امریکی تھنک ٹینک کے مطابق مکہ دفاعی معاہدہ پاکستان کو یمن میں براہِ راست فوجی مداخلت کا پابند نہیں کرتا۔

September 25, 2026

عطا تارڑ نے پی ٹی آئی کو لانگ مارچ اور دھرنے کا چیلنج دے دیا۔ وفاقی وزیر نے تحریک انصاف پر مارچ سے پیچھے ہٹنے کا الزام عائد کیا۔

September 25, 2026

افغان طالبان کے دعوؤں کے برعکس عالمی رپورٹس نے افغانستان میں آئس کی وسیع پیمانے پر پیداوار اور بین الاقوامی اسمگلنگ کی تصدیق کر دی ہے۔

September 25, 2026

جب طالبہ کا خواب صرف اس لیے ادھورا رہ جائے کہ یونیورسٹی 400 کلومیٹر دور ہو۔۔۔ یہی کروڑوں پاکستانی طلبہ کا سچ ہے، اور اس کا حل نئے انتظامی یونٹس ہیں۔

September 25, 2026

تحریک انصاف نے عوامی حمایت کے فقدان اور حکومتی دباؤ کے سبب 27 ستمبر کا لانگ مارچ 5 اکتوبر تک مؤخر کر دیا ہے۔

September 25, 2026

حکام نے پی ٹی آئی کو کالعدم تنظیموں کی معاون اور انتشار پسند جماعت قرار دیتے ہوئے ریاست مخالف اقدامات پر سخت قانونی کارروائی کا اعلان کر دیا ہے۔

September 25, 2026

ڈیرہ اسماعیل خان میں 135 نایاب ڈولفنز کی موجودگی کا انکشاف

سندھ ڈولفن، جسے مقامی طور پر ‘بھلن’ کہا جاتا ہے، میٹھے پانی میں رہنے والا انتہائی نایاب اور منفرد جانور ہے، اسے ‘اندھی ڈولفن’ بھی کہا جاتا ہے کیونکہ یہ دیکھنے کے بجائے آواز کی لہروں کے ذریعے اپنا راستہ اور شکار تلاش کرتی ہے۔
ڈیرہ اسماعیل خان میں 135 نایاب ڈولفنز کی موجودگی کا انکشاف

موجودہ دور میں اس کی سب سے بڑی اور اہم آبادی گڈو بیراج سے سکھر بیراج کے درمیان پائی جاتی ہے۔

March 5, 2026

وائلڈ لائف ڈیرہ اسماعیل خان نے پہلی بار جدید جغرافیک انفارمیشن سسٹم کے تحت دریائے سندھ میں نایاب انڈس ڈولفن کا خصوصی سروے کیا ہے، جس کے مطابق چشمہ بیراج سے رمک تک کے علاقے میں 135 ڈولفنز کی موجودگی کی تصدیق کی گئی ہے۔

مقامی انچارج خان ملوک کے مطابق ڈولفن کی تعداد میں اضافہ خوش آئند پیش رفت ہے، جو مسلسل تحفظاتی اقدامات کا نتیجہ ہے۔

2001ء میں ان کی تعداد تشویشناک حد تک کم ہو کر تقریباً 1200 رہ گئی تھی، تاہم 2017ء تک یہ آبادی بڑھ کر 1800 ہوئی اور ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے مطابق 2025ء تک پاکستان میں انڈس ڈولفن کی مجموعی تعداد 2000 سے تجاوز کر چکی ہے۔

سندھ ڈولفن، جسے مقامی طور پر ‘بھلن’ کہا جاتا ہے، میٹھے پانی میں رہنے والا انتہائی نایاب اور منفرد جانور ہے، اسے ‘اندھی ڈولفن’ بھی کہا جاتا ہے کیونکہ یہ دیکھنے کے بجائے آواز کی لہروں کے ذریعے اپنا راستہ اور شکار تلاش کرتی ہے۔ ماہرین کے مطابق ماضی میں یہ ڈولفن دریائے سندھ کے 3400 کلومیٹر طویل حصے میں پھیلی ہوئی تھی، مگر بیراجوں اور ڈیموں کی تعمیر کے باعث اس کا قدرتی مسکن اب صرف 690 کلومیٹر کے علاقے تک محدود ہو چکا ہے۔

موجودہ دور میں اس کی سب سے بڑی اور اہم آبادی گڈو بیراج سے سکھر بیراج کے درمیان پائی جاتی ہے۔

اس نایاب نسل کو انسان کے پیدا کیے گئے کئی سنگین خطرات کا سامنا ہے، ان خطرات کے پیشِ نظر گڈو اور سکھر بیراج کے درمیان کے علاقے کو ‘انڈس ڈولفن گیم ریزرو’ قرار دیا گیا ہے، جہاں خصوصی نگرانی کی جاتی ہے اور نہروں میں پھنس جانے والی ڈولفنز کو ریسکیو ٹیموں کے ذریعے دوبارہ دریا کے محفوظ حصوں میں منتقل کیا جاتا ہے۔

دیکھیے: خیبر پختونخوا کے زرعی تحقیقاتی ادارے نے چاول کی نئی قسم تیار کر لی

متعلقہ مضامین

امریکی تھنک ٹینک کے مطابق مکہ دفاعی معاہدہ پاکستان کو یمن میں براہِ راست فوجی مداخلت کا پابند نہیں کرتا۔

September 25, 2026

عطا تارڑ نے پی ٹی آئی کو لانگ مارچ اور دھرنے کا چیلنج دے دیا۔ وفاقی وزیر نے تحریک انصاف پر مارچ سے پیچھے ہٹنے کا الزام عائد کیا۔

September 25, 2026

افغان طالبان کے دعوؤں کے برعکس عالمی رپورٹس نے افغانستان میں آئس کی وسیع پیمانے پر پیداوار اور بین الاقوامی اسمگلنگ کی تصدیق کر دی ہے۔

September 25, 2026

جب طالبہ کا خواب صرف اس لیے ادھورا رہ جائے کہ یونیورسٹی 400 کلومیٹر دور ہو۔۔۔ یہی کروڑوں پاکستانی طلبہ کا سچ ہے، اور اس کا حل نئے انتظامی یونٹس ہیں۔

September 25, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *