سپریم کورٹ کے ایک قیدی کو علاج کے حوالے سے دیے گئے حکم کے بعد وہ اہم قانونی سوال دوبارہ سامنے آگیا ہے جس کی نشاندہی قانونی ماہرین فیصلے کے فوراً بعد کر چکے تھے۔ سوال یہ ہے کہ جیل میں موجود کسی قیدی کو علاج کی سہولت جیل قوانین اور آئینی حدود کے تحت ملے گی یا وہ اپنی پسند کے ہسپتال اور معالج سے علاج کا مطالبہ کرسکتا ہے۔
دنیا بھر میں قیدیوں کے علاج کے لیے باقاعدہ قانونی اور انتظامی طریقۂ کار موجود ہے۔ پاکستان میں بھی جیل قوانین کے تحت قیدیوں کو طبی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔ تاہم کسی ایک قیدی کے لیے غیر معمولی سہولت کا معاملہ اب مساوات کے آئینی اصول کے تناظر میں نئے سوالات پیدا کر رہا ہے۔
آرٹیکل 25؟
آئین پاکستان کا آرٹیکل 25 قانون کے سامنے مساوات کا اصول بیان کرتا ہے۔ اسی بنیاد پر یہ سوال سامنے آیا کہ اگر ایک قیدی کو اپنی پسند کے ہسپتال یا معالج سے علاج کی خصوصی سہولت دی جاتی ہے تو پھر یہی حق دوسرے قیدیوں کو کس بنیاد پر نہیں ملے گا۔
قانونی ماہرین کے مطابق ایک قیدی کو ایسی سہولت ملنے کے بعد دیگر قیدی بھی مساوی سلوک کا حوالہ دے کر اسی نوعیت کی سہولت کا مطالبہ کرسکتے ہیں۔
یہ صورتحال جیل انتظامیہ کے لیے بھی ایک بڑا قانونی اور انتظامی سوال پیدا کرسکتی ہے۔ اگر ایک قیدی کے لیے خصوصی معیار طے ہوتا ہے تو دوسرے قیدی بھی اسی معیار کو اپنے معاملات پر لاگو کرنے کا مطالبہ کرسکتے ہیں۔
حکومت کا عدالت سے رجوع
فیصلے کے بعد حکومت نے اس معاملے پر دوبارہ غور کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔ حکومت کی درخواست کا بنیادی مقصد ایسا اصول وضع کرانا تھا جو تمام قیدیوں پر یکساں طور پر لاگو ہوسکے۔
تاہم عدالت کے سامنے اٹھنے والے بنیادی آئینی سوال پر کوئی ایسا جامع اصول سامنے نہیں آیا جس سے مستقبل میں اسی نوعیت کے معاملات کے لیے واضح معیار طے ہوجاتا۔
یوں علاج کی ایک مخصوص سہولت کا معاملہ اب وسیع تر قانونی اور انتظامی بحث میں تبدیل ہوگیا ہے۔
اب دوسرے قیدی بھی
اگر دیگر قیدی بھی اسی عدالتی حکم کو بنیاد بنا کر اپنے علاج کے لیے خصوصی سہولت کا مطالبہ عدالتوں کے سامنے لے کر آتے ہیں تو معاملہ محض انتظامیہ کے فیصلے تک محدود نہیں رہے گا۔
ایسی درخواستوں کی بنیاد سابقہ عدالتی حکم اور اس سے پیدا ہونے والا مساوات کا آئینی سوال ہوگا۔ اس لیے آئینی عدالت کے سامنے آنے والے معاملات میں یہ پہلو اہم ہوسکتا ہے کہ ایک قیدی کے لیے دی گئی سہولت کے قانونی اثرات دیگر قیدیوں کے حقوق پر کس حد تک مرتب ہوتے ہیں۔
اصل سوال یہ ہے کہ قیدیوں کے علاج کی سہولت قانون، جیل قواعد اور آئینی اصولوں کے تحت کس حد تک دی جاسکتی ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی طے ہونا ہے کہ کسی مخصوص قیدی کے لیے دی گئی غیر معمولی سہولت کو دیگر قیدیوں کے معاملے میں کس قانونی معیار کے تحت دیکھا جائے گا۔
اگر قانون سب کے لیے برابر ہے تو ایک فرد کے لیے قائم ہونے والی عدالتی نظیر کے اثرات بھی اسی مساوات کے اصول کے تحت دیکھنا ہوں گے۔ یہی معاملہ اب جیل انتظامیہ، حکومت اور عدالتوں کے سامنے ایک اہم قانونی سوال کے طور پر موجود ہے۔
دیکھیے: عوامی نعروں سے اشرافیہ کلچر تک: عمران خان پر اشرافیہ کلچر کے فروغ پر شدید تنقید