فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے واضح کیا ہے کہ بلوچستان اور پاکستان کا ماضی، حال اور مستقبل مشترکہ ہے اور صوبے کا آنے والا کل اسی کے اپنے عوام کے فیصلوں سے جڑا ہوا ہے۔
فیلڈ مارشل سے ملاقات کے دوران بلوچستان کی نمایاں سیاسی و سماجی شخصیات نے شرکت کی، جس میں صوبے کو درپیش چیلنجز اور ترقیاتی امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
فیلڈ مارشل نے گفتگو کے دوران بلوچستان کے نوجوانوں کو معاشرے کا سب سے متحرک اور پُرامید طبقہ قرار دیا اور کہا کہ صوبے کے نوجوانوں میں صلاحیت اور مواقع، دونوں کی کوئی کمی نہیں۔ ان کے مطابق درست سمت میں توجہ دی جائے تو یہی نوجوان بلوچستان کی ترقی کا سب سے بڑا محرک بن سکتے ہیں۔
فیلڈ مارشل نے کہا کہ ریاست کسی بھی مذموم عزائم کے سامنے غیر متزلزل، پرعزم اور فیصلہ کن ردعمل دے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ دشمن کے پروپیگنڈے کا ہر سطح پر جامع اور بلا جھجک مقابلہ کیا جائے گا اور جھوٹے بیانیوں کو بےنقاب کرنا وقت کی ضرورت ہے۔
سید عاصم منیر نے واضح کیا کہ نام نہاد فتنۂ خوارج اور فتنۂ ہندوستان دراصل غیر ملکی سرپرستی میں چلنے والی وہ پراکسیز ہیں جنہیں بلوچستان کو غیر مستحکم کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ ان کے بقول ان عناصر کا مقصد صوبے کی ترقی میں رکاوٹیں کھڑی کرنا اور ریاست و عوام کے درمیان بداعتمادی و خلیج پیدا کرنا ہے۔
امن اور استحکام
فیلڈ مارشل نے زور دیا کہ بلوچستان میں پائیدار امن اور استحکام ہی وہ بنیاد ہے جس کے ذریعے صوبے میں سرمایہ کاری کے حقیقی مواقع سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ بلوچستان اور اس کے عوام کی اصل صلاحیت، ترقی کی رفتار اور امنگوں کو نمایاں کیا جائے تاکہ صوبے کا حقیقی تشخص سامنے آ سکے۔
اختتام پر انہوں نے دہرایا کہ بلوچستان اور پاکستان کا مستقبل مشترکہ ہے، اور صوبے کی تقدیر کا فیصلہ آخرکار خود بلوچستان کے عوام ہی کریں گے۔