آسٹریلوی وزیرِ خارجہ پینی وانگ نے ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کی سہولت کاری میں پاکستان کے تعمیری کردار کی تعریف کرتے ہوئے سفارتی کوششوں کو سراہا ہے۔

April 20, 2026

مذاکرات کے حوالے سے آرمی چیف اور امریکی صدر کی گفتگو کی خبروں کو من گھڑت قرار دے دیا گیا ہے۔ پاکستان بدستور واحد ثالث کے طور پر مذاکرات کے اگلے دور کے لیے سرگرم ہے۔

April 20, 2026

بھارت کی جانب سے پہلگام واقعے کو بنیاد بنا کر ‘سندھ طاس معاہدہ’ کی یکطرفہ معطلی بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی اور غیر مصدقہ الزامات پر مبنی ہے۔

April 20, 2026

افغانستان کی اسلامی وحدت پارٹی کے سربراہ محمد محقق نے ڈیورنڈ لائن کو پاکستان اور افغانستان کے درمیان باضابطہ بین الاقوامی سرحد تسلیم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

April 20, 2026

ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پاکستان کو سفارتی عمل میں واحد باضابطہ ثالث قرار دیتے ہوئے خطے میں اسلام آباد کے کلیدی کردار کی تصدیق کی ہے۔

April 20, 2026

امریکی جریدے ‘دی ہل’ میں برہما چیلانی کے مضمون کو حقائق مسخ کرنے کی کوشش قرار دیتے ہوئے ماہرین نے ’نیوکلیئر اسلامزم‘ کے بیانیے اور ایٹمی عدم پھیلاؤ کے مغربی دوہرے معیار کو مسترد کر دیا ہے۔

April 20, 2026

نیو کلیئر اسلام ازم یا بھارت کا دوہرا معیار؟ بھارتی تجزیہ کار کے دعوے پر پاکستانی ماہرین کا سخت ردِعمل

امریکی جریدے ‘دی ہل’ میں برہما چیلانی کے مضمون کو حقائق مسخ کرنے کی کوشش قرار دیتے ہوئے ماہرین نے ’نیوکلیئر اسلامزم‘ کے بیانیے اور ایٹمی عدم پھیلاؤ کے مغربی دوہرے معیار کو مسترد کر دیا ہے۔
امریکی جریدے 'دی ہل' میں برہما چیلانی کے مضمون کو حقائق مسخ کرنے کی کوشش قرار دیتے ہوئے ماہرین نے ’نیوکلیئر اسلامزم‘ کے بیانیے اور ایٹمی عدم پھیلاؤ کے مغربی دوہرے معیار کو مسترد کر دیا ہے۔

جنوبی ایشیا کی جوہری سیاست پر برہما چیلانی کے مضمون کے ردِعمل میں ماہرین کا تجزیہ سامنے آیا ہے، جس میں بھارت کے عالمی نگرانی سے آزاد ایٹمی پروگرام اور 'ہندوتوا' سیاست کے اثرات کو خطے کے لیے اصل خطرہ قرار دیا گیا ہے۔

April 20, 2026

امریکی جریدے ‘دی ہل’ میں برہما چیلانی کے حالیہ مضمون کو حقائق چھپانے کی ایک ناکام کوشش قرار دیا جا رہا ہے، جس میں ’نیوکلیئر اسلامزم‘ جیسی متنازع اصطلاحات کے ذریعے پاکستان کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ ماہرینِ تعلیم اور دفاعی تجزیہ کاروں، بشمول ڈاکٹر ظاہر کاظمی نے اس بیانیے کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اس مخصوص اصطلاح کا مقصد جوہری ہتھیاروں کے حساس مسئلے کو سیکیورٹی پہلوؤں سے ہٹا کر مذہبی رنگ دینا ہے، جو کہ عالمی جوہری سیاست میں ایک جانبدارانہ رجحان ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق جنوبی ایشیا میں اصل مسئلہ ایٹمی عدم پھیلاؤ کا وہ ‘دوہرا معیار’ ہے جس کے تحت بھارت کو غیر معمولی رعایتیں دی جا رہی ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق جہاں پاکستان کے تمام سویلین ری ایکٹرز بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کی کڑی نگرانی میں ہیں، وہیں بھارت کے تقریباً ایک درجن ایٹمی ری ایکٹرز کسی بھی عالمی سیف گارڈز یا نگرانی کے دائرہ کار سے مکمل طور پر باہر ہیں۔

