سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کو ڈیوٹی پر مامور پولیس اہلکاروں پر چیختے چلاتے اور انتہائی گستاخانہ لہجے میں بات کرتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔ اس واقعے نے نہ صرف حکمرانی کے معیار بلکہ ایک اعلیٰ صوبائی آئینی منصب دار کے تدبر اور اخلاقی رویے پر بھی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
وزیرِ اعلیٰ کا منصب کسی بھی صوبے کا سب سے باوقار اور ذمہ دارانہ آئینی عہدہ ہوتا ہے، جہاں سے سنجیدگی، تحمل اور برداشت کی توقع کی جاتی ہے۔ تاہم وائرل ویڈیو میں چیف ایگزیکٹیو کا ڈیوٹی سرانجام دینے والے ماتحت اہلکاروں پر یوں بلاجواز برسنا ہونا ان کی شدید نفسیاتی بے چینی، اعصابی دباؤ اور بوکھلاہٹ کو واضح طور پر ظاہر کرتا ہے۔
لگتا ہے سہیل آفریدی شدید نفسیاتی دباو کا شکار ہیں
— Irfan Khan (@irfijournalist) August 18, 2026
ایک صوبے کے منتخب چیف ایگزیکٹیو کو کسی بھی ماتحت عملہ کیساتھ اس طرح گستاخانہ لہجے کا استعمال کسی صورت زیب نہیں دیتا
یہ بیچارے اپنی ڈیوٹی نبھانے یہاں کھڑے ہیں اپنی طاقت اور عہدے پرانی ہی گھمنڈ ہے تو اس کو کسی اور جگہ استعمال کرو… pic.twitter.com/zYjY1hcl90
اس ویڈیو کے سامنے آنے کے بعد سیاسی و عوامی حلقوں اور تجزیہ کاروں کی جانب سے شدید ردِعمل دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ڈیوٹی پر موجود کمزور ملازمین اور سکیورٹی اہلکاروں پر اپنی طاقت کا رعب جمانا اور ان کی تذلیل کرنا یہ ثابت کرتا ہے کہ موجودہ وزیراعلیٰ اس حساس اور اعلیٰ ترین منصب کے لیے درکار بنیادی اہلیت اور ظرف سے محروم ہیں۔
یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ انتظامی عہدیداروں یا سکیورٹی عملے کے ساتھ اس نوعیت کا توہین آمیز رویہ اپنایا گیا ہو۔ اقتدار اور عہدے کے گھمنڈ میں مبتلا حکمرانوں کی جانب سے اپنے ہی تحفظ پر مامور اہلکاروں کو ہدفِ تنقید بنانا اور ان پر غصہ نکالنا ان کی اندرونی نااہلی اور گراوٹ کا عکاس ہے۔ ایک منتخب رہنما کا کام اداروں کو عزت دینا اور قانون کی بالادستی قائم کرنا ہوتا ہے، نہ کہ طاقت کے زعم میں کمزوروں کو دبانا۔
عوامی حلقوں کا ماننا ہے کہ جب کوئی شخص اپنے اعصاب اور غصے پر قابو رکھنے سے قاصر ہو تو وہ پورے صوبے کے پیچیدہ امور اور عوامی مسائل کو سنبھالنے کی صلاحتی نہیں رکھتا۔ اس طرزِ عمل کے بعد یہ بحث شدت اختیار کر گئی ہے کہ آیا ایسے غیر سنجیدہ رویے کے حامل فرد کو صوبے کی باگ ڈور سنبھالنے کا کوئی اخلاقی اور سیاسی جواز حاصل ہے یا نہیں۔