جنوبی ایشیا کے ماہر مائیکل کوگل مین کا کہنا ہے کہ پاکستان کے مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات نے امریکہ کے لیے اس کی تزویراتی اہمیت بڑھا دی ہے۔
کوگل مین کے مطابق پاکستان کے خلیج تعاون کونسل کے ممالک، ترکی، مصر اور ایران کے ساتھ مضبوط روابط اسے خطے میں ایک اہم اسٹریٹجک کردار فراہم کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ غزہ اور ایران میں ہونے والی جنگوں کے بعد امریکہ ایک بار پھر مشرقِ وسطیٰ پر زیادہ توجہ دے رہا ہے۔ ایسے میں پاکستان کی خطے میں موجودگی اور مختلف ممالک سے اس کے تعلقات واشنگٹن کی نظر میں اس کی اہمیت بڑھاتے ہیں۔
کوگل مین کے مطابق پاکستان جغرافیائی طور پر بھی مشرقِ وسطیٰ کے قریب واقع ہے اور ایران کے ساتھ سرحد کے علاوہ خلیجی ممالک کے ساتھ دیرینہ تعلقات رکھتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کا حالیہ دفاعی تعاون بھی مشرقِ وسطیٰ میں اسلام آباد کے کردار کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔
پاکستان کا بڑھتا ہوا علاقائی کردار
تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ علاقائی بحرانوں نے پاکستان کو مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی ہوئی سکیورٹی صورتحال میں زیادہ نمایاں کردیا ہے۔
پاکستان ایک طرف سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک کے ساتھ سکیورٹی تعاون بڑھا رہا ہے، جبکہ دوسری طرف ایران کے ساتھ بھی تعلقات برقرار رکھے ہوئے ہے۔
اگست 2026 میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان مشترکہ دفاعی معاہدہ بھی ہوا، جس نے خطے میں پاکستان کے سکیورٹی کردار کو مزید نمایاں کیا ہے۔
تاہم کوگل مین کے مطابق پاکستان کی موجودہ تزویراتی اہمیت خطے کی صورتحال سے بھی جڑی ہوئی ہے۔ اگر مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم ہوئی اور امریکا نے خطے پر اپنی پالیسی توجہ محدود کردی تو پاکستان کی موجودہ تزویراتی افادیت بھی کم ہوسکتی ہے۔