رپورٹس میں نشاندہی کی گئی ہے کہ بھارت کے پاس اس وقت 180 سے زائد ایٹمی وار ہیڈز موجود ہیں اور اس نے حال ہی میں 8,000 کلومیٹر تک مار کرنے والے ‘اگنی-5’ میزائل کا تجربہ کیا ہے، جو اس کی بڑھتی ہوئی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت کو دی جانے والی خصوصی امریکی رعایتیں اور اس کے ایٹمی پروگرام کا ‘ہندوتوا’ سیاست سے جڑنا خطے کے امن کے لیے اصل خطرہ ہے۔

تجزیے میں یہ انکشاف بھی کیا گیا ہے کہ اے کیو خان نیٹ ورک کے حوالے سے اکثر پاکستان پر تنقید کی جاتی ہے، مگر تحقیقاتی شواہد کے مطابق بھارت خود اس نیٹ ورک کا ‘چوتھا گاہک’ رہا ہے۔ ماہرین نے مطالبہ کیا ہے کہ ‘نیوکلر اسلامزم’ جیسے تہذیبی الزامات کے بجائے عالمی برادری کو بھارت کے غیر منظم ایٹمی پروگرام اور اس کے نظریاتی عزائم پر توجہ دینی چاہیے جو کہ جنوبی ایشیا کے اسٹریٹجک توازن کے لیے سنگین چیلنج ہیں۔

مزید برآں، فروری 2025 میں امریکہ نے بھارت کے ساتھ سول نیوکلیئر تعاون کو مزید وسعت دیتے ہوئے اسے جدید ری ایکٹر ٹیکنالوجی، فضائی دفاع اور آبدوزوں کی ٹیکنالوجی منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جو عالمی عدم پھیلاؤ کے اصولوں کے برعکس ہے۔

ڈاکٹر ظاہر کاظمی نے اس بات پر زور دیا کہ جوہری ہتھیار کسی مذہب کے نہیں بلکہ ریاستوں اور اداروں کے ہوتے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر جوہری پروگرام کو مذہب سے جوڑنا ہے تو پھر 1998 کے بھارتی تجربات اور ہندوتوا کی نظریاتی سیاست پر خاموشی کیوں اختیار کی جاتی ہے؟ تجزیے کے مطابق بھارت خود ماضی میں غیر قانونی جوہری نیٹ ورکس کا خریدار رہا ہے، مگر مغرب ہمیشہ پاکستان کو ہدف بناتا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ‘نیوکلر اسلامزم’ جیسے تہذیبی الزامات کو ختم کر کے جوہری پالیسیوں کو عالمی قوانین اور سیکیورٹی کے زمینی حقائق کی بنیاد پر پرکھا جانا چاہیے۔

متعلقہ مضامین

آسٹریلوی وزیرِ خارجہ پینی وانگ نے ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کی سہولت کاری میں پاکستان کے تعمیری کردار کی تعریف کرتے ہوئے سفارتی کوششوں کو سراہا ہے۔

April 20, 2026

مذاکرات کے حوالے سے آرمی چیف اور امریکی صدر کی گفتگو کی خبروں کو من گھڑت قرار دے دیا گیا ہے۔ پاکستان بدستور واحد ثالث کے طور پر مذاکرات کے اگلے دور کے لیے سرگرم ہے۔

April 20, 2026

بھارت کی جانب سے پہلگام واقعے کو بنیاد بنا کر ‘سندھ طاس معاہدہ’ کی یکطرفہ معطلی بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی اور غیر مصدقہ الزامات پر مبنی ہے۔

April 20, 2026

افغانستان کی اسلامی وحدت پارٹی کے سربراہ محمد محقق نے ڈیورنڈ لائن کو پاکستان اور افغانستان کے درمیان باضابطہ بین الاقوامی سرحد تسلیم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

April 20, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *