چین نے تاجکستان اور افغانستان کی سرحد کے ساتھ سیکیورٹی مضبوط بنانے کیلئے 50 ملین ڈالر سے زائد مالیت کے منصوبے کی مالی معاونت کا اعلان کیا ہے جس کے تحت سرحدی علاقوں میں نئی تنصیبات تعمیر کی جائیں گی۔
سرحدی تنصیبات کی تعمیر
میڈیا رپورٹس کے مطابق منصوبے کے تحت تاجکستان میں افغانستان کی سرحد کے قریب 9 سرحدی تنصیبات تعمیر کی جائیں گی جن کا مجموعی رقبہ تقریباً 17 ہزار مربع میٹر ہوگا۔
تاجک حکام کے مطابق اس منصوبے کی لاگت تقریباً 52 ملین ڈالر ہوگی اور یہ رقم چین کی جانب سے گرانٹ کی صورت میں فراہم کی جائے گی۔ تاجکستان اس منصوبے کو ٹیکس اور کسٹم ڈیوٹی سمیت دیگر سرکاری فیسوں سے مستثنیٰ قرار دے گا۔
تکنیکی معاونت اور سازوسامان
منصوبے کے تحت چین اپنے انجینئرز تاجکستان بھیجے گا جو سرحدی تنصیبات کیلئے ضروری آلات نصب اور فعال کریں گے۔ اس کے علاوہ چین دفتری فرنیچر، رہائشی سہولیات اور کمپیوٹر آلات بھی فراہم کرے گا۔
منصوبے میں معاون انفراسٹرکچر کی تعمیر بھی شامل ہے جس کے تحت رسائی سڑکیں، پانی کی فراہمی، نکاسی آب کے نظام اور بجلی کے کنکشن سمیت دیگر تکنیکی کام انجام دیے جائیں گے۔
تین مراحل میں تکمیل
تاجکستان کی ریاستی سلامتی کمیٹی کے پہلے نائب چیئرمین مراد علی رجب زودا کے مطابق منصوبہ تین مراحل میں مکمل کیا جائے گا۔
انہوں نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ منصوبے کے دوسرے مرحلے کیلئے ضروری سرکاری خطوط کا تبادلہ پہلے ہی ہو چکا ہے جبکہ متعلقہ دستاویزات نومبر 2025 میں تاجک حکومت نے منظور کیے تھے۔
سرحدی تعاون کی توسیع
یہ منصوبہ چین اور تاجکستان کے درمیان سرحدی سیکیورٹی تعاون کے وسیع پروگرام کا حصہ ہے۔ تاجک پارلیمنٹ کی دفاع و سلامتی کمیٹی کے رکن بہرالدین ضیائی کے مطابق اس پروگرام کے پہلے مرحلے میں 2017 اور 2018 کے دوران افغانستان سے ملحقہ علاقوں میں 12 سرحدی تنصیبات تعمیر کی گئی تھیں۔
علاقائی خدشات اور وضاحتیں
وسطی ایشیا میں چین کی سیکیورٹی سرگرمیوں کے باعث وقتاً فوقتاً خطے میں اس کے کردار پر بحث بھی ہوتی رہی ہے۔
تاجک حکام اس سے قبل اس تاثر کی تردید کر چکے ہیں کہ چین تاجکستان میں کوئی فوجی اڈہ تعمیر کر رہا ہے۔ وزارت داخلہ اور وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ گورنو بدخشاں خودمختار خطے میں چینی فوجی اڈے کی موجودگی سے متعلق رپورٹس درست نہیں ہیں۔
دیکھئیے:بیجنگ کا افغانستان سے انخلاء: کیا چین اپنی تزویراتی سرمایہ کاری سمیٹ رہا ہے؟