اٹک: ضلع کوہاٹ اور اٹک کے بین الصوبائی سرحدی علاقے جنڈ کے قریب ایک ریٹائرڈ ریلوے ملازم نے اپنی جان کا نذرانہ پیش کر کے انسانیت کی اعلیٰ مثال قائم کر دی ہے۔ ضلع اٹک کی تحصیل جنڈ کے گاؤں منکور کے رہائشی لیاقت نے ایک مشتبہ خودکش حملہ آور کا راستہ روک کر نہ صرف ایک حساس چیک پوسٹ بلکہ اردگرد موجود درجنوں قیمتی جانوں کو ایک بڑی تباہی سے بچا لیا ہے۔ اس بہادرانہ کارروائی نے دہشت گردوں کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق، منکور کے قریب کھیتوں کے راستے ایک مشتبہ شخص (خارجی دہشت گرد) آبادی کی طرف بڑھ رہا تھا، جسے دیکھ کر لیاقت نے ہمت دکھائی اور اسے روک کر شناخت پوچھنے کی کوشش کی۔ شہری کی اچانک مداخلت پر خودکش حملہ آور بوکھلاہٹ کا شکار ہو گیا اور اس نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔ اس افسوسناک واقعے کے نتیجے میں لیاقت موقع پر ہی شہید ہو گئے، جبکہ حملہ آور خارجی بھی اپنے انجام کو پہنچ کر جہنم واصل ہو گیا۔ شہید لیاقت پاکستان ریلویز سے ریٹائرڈ ملازم تھے اور ان کی اس بروقت بہادری نے دشمن کے بڑے جانی نقصان کے منصوبے کو ناکام بنا دیا۔
ابتدائی اطلاعات اور سکیورٹی ذرائع کے مطابق، دہشت گرد کا اصل ہدف بین الصوبائی علاقے میں واقع ایک حساس چیک پوسٹ تھی جہاں بڑی تعداد میں سکیورٹی اہلکار موجود ہوتے ہیں۔ شہید لیاقت نے سیسہ پلائی دیوار بن کر دہشت گرد کا راستہ روکا اور ثابت کیا کہ پاکستان کے عوام دہشت گردی کے خلاف افواجِ پاکستان اور پولیس کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ علاقہ مکینوں اور حکام نے شہید کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی یہ قربانی تاریخ میں سنہری حروف سے لکھی جائے گی۔
سکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ اس بات کی واضح عکاسی کرتا ہے کہ افغان طالبان کی سرپرستی میں خوارج گروہ پاکستانی شہریوں اور سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانے کی مذموم کوششیں کر رہے ہیں۔ تاہم، افواجِ پاکستان، پولیس اور محبِ وطن عوام ان کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بنے ہوئے ہیں۔ قوم شہید لیاقت کی اس عظیم قربانی کو کبھی فراموش نہیں کرے گی، وہ بلاشبہ پاکستان کا فخر اور ایک عظیم اثاثہ ہیں۔ ان کی جرات نے یہ پیغام دیا ہے کہ دہشت گردی کی بزدلانہ کارروائیاں پاکستانی قوم کے حوصلے پست نہیں کر سکتیں۔