Category: عقائد و نظریات

پی ایس ایل گیارہ ایڈیشن میں پہلی بار 8 ٹیمیں حصہ لیں گی جبکہ مجموعی طور پر 44 میچز کھیلے جائیں گے

وزارت اطلاعات کے مطابق یہ تصویر دراصل افغان طالبان کی وزارت داخلہ کی جانب سے ماضی میں جاری کی گئی تھی اور اسے موجودہ واقعے سے جوڑ کر پیش کیا گیا

ایران امریکا کے لیے فوری خطرہ نہیں تھا، جبکہ یہ جنگ مبینہ طور پر اسرائیل اور اس کی بااثر امریکی لابی کے دباؤ کے نتیجے میں شروع کی گئی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی فوجی پالیسیوں پر دنیا بھر میں حیرت پائی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق موجودہ کشیدگی کب اور کیسے ختم ہوگی، اس بارے میں پیشگوئی ممکن نہیں

چین خطے کی صورتحال پر گہری تشویش رکھتا ہے اور متاثرہ افراد کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتا ہے۔ امدادی اقدامات کے ذریعے بنیادی ضروریات کی فراہمی میں مدد دی جائے گی۔

اگر اتنی بڑی تعداد میں ہلاکتیں ہوئیں تو کابل میں کھلے میدان میں 500 تابوت رکھ کر دنیا کو دکھایا جانا چاہیے تھا

ایلون مسک دنیا کے امیر ترین شخصیات میں سے ایک ہیں، انہوں نے حالیہ انٹرویو میں بتایا کہ وہ برسوں کے ملحد رہنے کے بعد اب خدا کے وجود پر یقین رکھتے ہیں اور کائنات کو تخلیق کرنے والی ہستی میں ایمان لائے ہیں

کرناٹک حکام کے مطابق اگلے ماہ سے اس فیصلے پر عمل درآمد کیا جائے گا

پاکستانی مندوب نے یاد دلایا کہ دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں پاکستان نے سب سے زیادہ قربانیاں دی ہیں۔

یہ گرفتاری ایک ایسے وقت میں عمل میں لائی گئی ہے جب پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کابل کے دورے پر موجود تھے

سو یہ بات بالکل واضح ہے کہ اگر کوئی شخص عقائد کے اعتبار سے مظبوطی چاہتا ہے اور ہر ایک عقیدے کی بنیاد اور اسکے عقلی دلائل سے شناسائی کا خواہشمند ہے تو اسے امام ابن تیمیہ کی کتاب " عقیدہ واسطیہ" ضرور پڑھنی چاہیئے، اب اس کی اردو شروحات بھی بازار سے بآسانی مل سکتی ہیں جن میں بہتر اور مستند شرح شیخ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ کی ہے، جس کا اردو ترجمہ پروفیسر جار اللہ ضیاء نے کیا ہے۔

واقعہ کربلا ایک ایسا واقعہ ہے جس نے تاریخ میں ان مٹ نقوش چھوڑے ہیں۔ خانوادہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے عزم و ہمت، استقلال، پا مردی، جراءت و بہادری اور اعلا کلمتہ اللہ کے لیے وہ لازوال قربانیوں کی داستانیں رقم کیں جنہیں فراموش کرنا ممکن نہیں

محرم الحرام میں امن وامان کے پیشِ نظر اعلیٰ سطحی اجلاس

2025 کے بعد بھارت میں سِکھوں کے خلاف ریاستی جبر میں اضافہ، دہائیوں سے سِکھ انصاف دبایا گیا، اب عالمی سطح پر آوازیں بلند ہو رہی ہیں۔

پاک۔بھارت تنازعے کے بعد بھارت میں سِکھ شناخت کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جہاں اختلاف رائے کو جھوٹی جاسوسی سے جوڑ کر گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے۔