افغانستان کی طالبان حکومت نے ملکی عدالتی نظام کو دستاویزی شکل دیتے ہوئے نیا “عدالتی فوجداری کوڈ” باقاعدہ طور پر نافذ کر دیا ہے۔ طالبان کی وزارتِ انصاف کی جانب سے جاری کردہ سرکاری گزٹ میں شامل یہ کوڈ 119 دفعات پر مشتمل ہے، جسے امیر المومنین ہیبت اللہ اخوندزادہ کی حتمی منظوری کے بعد نافذ کیا گیا ہے۔ اس نئے ضابطہ اخلاق کا مقصد ملک بھر کی عدالتوں میں سزاؤں کے تعین کے لیے ایک باقاعدہ فریم ورک فراہم کرنا ہے۔
سزاؤں کا سہ پہلو ڈھانچہ
اس نئے قانونی ڈھانچے میں سزاؤں کو تین بنیادی زمروں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ‘حد’ کے تحت وہ سزائیں شامل ہیں جو مذہبی تعلیمات کے مطابق طے شدہ ہیں۔ ‘قصاص’ کے زمرے میں برابر کا بدلہ یا جان کے بدلے جان کی سزا رکھی گئی ہے، جبکہ ‘تعزیر’ کے تحت وہ سزائیں شامل ہیں جن کا تعین جج یا ریاست کی صوابدید پر چھوڑا گیا ہے۔ یہ تقسیم طالبان کے مخصوص عدالتی وژن کی عکاسی کرتی ہے جہاں روایتی شرعی تشریحات کو باقاعدہ ریاستی قانون کی شکل دی گئی ہے۔
سماجی طبقے کی بنیاد پر سزا کا تعین
اس کوڈ کی ایک نمایاں اور منفرد خصوصیت تعزیری سزاؤں کا مجرم کے سماجی طبقے کے لحاظ سے مختلف ہونا ہے۔ علماء اور معاشرے کے اعلیٰ طبقے کے لیے جج کی جانب سے صرف تنبیہ یا نصیحت کافی ہوگی، جبکہ قبائلی عمائدین اور تاجروں (شرفا) کو عدالت میں طلب کر کے صرف مطلع کیا جائے گا۔ اس کے برعکس متوسط طبقے کے لیے قید کی سزا تجویز کی گئی ہے، جبکہ ادنیٰ طبقے کے لیے دھمکیاں اور جسمانی سزا بشمول کوڑے مارنا مقرر کیا گیا ہے۔
مذہبی و انتظامی جرائم پر گرفت
مذہبی جرائم کے حوالے سے یہ کوڈ انتہائی سخت ہے۔ توہینِ رسالت کے جرم پر سزائے موت مقرر ہے، تاہم اگر مجرم توبہ کر لے تو اسے 6 سال قید کاٹنی ہوگی۔ اسی طرح حنفی مسلک چھوڑنے والے شہری کو 2 سال قید، جبکہ اسلام چھوڑنے والی خاتون کو توبہ تک غیر معینہ مدت کے لیے قید رکھا جائے گا اور ہر تین دن بعد 10 کوڑے مارے جائیں گے۔ انتظامی سطح پر سپریم لیڈر کے احکامات کی خلاف ورزی کرنے والے سرکاری ملازمین کو فوری طور پر عہدوں سے برطرف کر دیا جائے گا۔
سماجی پابندیاں اور توہمات کی روک تھام
نئے قوانین کے تحت ناچ گانے کی محفلیں سجانے والوں، کوریوگرافرز اور یہاں تک کہ تماشائیوں کو بھی 2 ماہ قید کی سزا دی جائے گی۔ ہم جنس پرستی پر 2 سال قید یا بار بار ارتکاب پر سزائے موت دی جا سکے گی۔ رمضان میں روزہ نہ رکھنے پر 20 کوڑے اور 2 ماہ قید مقرر ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ‘نظرِ بد’ لگانے کے شبہ میں بھی ایک سال تک گھریلو نظر بندی کی سزا دی جا سکتی ہے۔ خاندانی معاملات میں والدین پر ہاتھ اٹھانے پر 30 کوڑے اور 5 ماہ قید، جبکہ شوہر کی جانب سے بیوی کو شدید زخمی کرنے پر صرف 15 دن قید کی سزا مقرر ہے۔
منشیات کی کاشت اور اسمگلنگ
منشیات کے خلاف مہم کو قانونی شکل دیتے ہوئے افیون اور چرس کی کاشت پر زمین کے رقبے کے لحاظ سے 6 ماہ سے 7 سال تک قید کی سزا مقرر کی گئی ہے۔ منشیات کی نقل و حمل اور فروخت پر بھی سخت سزائیں دی جائیں گی۔ مزید برآں، سرکاری دستاویزات یا سپریم لیڈر کے دستخط کی جعلسازی پر 3 سال قید کی سزا ہوگی۔ عدالتی جوابدہی کے عمل میں اگر کوئی جج فیصلے میں بلاوجہ تاخیر کا مرتکب پایا گیا تو اسے بھی 10 دن قید کی سزا بھگتنا ہوگی۔