رپورٹ بھارتی قیادت کی جانب سے جنگ کے بعد متضاد بیانات، طیاروں کے نقصان سے انکار اور بعد میں غلط ثابت ہونے والے دعوؤں پر خاموش ہے۔ ناقدین کے مطابق یہ خاموشی رپورٹ کی غیرجانبداری پر سنگین سوالات اٹھاتی ہے۔

February 4, 2026

آریا فارمولہ اجلاس میں کہا گیا کہ بھارتی اقدام کے علاقائی اور عالمی سطح پر دور رس اثرات ہوں گے۔ پاکستان نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ مکمل طور پر مؤثر ہے، سندھ طاس معاہدے کے تحت تنازعات کے حل کے میکنزم پر عملدرآمد کے دونوں ممالک پابند ہیں۔

February 3, 2026

سکیورٹی اور پالیسی تجزیہ کاروں کے مطابق دستیاب ٹائم لائن، حملوں کے طریقۂ کار میں مماثلت، بی ایل اے کی جانب سے 30 جنوری کو “آپریشن ہیروف 2.0” کے اعلان، سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی علامتی تصاویر، اور اسی روز ایک بڑی بھارتی فلم کی ریلیز، یہ سب عناصر مل کر ایک مربوط بیانیہ تشکیل دیتے ہیں۔

February 3, 2026

بلوم برگ کی رپورٹ کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں بدلتی ہوئی طاقتی صف بندی، دفاعی تعاون کے نئے رجحانات اور علاقائی سفارتی تبدیلیوں نے سعودی عرب کی خارجہ پالیسی ترجیحات کو براہِ راست متاثر کیا ہے

February 3, 2026

پاکستان کو ایران اور امریکہ کے مابین جوہری مذاکرات میں شرکت کی باضابطہ دعوت دی گئی ہے۔ مذاکرات استنبول میں ہوں گے اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار ممکنہ طور پر پاکستان کی نمائندگی کریں گے

February 3, 2026

ڈیرہ اسماعیل خان میں نیشنل بینک پر 20-25 مسلح افراد کے حملے کو پولیس کی فوری کاروائی سے ناکام بنا دیا گیا۔ فائرنگ کے تبادلے میں چار پولیس اہلکار زخمی ہوئے

February 3, 2026

حقائق نظرانداز، تضادات نمایاں: آپریشن سندور کے حوالے سے سی ایچ پی ایم کی رپورٹ پر ماہرین نے سنجیدہ اعتراضات اٹھا دیے

رپورٹ بھارتی قیادت کی جانب سے جنگ کے بعد متضاد بیانات، طیاروں کے نقصان سے انکار اور بعد میں غلط ثابت ہونے والے دعوؤں پر خاموش ہے۔ ناقدین کے مطابق یہ خاموشی رپورٹ کی غیرجانبداری پر سنگین سوالات اٹھاتی ہے۔
حقائق نظرانداز، تضادات نمایاں: آپریشن سندور کے حوالے سے سی ایچ پی ایم کی رپورٹ پر ماہرین نے سنجیدہ اعتراضات اٹھا دیے

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جو مطالعہ جوہری صلاحیت کے حامل دو ممالک کے درمیان تنازع سے متعلق ہو، اس میں غیرجانبداری اور شواہد کی سخت جانچ ناگزیر ہوتی ہے، جو اس رپورٹ میں نظر نہیں آ رہی ہے۔

February 4, 2026

سینٹر فار ملٹری ہسٹری اینڈ پرسپیکٹو اسٹڈیز کی رپورٹ “آپریشن سندور: بھارت-پاکستان فضائی جنگ (7 تا 10 مئی 2025)” کو ایک سنجیدہ اسٹریٹجک مطالعہ کے طور پر پیش کیا گیا، تاہم ناقدین کے مطابق یہ رپورٹ قابلِ تصدیق حقائق، داخلی ہم آہنگی اور تجزیاتی احتیاط کی بنیادی شرائط پوری کرنے میں ناکام رہی ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جو مطالعہ جوہری صلاحیت کے حامل دو ممالک کے درمیان تنازع سے متعلق ہو، اس میں غیرجانبداری اور شواہد کی سخت جانچ ناگزیر ہوتی ہے، جو اس رپورٹ میں نظر نہیں آ رہی ہے۔

پلوامہ واقعہ: الزام کو حقیقت بنا کر پیش کرنا
رپورٹ میں 19 فروری 2019 کے پلوامہ واقعےکی ذمہ داری جیشِ محمد پر عائد کی گئی، حالانکہ یہ الزام کبھی آزادانہ فرانزک تحقیقات، عدالتی فیصلوں یا کسی تیسرے فریق کی انٹیلی جنس تصدیق سے ثابت نہیں ہوا۔ مزید یہ کہ خود بھارت کے اندر کئی سیاست دانوں، صحافیوں اور تجزیہ کاروں نے اس واقعے پر سوالات اٹھائے اور بعض نے اسے داخلی سیاسی مقاصد کے لیے ممکنہ فالس فلیگ آپریشن قرار دیا۔ رپورٹ نے ان اختلافی آرا کو نظرانداز کرتے ہوئے متنازع الزام کو سچ بنا کر پیش کیا۔

