دہشتگردی صرف سکیورٹی کا مسئلہ نہیں بلکہ اس کے پیچھے معاشی مشکلات، کمزور ادارے اور سماجی عوامل بھی کارفرما ہوتے ہیں، اس لیے اس کے خاتمے کیلئے جامع حکمت عملی درکار ہے۔
انہیں اس سے کوئی غرض نہیں کہ مسلم دنیا کی واحد ایٹمی طاقت کو اندرونی خلفشار سے دوچار کر دینا کتنا بڑا جرم ہو گا۔ ان کی محبت عقیدت کا گھنٹہ گھر ایک شخص ہے ۔ اس کے علاوہ جو بھی ہے ان کی جانے بلا۔
آرمی چیف نے ایران کے حوالے سے گفتگو میں واضح کیا کہ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو ایران کے ساتھ کھڑے ہیں اور خطے میں جنگی کشیدگی کم کرنے کیلئے کردار ادا کر رہا ہے
امریکہ کے وزیر مشیر برائے عوامی سفارت کاری اینڈی ہیلس نے کہا ہے کہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات اس وقت اپنی تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہیں اور دونوں ممالک کی قیادت کے درمیان مضبوط اور دوستانہ روابط قائم ہیں
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ مینارِ پاکستان برصغیر کے مسلمانوں کی آزادی، خودمختاری اور دو قومی نظریے کی علامت ہے، اور اس کا تحفہ دیا جانا پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان باہمی احترام، مفاہمت اور تعلقات میں بہتری کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ بھارتی وفد پوری تیاری اور منصوبہ بندی کے تحت وہاں آیا تھا۔ جیسے ہی بس جنازہ گاہ پہنچی، تو بھارتی ہائی کمشنر بس کے دروازے پر کھڑے ہو گئے، اور جب میں نیچے اترنے لگا تو بولے کہ آپ مت جائیں نیچے رش ہے اور آپ کو خطرہ ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے اسٹریٹجک ڈائیلاگ کے ساتویں دور میں دوطرفہ تعلقات اور تعاون کے مختلف شعبوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اسٹریٹجک و سیاسی تعاون، دفاع،معیشت،تجارت، سرمایہ کاری، ثقافتی روابط پر بھی بات ہوئی۔ فریقین نے اسٹریٹجک روابط مزید مضبوط بنانے اور باہمی اعتماد کے فروغ پراتفاق کرلیا۔
امریکی چارج ڈی افیئرز نیٹلی بیکر نے کہا ہے کہ 2025 میں پاک امریکہ تعلقات مضبوط ہوئے، امریکی سرمایہ کاری سے ہزاروں ملازمتیں پیدا ہوئیں، غذائی تحفظ بہتر ہوا اور سیلاب متاثرین کو فوری امداد فراہم کی گئی
ماہرین کے مطابق اگر دونوں ممالک اسی جذبے کے ساتھ رابطے اور تعاون کو آگے بڑھاتے رہے تو نہ صرف باہمی تعلقات میں بہتری آئے گی بلکہ خطے میں پائیدار امن کے امکانات بھی روشن ہوں گے۔
سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ اس دورے کے دوران پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان کئی اہم معاشی اور تجارتی معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں کی منظوری بھی دی جائے گی، جن کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانا ہے۔
کانفرنس کے بعد ایران کے سینئر سفارتکار اور افغانستان کے امور کے سابق خصوصی نمائندے محمد رضا بہرامی نے کابل میں افغان وزیر خارجہ مولوی امیر خان متقی سے ملاقات کی۔ بہرامی نے انہیں تہران میں ہونے والے علاقائی اجلاس کی تفصیلات سے آگاہ کیا اور افغانستان کے حوالے سے ہمسایہ ممالک کے مؤقف اور تجاویز پر بریفنگ دی۔