سکیورٹی فورسز نے خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں دہشت گردوں کی موجودگی کی خفیہ اطلاع پر ایک مؤثر انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا ہے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آپریشن کے دوران فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس کے نتیجے میں بھارتی سرپرستی میں کام کرنے والے ‘فتنہ الخوارج’ سے تعلق رکھنے والے دو دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے۔
انتہائی مطلوب دہشت گرد
آئی ایس پی آر کے اعلامیے کے مطابق، ہلاک ہونے والوں میں فتنہ الخوارج کا اہم رنگ لیڈر وحید اللہ عرف مختار اور ایک خودکش بمبار شامل ہے۔ ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے خودکش جیکٹ، بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود برآمد ہوا ہے۔ ترجمان نے بتایا کہ وحید اللہ سیکیورٹی فورسز اور معصوم شہریوں پر متعدد حملوں میں ملوث اور ریاست کو انتہائی مطلوب تھا۔
بڑی تباہی کا منصوبہ ناکام
تحقیقاتی ذرائع کے مطابق ہلاک دہشت گرد وحید اللہ 21 فروری 2026 کو بنوں میں ہونے والے اس بزدلانہ خودکش حملے کا مرکزی سہولت کار تھا جس میں لیفٹیننٹ کرنل گل فراز نے جامِ شہادت نوش کیا تھا۔ آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ اس کامیاب کارروائی سے نہ صرف دہشت گردوں کے ایک بڑے نیٹ ورک کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا گیا ہے بلکہ بروقت کارروائی کے ذریعے ایک بڑی تباہی کا منصوبہ بھی ناکام بنا دیا گیا ہے۔
حکومتی ردِعمل اور خراجِ تحسین
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کامیاب آپریشن پر سکیورٹی فورسز کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ قوم کو اپنے بہادر سپوتوں پر فخر ہے جنہوں نے انتہائی مطلوب دہشت گردوں کا خاتمہ کر کے امن کی شمع روشن رکھی ہے۔ انہوں نے اعادہ کیا کہ پوری قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ علاقے میں دیگر ممکنہ دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے ‘سینی ٹائزیشن آپریشن’ تاحال جاری ہے۔