مددگار یا مکار؟ اپنوں کے ہاتھوں قتل کے لرزہ خیز واقعات

مددگار یا مکار؟

اپنوں کے لبادے میں چھپے قاتلوں اور خونی رشتوں کے پامال ہوتے تقدس پر ایک دردناک تحریر، جو مددگار چہروں کے پیچھے چھپے مکروہ اور سفاک کرداروں کو بے نقاب کرتی ہے۔

سی ڈی اے میں احتسابی اقدامات، اصلاحات کو حقائق کی بنیاد پر پرکھنے کا مطالبہ

پاکستان میں جب بھی کسی بڑے ادارے میں احتساب یا اصلاحات کی بات ہوتی ہے تو اکثر اسے سیاسی رنگ دینے کی کوشش کی جاتی ہے، جس سے اصل حقائق پس منظر میں چلے جاتے ہیں
سی ڈی اے کا احتساب

سی ڈی اے میں احتسابی عمل اس بات کا اشارہ ہے کہ ادارہ بدعنوانی، اختیارات کے غلط استعمال اور انتظامی بے ضابطگیوں کے خلاف کارروائی کے لیے سنجیدہ ہے۔

March 15, 2026

وفاقی دارالحکومت کے شہری نظم و نسق کے ادارے کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) میں جاری احتسابی اقدامات کو ادارہ جاتی اصلاحات کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

تحقیقی مضمون نگار ڈاکٹر محمد سلیم نے اپنے ایک حالیہ تجزیے میں کہا ہے کہ سی ڈی اے میں احتسابی عمل اس بات کا اشارہ ہے کہ ادارہ بدعنوانی، اختیارات کے غلط استعمال اور انتظامی بے ضابطگیوں کے خلاف کارروائی کے لیے سنجیدہ ہے۔

ان کے مطابق ریاستی اداروں کی ساکھ اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب وہ ماضی کی بے ضابطگیوں کا بھی جائزہ لیں اور ذمہ داروں کا تعین کریں۔

تجزیے میں کہا گیا ہے کہ وفاقی دارالحکومت جیسے حساس شہر میں زمین، ترقیاتی منصوبوں، ٹینڈرنگ اور شہری سہولیات کے معاملات ہمیشہ مختلف مفادات کے دباؤ میں رہتے ہیں، ایسے میں شفاف نظم و نسق کے لیے اصلاحی اقدامات ناگزیر ہوتے ہیں۔

ڈاکٹر محمد سلیم کے مطابق پاکستان میں جب بھی کسی بڑے ادارے میں احتساب یا اصلاحات کی بات ہوتی ہے تو اکثر اسے سیاسی رنگ دینے کی کوشش کی جاتی ہے، جس سے اصل سوال یعنی حقائق اور سرکاری ریکارڈ پس منظر میں چلا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کسی بھی الزام یا تنقید کو شواہد، دستاویزات اور سرکاری ریکارڈ کی بنیاد پر پرکھا جانا چاہیے تاکہ غیر مصدقہ دعووں اور قیاس آرائیوں سے ادارہ جاتی اصلاحات متاثر نہ ہوں۔

مضمون میں مزید کہا گیا ہے کہ احتساب اور اصلاحات ایک تدریجی عمل ہوتا ہے اور اس کے نتائج وقت کے ساتھ سامنے آتے ہیں، اس لیے کسی بھی اصلاحی پالیسی کا جائزہ قواعد کی پاسداری، شفافیت اور عوامی خدمت کے معیار میں بہتری کی بنیاد پر لیا جانا چاہیے۔

تجزیہ کار کے مطابق ذمہ دار تنقید اور شفاف احتساب ہی وہ راستہ ہے جس سے ادارے مضبوط ہوتے ہیں اور عوام کا اعتماد بحال ہوتا ہے۔

دیکھئیے:طالبان تحقیقاتی کمیشن: بے پناہ نقصان، 85 فیصد پوسٹوں پر پاکستانی قبضے کی تصدیق

متعلقہ مضامین

مکہ مکرمہ میں مسجد کے تقدس کی پامالی پر 2 بنگلہ دیشی شہریوں کو سزائے موت دے دی گئی، جبکہ عدالتی تحقیقات کے ذریعے ملزمان کے حق میں پھیلائی جانے والی گمراہ کن افواہوں کو رد کر دیا گیا۔

November 4, 2026

طلبہ سیاست سے عسکریت پسندی تک کا سفر طے کرنے والے بشیر زیب کون ہیں، جنہیں کالعدم بی ایل اے نے سربراہی کے عہدے سے برطرف کر دیا ہے۔

November 4, 2026

ٹرمپ نے ایران کے خلاف بڑی فوجی کارروائی کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کو کچھ بڑا کرنا ہوگا۔

November 4, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *