ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کے دوران ایرانی عہدیدار محسن رضائی نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ماسکو میں ملاقات کی ہے۔ رضائی کے مطابق انہوں نے ایرانی قیادت کا پیغام روسی صدر تک پہنچایا، جبکہ پوتن نے جنگ کو غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے اسے ختم کرنے میں مدد کی پیشکش کی۔
دوسری جانب ایران نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے لیے اپنی سات شرائط پوری کرنے پر اصرار کیا ہے۔ ایرانی حکام نے جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے سے نکلنے کے امکان کو بھی ایک اہم تزویراتی فیصلہ قرار دیا ہے۔
محسن رضائی کی ملاقات
کریملن کے مطابق ایرانی عہدیدار محسن رضائی نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات کی۔ ترک خبر رساں ادارے انادولو کے مطابق ملاقات میں روسی صدارتی مشیر یوری اوشاکوف اور ملٹری انٹیلی جنس کے سربراہ ایگور کوستیوکوف بھی شریک تھے۔
محسن رضائی نے ایرانی ٹی وی کو بتایا کہ انہوں نے ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کا پیغام روسی صدر تک پہنچایا۔
ان کے مطابق پوتن نے امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کو غیر منصفانہ قرار دیا اور تنازع ختم کرنے کے لیے مدد کی پیشکش کی۔
ایران کی دھمکی
ایران کی جوہری توانائی تنظیم کے سربراہ محمد اسلامی نے عالمی جوہری توانائی ایجنسی کے سربراہ رافیل گروسی پر تنقید کی ہے۔
انہوں نے گروسی کو ایران کے مخالفین کا حامی قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ وہ جوہری تنصیبات پر حملوں کے معاملے میں دوہرا معیار اپنا رہے ہیں۔
اسلامی نے کہا کہ جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (این پی ٹی) سے نکلنا ایک بڑا تزویراتی فیصلہ ہوگا۔ تاہم انہوں نے واضح طور پر یہ اعلان نہیں کیا کہ ایران معاہدے سے نکل رہا ہے۔
سات شرائط پوری کرنے کا مطالبہ
ایرانی حکام کے مطابق تہران نے قطر کے ذریعے امریکہ کو ایک نئی تجویز پہنچائی ہے۔ ایک سینئر ایرانی عہدیدار کے مطابق اس تجویز پر بات چیت اس وقت ہوگی جب امریکہ ایران کی سات شرائط پوری کرے گا۔
رپورٹس کے مطابق واشنگٹن اس تجویز کا جائزہ لے رہا ہے، تاہم ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران امریکی منظوری کے بغیر کچھ نہیں کرسکتا۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی متحدہ عرب امارات، پاکستان، عمان، اردن، سعودی عرب، قطر، کویت، ترکیہ اور قبرص کے حکام سے الگ الگ رابطے کیے ہیں۔
عمان نے اس دوران سمندری راستوں کو محفوظ بنانے اور جنگی صورتحال ختم کرنے کے لیے عملی اقدامات پر زور دیا ہے۔
روسی میزائل لانچرز کی اطلاعات
برطانوی اخبار گارڈین کے مطابق روسی پیداواری دستاویزات میں 90 اے پی یو-ایل ہیلی کاپٹر میزائل لانچرز کا آرڈر سامنے آیا ہے، جس میں خریدار کا کوڈ ایران سے منسوب کیا گیا ہے۔
دوسری جانب امریکی محکمہ خارجہ نے ایران کے لیے چینی ساختہ کندھے سے داغے جانے والے میزائلوں کی خریداری میں مدد دینے کے الزام پر تین افراد اور ایک کمپنی کے خلاف پابندیاں عائد کی ہیں۔





