پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما بیرسٹر سلمان اکرم راجہ نے کہا ہے کہ بانی چیئرمین سے بطور وکیل ہدایات لینا ان کا آئینی اور قانونی حق ہے، جس سے انہیں محروم نہیں کیا جا سکتا۔
راولپنڈی میں بیرسٹر گوہر کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ آج انہیں بطور وکیل ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی، حالانکہ پارٹی کے متعدد مقدمات سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک شخص کے خلاف درجنوں مقدمات چلائے جائیں مگر اس کے وکلاء کو ملاقات کی اجازت نہ دی جائے۔
انہوں نے کہا کہ یہ مؤقف اختیار کرنا کہ بانی چیئرمین کی فیملی ملاقات کے بعد سیاسی گفتگو نہیں کرے گی، سراسر غیر آئینی ہے۔ ان کے بقول بانی پی ٹی آئی کا حق ہے کہ وہ اپنی فیملی سے ملاقات کریں اور بات کریں، اور فیملی کا بھی حق ہے کہ وہ ملاقات کے بعد حقائق سے آگاہ کرے۔ “کسی کو بات کرنے سے روکنا بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے،” انہوں نے کہا۔
طبی معائنے کے حوالے سے سلمان اکرم راجہ نے وضاحت کی کہ پارٹی نے معائنے میں شریک نہ ہو کر کوئی موقع ضائع نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر وہ شریک ہوتے تو اس عمل کو سیاسی طور پر استعمال کیا جا سکتا تھا۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ شفافیت کا تقاضا تھا کہ معائنے کے وقت فیملی ممبر یا ذاتی معالج کو موجود ہونے دیا جاتا۔ “ہم خانہ پُری کے لیے طبی معائنے میں شریک نہیں ہونا چاہتے تھے،” انہوں نے کہا۔
اس موقع پر بیرسٹر گوہر نے بھی بانی چیئرمین سے ملاقات نہ ہونے کو افسوسناک قرار دیا اور کہا کہ قانونی تقاضوں کے مطابق وکلاء کو رسائی ملنی چاہیے۔
بیرسٹر سلمان اکرم راجہ نے واضح کیا کہ پارٹی کی کوئی بیک ڈور بات چیت نہیں چل رہی۔ “جو بھی بات ہوگی فرنٹ ڈور سے ہوگی،” انہوں نے کہا، اور اس تاثر کو مسترد کیا کہ کسی خفیہ مفاہمت کی کوشش جاری ہے۔
دوسری جانب بیرسٹر سلمان اکرم راجہ نے خیبرپختونخوا حکومت کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ احتجاج کی سیاست کے نام پر اپنے ہی صوبے کو بند کرنا مناسب طرزِ عمل نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ “احتجاج_کی_سیاست کے تحت خود ہی صوبہ بند کر دینا مسائل کا حل نہیں، ایسے نہیں چلے گا۔”
انہوں نے زور دیا کہ سیاسی اور آئینی معاملات کو سنجیدگی اور قانونی دائرے میں رہتے ہوئے حل کیا جانا چاہیے تاکہ جمہوری عمل اور عوامی اعتماد کو نقصان نہ پہنچے۔