بالاکوٹ حملہ: زمینی حقائق سے چشم پوشی
بالاکوٹ فضائی حملے کے حوالے سے رپورٹ بھارتی دعوے کی تائید کرتی ہے کہ میزائل اپنے اہداف پر لگے اور کم از کم دو حملے کامیاب ہوئے۔ تاہم واقعات کے فوراً بعد پاکستان کی جانب سے بین الاقوامی صحافیوں اور غیر ملکی سفارت کاروں کو مبینہ مقام کا دورہ کرایا گیا، جہاں آزاد رپورٹس کے مطابق بم جنگلاتی کھائی میں گرے، کسی عمارت کو نقصان نہ پہنچا اور کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ ناقدین کے مطابق یہ حقائق آزاد ذرائع سے دستیاب ہیں، مگر رپورٹ نے انہیں مکمل طور پر نظرانداز کیا۔

26 فروری 2019 کی فضائی جھڑپ
رپورٹ ایک جانب دعویٰ کرتی ہے کہ پاکستان اپنی جوابی کارروائی ادھوری چھوڑنے پر مجبور ہوا اور طیاروں نے جلدی میں اسلحہ گرا دیا، جبکہ دوسری جانب یہ بھی کہا گیا کہ پاکستانی گولہ بارود بھارتی فوجی تنصیبات کے قریب گرا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ دونوں دعوے ایک ساتھ درست نہیں ہو سکتے، کیونکہ منسوخ شدہ مشن میں پھینکا گیا اسلحہ اتفاقاً ہدف کے قریب نہیں گرتا۔

رپورٹ اس امر کو بھی نظرانداز کرتی ہے کہ آئی ایس پی آر نے اسی دن واضح کیا تھا کہ پاکستان نے جان بوجھ کر کسی فوجی تنصیب کو نشانہ نہیں بنایا اور محض صلاحیت اور عزم کا مظاہرہ کیا، تاکہ کشیدگی کو بڑھنے سے روکا جا سکے۔

مئی 2025 کا تنازع: بیانیہ یا فسانہ
مئی 2025 کے واقعات پر رپورٹ کا بیانیہ مزید تضادات کا شکار دکھائی دیتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ نو بھارتی اہداف میں سے سات بھارتی فوج کو سونپے گئے، مگر یہ وضاحت نہیں کی گئی کہ بھارتی فوج نے یہ اہداف کب اور کیسے نشانہ بنائے۔ اس کے برعکس، آگے چل کر تمام حملوں کو بھارتی فضائیہ سے منسوب کیا گیا، جو ایک واضح تضاد ہے۔

فضائی کارروائیاں
رپورٹ دعویٰ کرتی ہے کہ پاکستان بھارتی حملہ آور طیاروں کا بروقت سراغ نہ لگا سکا، لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہتی ہے کہ پاکستانی لڑاکا طیاروں نے عین اس وقت بھارتی طیاروں کو انگیج کیا جب وہ ہتھیار چھوڑ رہے تھے۔ ناقدین کے مطابق یہ دونوں باتیں بھی بیک وقت درست نہیں ہو سکتیں، کیونکہ اگر انگیجمنٹ ہوئی تو تلاش لازمی طور پر ہوئی ہوگی، اور اگر تلاش نہیں ہوئی تو انگیجمنٹ ممکن نہیں۔

اسٹرائیک پیکیج یا گشت کرنے والے طیارے؟
رپورٹ آگے چل کر یہ دعویٰ بھی کرتی ہے کہ پاکستانی فضائیہ نے اسٹرائیک پیکیج کو نہیں بلکہ بھارتی گشت کرنے والے طیاروں کو انگیج کیا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ ایک بنیادی سوال چھوڑ دیتا ہے کہ پھر ہتھیار چھوڑتے وقت کون سے طیارے نشانہ بنے؟

رپورٹ اس تضاد کا کوئی جواب نہیں دیتی، جس سے تجزیے کے بجائے کہانی گھڑنے کا تاثر ملتا ہے۔

ایس-400 اور ایریائے کی مبینہ تباہی
رپورٹ کا ایک اور دعویٰ یہ ہے کہ بھارتی ایس-400 دفاعی نظام نے پاکستان کے اندر 300 کلومیٹر دور ایک ایریائے اے ای ڈبلیو اینڈ سی طیارے کو نشانہ بنایا۔ سکیورٹی ماہرین کے مطابق یہ دعویٰ عملی اور تکنیکی لحاظ سے ناقابلِ یقین ہے، کیونکہ اس کے لیے غیرمعمولی ٹارگٹنگ ڈیٹا، مسلسل ریڈار لاک اور پاکستانی جوابی اقدامات کی مکمل عدم موجودگی درکار ہوتی ہے، جبکہ کسی قسم کا ملبہ، ریڈار ڈیٹا یا آزاد تصدیق پیش نہیں کی گئی۔

