بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) کی جانب سے لاپتا افراد کے نام پر چلایا جانے والا مبینہ ڈراما ایک بار پھر دستاویزی حقائق کے ساتھ بے نقاب ہو گیا ہے۔ ماضی کی طرح اس بار بھی بی وائی سی کے دھرنوں اور مہم جوئی میں جس شخص کو جبری گمشدہ قرار دے کر الزام ریاست پر لگایا جا رہا تھا، وہ کالعدم تنظیم کا دہشت گرد نکلا جو سکیورٹی فورسز کے خلاف کارروائی کے دوران ہلاک ہو چکا ہے۔
ذرائع کے مطابق عادل نامی شخص کو بلوچ یکجہتی کمیٹی کی جانب سے 09 نومبر 2024 کو جبری گمشدہ شخص کے طور پر پیش کیا گیا تھا اور اس سلسلے میں منعقدہ دھرنوں میں ریاست اور سیکیورٹی اداروں کے خلاف شدید پروپیگنڈا کیا گیا۔
تاہم اب یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہو چکی ہے کہ عادل نے سال 2024 میں ہی کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) میں شمولیت اختیار کر لی تھی، جس کا اعتراف خود کالعدم تنظیم کی جانب سے بھی کیا گیا ہے۔
دستیاب معلومات کے مطابق مبینہ دہشت گرد عادل رواں سال 16 فروری 2026 کو بلوچستان کے علاقے آواران میں تخریب کارانہ کاروائیوں میں مصروف تھا کہ سکیورٹی فورسز کے ساتھ مقابلے میں ہلاک ہو گیا۔ عادل کی ہلاکت اور اس کے کالعدم نیٹ ورک سے تعلق کے ٹھوس شواہد سامنے آنے کے بعد بی وائی سی کی جانب سے لاپتا افراد کی آڑ میں کی جانے والی مہم جوئی کا اصل چہرہ سامنے آ گیا ہے۔
مبصرین کے مطابق یہ صورتحال واضح کرتی ہے کہ بی وائی سی مبینہ طور پر بیرونی اور ریاست مخالف عناصر کی پراکسی کے طور پر کام کر رہی ہے، جس کا مقصد بلوچ نوجوانوں کو گمراہ کر کے ریاست کے خلاف صف آرا کرنا ہے۔