سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو سچ کا معجزہ نے بھارت کی خفیہ منصوبہ بندی اور پاکستان کے عبرتناک دفاعی جواب کی مکمل عکاسی پیش کر دی ہے، جس میں دشمن کی پسپائی کو واضح طور پر دکھایا گیا ہے۔
چارسدہ میں جمیعت علمائے اسلام سے وابستہ ممتاز عالمِ دین شیخ محمد ادریس کو نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے شہید کر دیا، جس کی ذمہ داری داعش نے قبول کر لی ہے۔
منظور پشتین کی ویڈیو میں ریاست پر الزامات اور متوازی نظام کی تجویز نے سوالات اٹھا دیے ہیں، جبکہ ریاستی مؤقف کے مطابق اقدامات دہشت گردی کے خاتمے کے لیے تھے۔
افغانستان میں لباس کی بنیاد پر خواتین پر تشدد اور گرفتاریوں نے انسانی حقوق کے اصولوں پر سوالات اٹھا دیے ہیں اور معاشرے میں خوف اور دوری کو بڑھا دیا ہے۔
مولانا صاحب کے قتل میں وہی ہاتھ ملوث ہیں جنہوں نے پہلے ان کے خلاف سوشل میڈیا پر مذاق اڑایا اور گالم گلوچ کی۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسے لوگ بعد میں خود کو بری الذمہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
طالبان رہنما قاری سعید خوستی کے بیان نے افغان سرزمین پر دہشت گردوں کی موجودگی اور طالبان کے دوہرے معیار پر ایک بار پھر سوالات اٹھا دیے ہیں، جہاں ذمہ داری کے بجائے الزامات کا سہارا لیا گیا۔
یہ رپورٹ سکھ علیحدگی پسند تحریک، بھارتی ریاستی پالیسیوں اور کینیڈا و امریکا میں بڑھتی سفارتی کشیدگی کے تناظر میں ایک سنگین عالمی مسئلے کو بے نقاب کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان سے آئے تمام علماء صرف شرکت کے لیے نہیں بلکہ پاکستان کے عوام کی جانب سے اخوت، محبت اور یکجہتی کا پیغام لے کر بنگلادیش پہنچے ہیں۔
نگران وزیرِاعظم پروفیسر محمد یونس نے کہا ہے کہ بنگلہ دیش اس وقت ایک نازک دور سے گزر رہا ہے، اس لیے حکومت منصفانہ ریفرنڈم اور پارلیمانی انتخابات کو یقینی بنائے گی