوئے نیا “عدالتی فوجداری کوڈ” باقاعدہ طور پر نافذ کر دیا ہے۔ طالبان کی وزارتِ انصاف کی جانب سے جاری کردہ سرکاری گزٹ میں شامل یہ کوڈ 119 دفعات پر مشتمل ہے، جسے امیر المومنین ہیبت اللہ اخوندزادہ کی حتمی منظوری کے بعد نافذ کیا گیا ہے۔ اس نئے ضابطہ اخلاق کا مقصد ملک بھر کی عدالتوں میں سزاؤں کے تعین کے لیے ایک باقاعدہ فریم ورک فراہم کرنا ہے۔

سزاؤں کا سہ پہلو ڈھانچہ

اس نئے قانونی ڈھانچے میں سزاؤں کو تین بنیادی زمروں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ‘حد’ کے تحت وہ سزائیں شامل ہیں جو مذہبی تعلیمات کے مطابق طے شدہ ہیں۔ ‘قصاص’ کے زمرے میں برابر کا بدلہ یا جان کے بدلے جان کی سزا رکھی گئی ہے، جبکہ ‘تعزیر’ کے تحت وہ سزائیں شامل ہیں جن کا تعین جج یا ریاست کی صوابدید پر چھوڑا گیا ہے۔ یہ تقسیم طالبان کے مخصوص عدالتی وژن کی عکاسی کرتی ہے جہاں روایتی شرعی تشریحات کو باقاعدہ ریاستی قانون کی شکل دی گئی ہے۔

سماجی طبقے کی بنیاد پر سزا کا تعین

اس کوڈ کی ایک نمایاں اور منفرد خصوصیت تعزیری سزاؤں کا مجرم کے سماجی طبقے کے لحاظ سے مختلف ہونا ہے۔ علماء اور معاشرے کے اعلیٰ طبقے کے لیے جج کی جانب سے صرف تنبیہ یا نصیحت کافی ہوگی، جبکہ قبائلی عمائدین اور تاجروں (شرفا) کو عدالت میں طلب کر کے صرف مطلع کیا جائے گا۔ اس کے برعکس متوسط طبقے کے لیے قید کی سزا تجویز کی گئی ہے، جبکہ ادنیٰ طبقے کے لیے دھمکیاں اور جسمانی سزا بشمول کوڑے مارنا مقرر کیا گیا ہے۔

مذہبی و انتظامی جرائم پر گرفت

مذہبی جرائم کے حوالے سے یہ کوڈ انتہائی سخت ہے۔ توہینِ رسالت کے جرم پر سزائے موت مقرر ہے، تاہم اگر مجرم توبہ کر لے تو اسے 6 سال قید کاٹنی ہوگی۔ اسی طرح حنفی مسلک چھوڑنے والے شہری کو 2 سال قید، جبکہ اسلام چھوڑنے والی خاتون کو توبہ تک غیر معینہ مدت کے لیے قید رکھا جائے گا اور ہر تین دن بعد 10 کوڑے مارے جائیں گے۔ انتظامی سطح پر سپریم لیڈر کے احکامات کی خلاف ورزی کرنے والے سرکاری ملازمین کو فوری طور پر عہدوں سے برطرف کر دیا جائے گا۔

سماجی پابندیاں اور توہمات کی روک تھام

نئے قوانین کے تحت ناچ گانے کی محفلیں سجانے والوں، کوریوگرافرز اور یہاں تک کہ تماشائیوں کو بھی 2 ماہ قید کی سزا دی جائے گی۔ ہم جنس پرستی پر 2 سال قید یا بار بار ارتکاب پر سزائے موت دی جا سکے گی۔ رمضان میں روزہ نہ رکھنے پر 20 کوڑے اور 2 ماہ قید مقرر ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ‘نظرِ بد’ لگانے کے شبہ میں بھی ایک سال تک گھریلو نظر بندی کی سزا دی جا سکتی ہے۔ خاندانی معاملات میں والدین پر ہاتھ اٹھانے پر 30 کوڑے اور 5 ماہ قید، جبکہ شوہر کی جانب سے بیوی کو شدید زخمی کرنے پر صرف 15 دن قید کی سزا مقرر ہے۔

منشیات کی کاشت اور اسمگلنگ

منشیات کے خلاف مہم کو قانونی شکل دیتے ہوئے افیون اور چرس کی کاشت پر زمین کے رقبے کے لحاظ سے 6 ماہ سے 7 سال تک قید کی سزا مقرر کی گئی ہے۔ منشیات کی نقل و حمل اور فروخت پر بھی سخت سزائیں دی جائیں گی۔ مزید برآں، سرکاری دستاویزات یا سپریم لیڈر کے دستخط کی جعلسازی پر 3 سال قید کی سزا ہوگی۔ عدالتی جوابدہی کے عمل میں اگر کوئی جج فیصلے میں بلاوجہ تاخیر کا مرتکب پایا گیا تو اسے بھی 10 دن قید کی سزا بھگتنا ہوگی۔

متعلقہ مضامین

آسٹریلوی حکومت نے بی ایل اے اور اس کے تین رہنماؤں بشیر زیب، حمل ریحان اور جیئند بلوچ پر مالیاتی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ دہشت گردوں کی معاونت پر 10 سال قید کی سزا مقرر۔

May 8, 2026

چارسدہ میں عوامی بیداری اور مولانا فضل الرحمان سمیت جید علمائے کرام کے دوٹوک مؤقف نے فتنہ الخوارج کے نظریاتی ڈھانچے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ یہ اداریہ اس ابھرتی ہوئی مزاحمت اور فکری جنگ کے مختلف پہلوؤں کا احاطہ کرتا ہے۔

May 8, 2026

چارسدہ میں علمائے کرام کی ٹارگٹ کلنگ کے خلاف عوامی احتجاج، شہریوں نے خارجی دہشت گردوں سے بیزاری کا اظہار کرتے ہوئے دیواروں پر احتجاجی نعرے درج کر دیے۔

May 8, 2026

بلخ کے سابق پولیس کمانڈر ایشان خالد کی ہمشیرہ نے اختر لوچک نامی شخص پر گھر پر قبضے اور طالبان رکن سے زبردستی شادی پر مجبور کرنے کا الزام عائد کیا ہے؛ متاثرہ خاندان دربدر ہونے پر مجبور۔

May 8, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *