ذرائع کے مطابق افغانستان کے صوبہ ننگرہار کے ضلع لالپور میں طالبان فورسز اور پاکستانی سرحدی اہلکاروں کے درمیان جھڑپ کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ یہ واقعہ افغانستان پاکستان سرحد کے قریب پیش آیا، جس کے بعد سرحدی کشیدگی میں ممکنہ اضافے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ جھڑپ ایک حساس سرحدی علاقے میں ہوئی، تاہم تاحال نہ طالبان حکام اور نہ ہی پاکستانی حکام کی جانب سے اس واقعے پر کوئی باضابطہ بیان جاری کیا گیا ہے۔ واقعے کی نوعیت اور نقصانات سے متعلق تفصیلات بھی سامنے نہیں آ سکیں۔
پاکستانی حکام ماضی میں متعدد بار اس بات پر زور دیتے رہے ہیں کہ پاکستان سرحدی سلامتی اور علاقائی استحکام کے لیے پرعزم ہے، اور سرحد پر کسی بھی قسم کی خلاف ورزی کو سنجیدگی سے لیا جاتا ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق سرحدی صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔
دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی جھڑپیں ایک حساس معاملہ ہیں، جو اگر بروقت سفارتی یا سیکیورٹی سطح پر حل نہ کی جائیں تو کشیدگی میں اضافے کا باعث بن سکتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق دونوں فریقین کے لیے ضروری ہے کہ ایسے واقعات کو بات چیت اور مؤثر سرحدی انتظام کے ذریعے قابو میں رکھا جائے تاکہ خطے میں عدم استحکام پیدا نہ ہو۔
دیکھیے: سی ایس ٹی او کی تاجکستان کو افغان سرحد سے دراندازی روکنے کے لیے فوجی معاونت