بلوچستان میں ریاستی اداروں کی انتھک کوششوں اور بے مثال قربانیوں کے نتیجے میں دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کپن کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں۔ حالیہ آپریشنل کاروائیوں میں 177 دہشت گردوں کو ہلاک کرنے میں کامیابی ملی ہے، جبکہ 17 بہادر ریاستی کارکنوں نے جامِ شہادت نوش کیا۔ ان کاروائیوں میں پولیس، فرنٹیئر کور اور لیویز کے جوانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے دہشت گردی کے خلاف عزم کا ثبوت دیا ہے۔ ریاستی اداروں کی تمام تر کاروائیوں کا مرکز ہمیشہ وطن و شہریوں کی حفاظت رہا ہے، گوادر اور مکران میں 33 شہریوں کی شہادت پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا گیا ہے کہ دہشت گردانہ کاروائیوں میں شہریوں کا نشانہ بنانا دہشت گردوں کی سفاکیت کو ظاہر کرتا ہے۔
صوبائی ترقی اور بنیادی مسائل
بلوچستان 347,190 مربع کلومیٹر پر محیط پاکستان کے کل رقبے کا 44 فیصد ہے اور یہاں 14.8 ملین سے زائد آبادی رہائش پذیر ہے۔ صوبے کے لیے 1028 ارب روپے کے بجٹ سے ترقیاتی منصوبوں کو نئی رفتار مل رہی ہے، جبکہ 1947 سے اب تک کی ترقی اس بات کا ثبوت ہے کہ بلوچستان ترقی کی نئی منازل طے کر رہا ہے۔ درحقیقت 1950 کی دہائی سے بعض عناصر اپنے ذاتی مفادات کے تحفظ کے لیے تخریبی ایجنڈے کو فروغ دے رہے ہیں، جو منشیات، غیر قانونی ایرانی تیل اور افغان ٹرانزٹ تجارت جیسے غیرقانونی کاموں میں ملوث مجرمانہ مافیا کی سرپرستی کرتے ہیں۔
غیر قانونی سرگرمیاں اور اقدامات
1960 کی دہائی میں قائم ہونے والے راہداری نظام کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے یہ عناصر غیرقانونی سرگرمیوں میں ملوث ہو گئے، جس کی آڑ میں انہوں نے منشیات اور اسلحے کی اسمگلنگ سمیت ٹیکس چوری جیسے مالی جرائم کو منظم کیا۔ صحت، تعلیم اور روزگار فراہم کرنے والی ترقی کی ان عناصر نے ہمیشہ مخالفت کی ہے، کیونکہ یہ ان کے مجرمانہ اقتصادی مفادات کے لیے خطرہ ہے اور تعلیم یافتہ اور بااختیار عوام ان کے اثر و رسوخ کو کمزور کرتی ہے۔
دہشت گرد تنظیموں کا کردار اور ریاستی پالیسیاں
بی ایل اے اور دیگر دہشت گرد تنظیمیں درحقیقت انہی مجرمانہ عناصر کی مسلح شاخیں ہیں، جو ریاستی اداروں کے خلاف کاروائیوں کے ذریعے غیرقانونی تجارت کے راستے کھولے رکھتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ عناصر صوبے میں کسی بھی سرمایہ کاری کی مخالفت کرتے ہیں، کیونکہ ترقی کے مواقع عوام کو ان کے اثر و رسوخ سے آزاد کر سکتے ہیں اور سی پیک جیسے منصوبوں کی انہوں نے ہمیشہ مخالفت کی ہے۔ تاہم، ریاست کی صفر رواداری کی پالیسی کے نتیجے میں دہشت گردوں کے مفادات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جیسا کہ ایرانی ڈیزل کی اسمگلنگ 20 ملین لیٹر سے کم ہوکر صرف 1 ملین لیٹر روزانہ رہ گئی ہے۔
دہشت گردوں کی حکمت عملی اور بیرونی مداخلت
یہ عناصر دوہری حکمت عملی اپناتے ہیں: ایک طرف مسلح کاروائیاں، دوسری طرف پروپیگنڈہ جنگ، جس کے تحت وہ نوجوانوں اور ادبی حلقوں کو نشانہ بنا کر ریاست مخالف بیانیہ تیار کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں بھارت اور افغانستان کھلے عام ان عناصر کی حمایت کرتے ہیں، جہاں بھارت کی را بلوچستان میں عدم استحکام پیدا کرنے کے لیے مالی وسائل اور تربیت فراہم کرتی ہے۔ تاہم، دہشت گردانہ کارروائیوں کے باوجود یہ عناصر کسی بھی علاقے پر طویل عرصے تک قبضہ برقرار نہیں رکھ سکے، جو درحقیقت ان کی کمزوری کی علامت ہے۔
بلوچستان کی آبادیاتی اور تاریخی حقائق
بلوچستان میں 40 فیصد بلوچ، 30 فیصد پشتون، 17 فیصد بروہی اور 13 فیصد دیگر کمیونٹیز رہائش پذیر ہیں، یہ تنوع صوبے کی طاقت ہے اور مختلف ثقافتوں کا حسین امتزاج پیش کرتا ہے۔ ایک اہم حقیقت یہ ہے کہ بلوچستان سے زیادہ بلوچ آبادی جنوبی پنجاب اور شمالی سندھ میں رہتی ہے، جو اس بات کی دلیل ہے کہ بلوچ قوم پورے پاکستان میں پھیلی ہوئی ہے اور بلوچستان کی آزادی کا دعویٰ محض سازشی پروپیگنڈا ہے۔ 1947 سے بلوچستان میں ہونے والی ترقی محرومی کے بیانیے کی تردید کرتی ہے، جہاں بنیادی ڈھانچے، تعلیم، صحت اور روزگار کے شعبوں میں مسلسل بہتری آ رہی ہے۔
مستقبل کے امکانات
ریاستی ادارے بلوچستان میں امن و استحکام کے لیے پرعزم ہیں، جہاں سی پیک منصوبے صوبے کی معیشت کو نئی راہیں دکھا رہے ہیں اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کیے جا رہے ہیں۔ بلوچستان پاکستان کا اٹوٹ حصہ ہے اور صوبے کی ترقی پورے ملک کی ترقی سے جڑی ہوئی ہے۔ ریاستی ادارے دہشت گردوں کی مکمل بیخ کنی تک جنگ جاری رکھیں گے اور بلوچستان ترقی کی نئی منازل طے کرتا رہے گا، جبکہ صوبے کا ہر شہری پاکستان کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
دیکھیے: افغان عہدیدار کے سوشل میڈیا بیانات میں بی ایل اے کی حمایت، پاکستان کے شدید تحفظات