جنگِ ستمبر کے 16ویں روز بھارتی فوج کا جانی نقصان 6889 تک پہنچ گیا، جبکہ مختلف محاذوں پر بھارتی ٹینک، فوجی گاڑیاں اور طیارے تباہ کیے گئے۔

September 16, 2026

امریکی ایوان نے بھارت سمیت روسی تیل خریدنے والے ممالک پر 100 فیصد تک ٹیرف کی اجازت دینے والے بل کو آگے بڑھا دیا، حتمی منظوری ابھی باقی ہے۔

September 16, 2026

ایک قیدی کو علاج کی خصوصی سہولت ملنے کے بعد سوال اٹھ گیا کہ کیا یہی حق ملک کے دیگر قیدیوں کو بھی حاصل ہوگا؟

September 16, 2026

نئی دہلی برکس اجلاس میں متعدد تجاویز سامنے آئیں، تاہم بڑے معاشی اور اسٹریٹجک اہداف پر عملی پیش رفت محدود رہی۔

September 16, 2026

مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے کسی رکن پر حملے کی صورت میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ مشترکہ طور پر ردعمل کا فیصلہ کریں گے، ڈی جی آئی ایس پی آر۔

September 16, 2026

برکس اجلاس میں روسی صدر کے خطاب کے دوران اجیت دوول کی وائرل ویڈیو نے سفارتی آداب اور عالمی فورمز کے پروٹوکول پر بحث چھیڑ دی۔

September 15, 2026

برکس اجلاس: بھارت کا بڑا دعویٰ، عملی نتائج کہاں گئے؟

نئی دہلی برکس اجلاس میں متعدد تجاویز سامنے آئیں، تاہم بڑے معاشی اور اسٹریٹجک اہداف پر عملی پیش رفت محدود رہی۔
برکس اجلاس: بھارت کی سفارتی کامیابی، عملی نتائج محدود

بھارت کی میزبانی میں برکس اجلاس میں مالی تعاون، مقامی کرنسیوں اور اے آئی سمیت کئی امور پر بات ہوئی، مگر تنظیم کے اندر بنیادی اختلافات برقرار رہے۔

September 16, 2026

نئی دہلی میں ہونے والے 18ویں برکس سربراہی اجلاس میں بڑے دعووں اور متعدد تجاویز کے باوجود کوئی ایسا بڑا بریک تھرو سامنے نہیں آیا جسے تنظیم کی واضح اسٹریٹجک کامیابی قرار دیا جاسکے۔

بھارت نے اجلاس کی میزبانی ایسے وقت میں کی جب نئی دہلی گلوبل ساؤتھ میں اپنے سفارتی کردار کو نمایاں کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ تاہم اجلاس نے یہ بھی ظاہر کیا کہ برکس کے مستقبل اور اس کے اسٹریٹجک کردار پر رکن ممالک کے درمیان اب بھی مکمل اتفاق رائے موجود نہیں۔

برکس کی صدارت رکن ممالک کے درمیان ہر کیلنڈر سال میں تبدیل ہوتی ہے۔ بھارت کے بعد چین 2027 میں تنظیم کی صدارت سنبھالے گا۔

عملی پیش رفت محدود

اجلاس میں ادائیگیوں کے نظام، مقامی کرنسیوں میں تجارت اور مالی تعاون پر تفصیلی بات ہوئی۔ تاہم ان میں سے بیشتر معاملات اب بھی مطالعات، مذاکرات اور مستقبل کے منصوبوں کے مرحلے میں ہیں۔

مشترکہ برکس کرنسی کا معاملہ بھی عملی شکل اختیار نہیں کرسکا۔ بھارت ڈالر پر انحصار کم کرنے کے لیے مقامی کرنسیوں میں لین دین کو ترجیح دیتا ہے۔ اس کے برعکس روس ڈی ڈالرائزیشن کو زیادہ آگے بڑھانے کا حامی ہے۔

بھارت چین کی قیادت میں کسی مالیاتی نظام کے حوالے سے محتاط ہے۔ تاہم نئی دہلی کی جانب سے اس کے مقابلے میں کوئی واضح متبادل مالیاتی تصور بھی سامنے نہیں آسکا۔

برکس کے اندر اختلافات برقرار

اجلاس کے باوجود برکس کے بنیادی اختلافات ختم نہیں ہوئے۔ رکن ممالک کے معاشی اور جغرافیائی سیاسی مفادات مختلف ہیں۔

بھارت اور برازیل کے بعض تصورات چین اور روس کی ترجیحات سے مختلف ہیں۔ دوسری جانب بھارت اور چین کے درمیان اسٹریٹجک مسابقت بھی برکس کے اندر زیادہ گہری معاشی اور ادارہ جاتی شمولیت کی راہ میں رکاوٹ ہے۔