حملوں کی ٹائم لائن: حقائق کے برعکس بیانیہ
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ پاکستان نے 7-8 اور 8-9 مئی کی راتوں میں میزائل اور فضائی حملے کیے، حالانکہ پاکستان کی جانب سے کوئی میزائل یا فضائی حملہ 10 مئی کی صبح سے پہلے نہیں ہوا۔ پاکستان کی جوابی کارروائی 10 مئی کو فضائیہ اور فتح سیریز میزائلوں کے ذریعے کی گئی، جبکہ اس سے قبل صرف محدود ڈرون نگرانی کی گئی تھی۔ یہ ٹائم لائن آزاد ذرائع میں دستاویزی شکل میں موجود ہے۔

جنگ بندی کی حقیقت مسخ کرنا
رپورٹ کا یہ دعویٰ کہ پاکستان نے 10 مئی کی شام جنگ بندی کی بھیک مانگی، تجزیہ کاروں کے مطابق حقائق کے منافی ہے۔ دوپہر تک پاکستان کے وزیر خارجہ اعلان کر چکے تھے کہ جنگ بندی طے پا چکی ہے اور شام پانچ بجے نافذ ہوگی، جبکہ اس سے قبل بھارتی فوجی ترجمان بھی جنگ بندی پر آمادگی ظاہر کر چکے تھے۔ ناقدین کے مطابق اس ترتیب کو “بھیک مانگنے” سے تعبیر کرنا محض بیانیہ سازی ہے۔

شواہد کے دوہرے معیار
رپورٹ میں بھارتی دعوؤں کو بغیر ثبوت تسلیم کیا گیا کہ متعدد پاکستانی فضائی اثاثے تباہ ہوئے، مگر ان دعوؤں کے حق میں کوئی تصویر، ویڈیو یا ملبہ پیش نہیں کیا گیا۔ اس کے برعکس، بھارتی طیاروں کے ملبے، سیریل نمبرز اور عینی شواہد بین الاقوامی میڈیا اور اوپن سورس پلیٹ فارمز پر سامنے آئے۔ ماہرین کے مطابق آج کے ڈیجیٹل دور میں شواہد کی عدم موجودگی خود ایک مضبوط دلیل ہے۔

رپورٹ بھارتی قیادت کی جانب سے جنگ کے بعد متضاد بیانات، طیاروں کے نقصان سے انکار اور بعد میں غلط ثابت ہونے والے دعوؤں پر خاموش ہے۔ ناقدین کے مطابق یہ خاموشی رپورٹ کی غیرجانبداری پر سنگین سوالات اٹھاتی ہے۔

حتمی تجزیہ
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ رپورٹ محض جانبدار نہیں بلکہ اسی جانبداری پر استوار دکھائی دیتی ہے، جہاں بھارتی بیانات کو حقیقت اور پاکستانی موقف کو محض پروپیگنڈا سمجھا گیا۔ تضادات کو نظرانداز کیا گیا۔

ماہرین کے نزدیک یہ رپورٹ فضائی جنگ کا معتبر تجزیہ نہیں بلکہ اس بات کی مثال ہے کہ جب تجزیہ علمی ضبط کے بجائے جانبدارانہ وفاداری کا شکار ہو جائے تو اس کی ساکھ خود بخود ختم ہو جاتی ہے۔

دیکھیے: وادی تیراہ میں آپریشن پر منظور پشتین کے الزامات؛ سکیورٹی ماہرین نے اپنا مؤقف جاری کر دیا

متعلقہ مضامین

آریا فارمولہ اجلاس میں کہا گیا کہ بھارتی اقدام کے علاقائی اور عالمی سطح پر دور رس اثرات ہوں گے۔ پاکستان نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ مکمل طور پر مؤثر ہے، سندھ طاس معاہدے کے تحت تنازعات کے حل کے میکنزم پر عملدرآمد کے دونوں ممالک پابند ہیں۔

February 3, 2026

سکیورٹی اور پالیسی تجزیہ کاروں کے مطابق دستیاب ٹائم لائن، حملوں کے طریقۂ کار میں مماثلت، بی ایل اے کی جانب سے 30 جنوری کو “آپریشن ہیروف 2.0” کے اعلان، سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی علامتی تصاویر، اور اسی روز ایک بڑی بھارتی فلم کی ریلیز، یہ سب عناصر مل کر ایک مربوط بیانیہ تشکیل دیتے ہیں۔

February 3, 2026

بلوم برگ کی رپورٹ کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں بدلتی ہوئی طاقتی صف بندی، دفاعی تعاون کے نئے رجحانات اور علاقائی سفارتی تبدیلیوں نے سعودی عرب کی خارجہ پالیسی ترجیحات کو براہِ راست متاثر کیا ہے

February 3, 2026

پاکستان کو ایران اور امریکہ کے مابین جوہری مذاکرات میں شرکت کی باضابطہ دعوت دی گئی ہے۔ مذاکرات استنبول میں ہوں گے اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار ممکنہ طور پر پاکستان کی نمائندگی کریں گے

February 3, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *