پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے دوران چین دونوں ممالک کے درمیان ثالثی کی کوششوں میں متحرک ہو گیا ہے، تاہم دونوں جانب سے حملوں کے دعوے بھی سامنے آ رہے ہیں۔
افغان وزارت دفاع نے جمعے کی شب دعویٰ کیا کہ اسلام آباد کے قریب حمزہ کیمپ کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ پاکستانی حکام کے مطابق افغانستان میں کابل، قندھار اور دیگر مقامات پر مجموعی طور پر 70 ٹھکانوں کو فضائی حملوں میں نشانہ بنایا گیا۔
دوسری جانب چین دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے کیلئے سفارتی رابطے بڑھا رہا ہے۔ پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ افغانستان کی صورتحال پر پاکستان اور چین کے درمیان رابطے جاری ہیں۔
ترجمان کے مطابق افغانستان سے متعلق امور پاکستان اور چین کے درمیان دوطرفہ اور سہ فریقی فریم ورک میں زیر بحث رہتے ہیں اور دونوں ممالک اس معاملے پر قریبی ہم آہنگی رکھتے ہیں۔
چند روز قبل چین کے نمائندہ خصوصی برائے افغانستان اور کابل میں چینی سفیر نے افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی سے ملاقات بھی کی تھی۔
چینی وزارت خارجہ کے مطابق نمائندہ خصوصی اس وقت پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کم کرنے کیلئے سرگرم ہیں جبکہ بیجنگ کا کہنا ہے کہ فوری مقصد لڑائی کو مزید پھیلنے سے روکنا اور دونوں فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانا ہے۔
دیکھئیے:چینی وزیر خارجہ کا امیر متقی اور اسحاق ڈار سے رابطہ، اختلافات مذاکرات سے حل کرنے پر زور