مشرق وسطیٰ بھی اتفاق رائے کے لیے ایک پیچیدہ معاملہ ہے۔ ایران اور خلیجی ممالک، خصوصاً متحدہ عرب امارات، کے علاقائی مفادات ہر معاملے پر یکساں نہیں۔

یوں بھارت کے لیے مختلف ممالک کو ایک صفحے پر رکھنا اہم سفارتی کامیابی ضرور ہے، لیکن اختلافات کو سنبھالنا اور مشترکہ اسٹریٹجک سمت طے کرنا دو الگ معاملات ہیں۔

چین کے منصوبے زیادہ نمایاں

اجلاس میں چین کی جانب سے مصنوعی ذہانت، اقتصادی زونز، سپلائی چینز اور معاشی انضمام سے متعلق نسبتاً زیادہ وسیع تجاویز سامنے آئیں۔

اس کے مقابلے میں بھارت کی میزبانی کے دوران سفارتی ہم آہنگی برقرار رکھنے پر زیادہ توجہ نظر آئی۔ تاہم برکس کو مستقبل میں کس سمت لے جانا ہے، اس حوالے سے بھارت کا واضح ادارہ جاتی تصور نمایاں نہیں ہوسکا۔

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے گلوبل ساؤتھ میں بھارت کی قیادت اور سفارتی کردار کو نمایاں کیا۔ تاہم اجلاس کے نتائج نے یہ سوال برقرار رکھا کہ اس سفارتی دعوے کو برکس کے اندر بڑے ادارہ جاتی اثر و رسوخ میں کس حد تک تبدیل کیا جاسکا ہے۔

نتائج محدود

نئی دہلی اجلاس میں ملاقاتوں، تجاویز، کمیٹیوں اور مستقبل کے منصوبوں کی تعداد زیادہ رہی۔ تاہم فوری طور پر نافذ ہونے والے بڑے اقدامات محدود رہے۔

نیو ڈیولپمنٹ بینک کے کردار، مالی تعاون اور اقتصادی منصوبوں پر بھی بات ہوئی۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اصلاحات اور ترقی پذیر ممالک کی نمائندگی کے مطالبے کو بھی حمایت ملی۔ تاہم اس معاملے پر کوئی نیا واضح روڈ میپ سامنے نہیں آیا۔

اسی طرح برکس کی کمزور معاشی یکجہتی، رکنیت سے متعلق غیر واضح معاملات اور نیو ڈیولپمنٹ بینک کے محدود کردار جیسے پرانے سوالات بھی اپنی جگہ موجود ہیں۔

اصل سوال عمل درآمد کا

بھارت نے مختلف مفادات رکھنے والے ممالک کو مشترکہ اعلامیے پر متفق رکھنے میں کامیابی حاصل کی۔ تاہم یہ سفارتی ہم آہنگی اسٹریٹجک یکجہتی کے برابر نہیں۔

بھارت ایک طرف مغربی ممالک کے ساتھ مضبوط تعلقات برقرار رکھنا چاہتا ہے اور دوسری طرف خود کو برکس کی بڑی طاقت اور گلوبل ساؤتھ کی اہم آواز کے طور پر پیش کرتا ہے۔ یہ توازن نئی دہلی کے لیے مسلسل چیلنج بن سکتا ہے۔

مجموعی طور پر نئی دہلی اجلاس میں کئی تجاویز اور مستقبل کے منصوبے سامنے آئے، لیکن بڑے اور فوری عملی نتائج محدود رہے۔ اب توجہ 2027 میں چین کی صدارت پر ہوگی کہ موجودہ منصوبوں اور اعلانات کو کس حد تک عملی اقدامات اور زیادہ مربوط اسٹریٹجک سمت میں تبدیل کیا جاتا ہے۔

متعلقہ مضامین

جنگِ ستمبر کے 16ویں روز بھارتی فوج کا جانی نقصان 6889 تک پہنچ گیا، جبکہ مختلف محاذوں پر بھارتی ٹینک، فوجی گاڑیاں اور طیارے تباہ کیے گئے۔

September 16, 2026

امریکی ایوان نے بھارت سمیت روسی تیل خریدنے والے ممالک پر 100 فیصد تک ٹیرف کی اجازت دینے والے بل کو آگے بڑھا دیا، حتمی منظوری ابھی باقی ہے۔

September 16, 2026

ایک قیدی کو علاج کی خصوصی سہولت ملنے کے بعد سوال اٹھ گیا کہ کیا یہی حق ملک کے دیگر قیدیوں کو بھی حاصل ہوگا؟

September 16, 2026

مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے کسی رکن پر حملے کی صورت میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ مشترکہ طور پر ردعمل کا فیصلہ کریں گے، ڈی جی آئی ایس پی آر۔

September 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *