دہشت گرد تنظیم فتنہ الہندوستان بی آر جی نے 9، 11 اور 12 اگست 2026 کو کچھی، شکارپور اور نصیرآباد کے علاقے چھتر میں زرعی دفتر اور بجلی کی ترسیلی تنصیبات پر ہونے والے حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ ان کارروائیوں نے ثابت کر دیا ہے کہ مذکورہ کالعدم گروہ کا واحد مقصد عوامی سہولیات کو تباہ کرنا اور علاقے کی معاشی پیش رفت کو روکنا ہے۔
زرعی دفاتراور پاور انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے سے مقامی کاشتکاروں کا روزگار اور زرعی سرگرمیاں شدید متاثر ہوئی ہیں۔ بجلی کی ترسیلی لائنوں کی تباہی سے نہ صرف عام گھریلو صارفین بلکہ مقامی صنعتیں، کاروباری مراکز اور زراعت کو بجلی کی فراہمی میں شدید مشکلات کا سامنا ہے، جس کا براہِ راست اثر عام شہریوں کی زندگی پر پڑ رہا ہے۔
سبوتاژ کی کوشش
سیکیورٹی اور معاشی ماہرین کے مطابق بلوچستان اور سندھ کے سرحدی اضلاع میں بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچانا خوف و ہراس پھیلانے کی ایک منظم سازش ہے۔ فتنہ الہندوستان بی آر جی ان تخریبی کارروائیوں سے عوام کو ترقی کے ثمرات سے محروم رکھنا چاہتی ہے، جس کی بھاری قیمت مقامی آبادی کو روزگار کے نقصان کی صورت میں ادا کرنا پڑ رہی ہے۔
ریاستی عزم
ترقیاتی ماہرین اور انتظامی حکام کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کی تخریبی کارروائیاں ملک کی پیش رفت اور ترقی کا سفر نہیں روک سکتیں۔ ریاستی ادارے اور عوام یکجا ہو کر تمام اہم انفراسٹرکچر کی حفاظت، امن و امان کے قیام اور خطے میں پائیدار معاشی استوار کے لیے پرعزم ہیں۔