بلوچستان کے دیرینہ مسائل اور نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی بے چینی کے حوالے سے ماہرین نے ایک جامع بیانیہ پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان کے مسائل بلاشبہ حقیقی ہیں، تاہم حقوق کی آڑ میں “قبضہ” جیسے نعرے نوجوانوں کو ریاست سے دور کر کے تشدد کی راہ پر ڈال رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ریاست کی پالیسیوں سے اختلاف رائے ہر شہری کا آئینی حق ہے، لیکن جب اس اختلاف کو نفرت میں بدل کر ریاست کو “غیر ملکی” قرار دیا جاتا ہے، تو یہی وہ مقام ہے جہاں سے نوجوان انتہا پسند گروہوں کے لیے آسان ہدف بن جاتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمیں حقوق کی جائز جدوجہد اور ریاست مخالف پرتشدد بیانیے کے درمیان فرق کو واضح کرنا ہوگا تاکہ نوجوانوں کو بندوق کی بھرتی سے بچایا جا سکے۔
ماہرین نے اس بات پر زور دیا کہ انتہا پسندی کے اس چکر کو توڑنے کے لیے محض معاشی پیکیج کافی نہیں بلکہ ایک متبادل اور مضبوط بیانیے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم چاہتے ہیں کہ کالعدم تنظیموں کی صفوں میں بھرتی کا عمل رکے، تو ہمیں نوجوانوں کو تعلیم، ہنر اور روزگار کے ساتھ ساتھ “سچ” فراہم کرنا ہوگا۔ ان کے بقول، جب جھوٹ اور غلط معلومات کا پروپیگنڈا مضبوط ہو جائے تو ریاست کی ہر کامیابی اور ترقیاتی منصوبہ بھی مشکوک نظر آنے لگتا ہے۔ لہٰذا، اعتماد کی بحالی کے لیے سچائی پر مبنی معلومات کی فراہمی اور عملی اقدامات دونوں کا بیک وقت ہونا لازمی ہے۔
مختصر یہ کہ بلوچستان میں جاری بحران کے دو رخ ہیں: ایک معاشی اور دوسرا بیانیاتی۔ ماہرین کے مطابق اس مسئلے کا حل بھی دو طرفہ حکمت عملی میں پنہاں ہے، جس میں ایک طرف انصاف اور ترقی کو یقینی بنانا ہوگا اور دوسری طرف دشمن کے پھیلائے ہوئے غلط بیانیے اور پروپیگنڈے کا موثر جواب دینا ہوگا۔
اگر ریاست ترقیاتی کاموں کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کے فکری تحفظ اور درست معلومات کی فراہمی میں ناکام رہی، تو انتہا پسند گروہ پسماندگی اور احساسِ محرومی کو ڈھال بنا کر نفرت کا کاروبار چمکاتے رہیں گے۔ اب وقت آگئی ہے کہ بلوچستان کے نوجوان کو “محروم” کے بجائے “ذہن سازی کا شکار” سمجھ کر اس کی درست سمت میں راہنمائی کی جائے۔