...
بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں حالیہ حملوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے شہریوں، تنصیبات اور سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانے کی مذمت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کی کوئی توجیہہ نہیں ہو سکتی اور جو عناصر اس کے لیے نرم گوشہ رکھتے ہیں وہ دراصل قومی یکجہتی کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

February 13, 2026

یہ مسئلہ صرف نسلی تناسب کا نہیں بلکہ ریاستی شمولیت اور سیاسی جواز کا ہے۔ ایک ایسا ملک جہاں دہائیوں سے جنگ، بیرونی مداخلت اور داخلی تقسیم رہی ہو، وہاں طاقت کا ارتکاز مزید بے چینی کو جنم دے سکتا ہے۔ خاص طور پر ہزارہ برادری، جو مذہبی اقلیت بھی ہے، خود کو دوہری محرومی کا شکار محسوس کرتی ہے۔

February 13, 2026

اس اعتراف نے طالبان کے اس دیرینہ دعوے کی نفی کر دی ہے جس میں وہ عالمی سطح پر یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے رہے ہیں کہ ان کا القاعدہ جیسی تنظیموں سے اب کوئی تعلق نہیں رہا۔

February 13, 2026

دوسری جانب وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے حکومتی موقف پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریاست کی جانب سے بانی پی ٹی آئی کو جیل میں “وی وی آئی پی” طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں، جن میں روزانہ کی بنیاد پر وائٹلز کی چیکنگ اور سردی سے بچاؤ کے لیے ہیٹر کی فراہمی شامل ہے۔

February 13, 2026

اگر ریاست ترقیاتی کاموں کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کے فکری تحفظ اور درست معلومات کی فراہمی میں ناکام رہی، تو انتہا پسند گروہ پسماندگی اور احساسِ محرومی کو ڈھال بنا کر نفرت کا کاروبار چمکاتے رہیں گے۔

February 13, 2026

عمران خان کے مخالفین اس موقف پر قائم ہیں کہ گولڈ اسمتھ فیملی اور ایپسٹین کے درمیان ثابت شدہ سماجی تعلقات اس پورے معاملے کو مشکوک بنانے کے لیے کافی ہیں، جس کی بنیاد پر اب یہ بحث ایوانوں سے نکل کر ڈیجیٹل میڈیا کے پلیٹ فارمز پر ایک تہلکہ خیز رخ اختیار کر چکی ہے۔

February 13, 2026

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے بین الصوبائی دورے: سیاسی سرگرمی یا صوبائی مسائل سے توجہ ہٹانے کی کوشش؟

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے دوروں کا مقصد وفاقی اکائیوں کے درمیان روابط کو مضبوط بنانا، جمہوری رویّوں کو فروغ دینا اور سیاسی مکالمے کو آگے بڑھانا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک وزیراعلیٰ کا دیگر صوبوں کی قیادت اور سیاسی قوتوں سے رابطہ کسی بھی طور غیر آئینی یا غیر معمولی عمل نہیں۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے بین الصوبائی دورے: سیاسی سرگرمی یا صوبائی مسائل سے توجہ ہٹانے کی کوشش؟

آنے والے دنوں میں یہ بات واضح ہو جائے گی کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے یہ دورے محض سیاسی سرگرمیوں تک محدود رہتے ہیں یا ان کے نتیجے میں واقعی کوئی بین الصوبائی تعاون، پالیسی ہم آہنگی یا عملی فائدہ سامنے آتا ہے۔ فی الحال، خیبرپختونخوا کے عوام کی نظریں اس بات پر جمی ہیں کہ ان کے مسائل کو کس حد تک ترجیح دی جاتی ہے۔

January 7, 2026

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے حالیہ دورۂ پنجاب اور اب متوقع دورۂ سندھ نے ملک بھر کے سیاسی حلقوں میں ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب خیبرپختونخوا کو امن و امان، دہشت گردی کے خدشات، معاشی دباؤ، بے روزگاری اور انتظامی کمزوریوں جیسے سنگین مسائل کا سامنا ہے، وزیراعلیٰ کی جانب سے دیگر صوبوں میں سیاسی سرگرمیوں میں بھرپور شرکت کو مختلف زاویوں سے دیکھا جا رہا ہے۔

پنجاب دورہ اور پیدا ہونے والا تنازع

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے دسمبر کے اختتام پر پنجاب کا دورہ کیا تھا، جہاں انہوں نے پارٹی قیادت اور سیاسی شخصیات سے ملاقاتیں کیں اور مختلف تنظیمی سرگرمیوں میں حصہ لیا۔ اس دورے کے دوران بعض بیانات اور ملاقاتوں پر سیاسی تنازع بھی سامنے آیا، جبکہ پنجاب حکومت کے بعض حلقوں نے اس دورے کو بین الصوبائی ہم آہنگی کے بجائے خالصتاً سیاسی نوعیت کا قرار دیا۔

اس تنقید کے جواب میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے دوروں کا مقصد وفاقی اکائیوں کے درمیان روابط کو مضبوط بنانا، جمہوری رویّوں کو فروغ دینا اور سیاسی مکالمے کو آگے بڑھانا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک وزیراعلیٰ کا دیگر صوبوں کی قیادت اور سیاسی قوتوں سے رابطہ کسی بھی طور غیر آئینی یا غیر معمولی عمل نہیں۔

خیبرپختونخوا کی اندرونی صورتحال

دوسری جانب خیبرپختونخوا میں اسی عرصے کے دوران بدامنی کے متعدد واقعات، ترقیاتی منصوبوں کی سست رفتاری اور عوامی شکایات میں اضافے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ جنوبی اضلاع میں امن و امان کی صورتحال، سرکاری اداروں کی کارکردگی اور روزگار کے مواقع کی کمی جیسے مسائل پر عوامی سطح پر تشویش پائی جاتی ہے۔ ناقدین کے مطابق ایسے حالات میں وزیراعلیٰ کی اولین ترجیح صوبے کے اندر گورننس اور سیکیورٹی معاملات ہونے چاہییں

سندھ دورے کا شیڈول

پاکستان تحریک انصاف کے مطابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی 9 جنوری کو کراچی پہنچیں گے۔ شیڈول کے مطابق وہ کراچی میں سیاسی ملاقاتیں کریں گے، پارٹی سرگرمیوں میں شرکت کریں گے، کراچی پریس کلب کا دورہ کریں گے، اسیر کارکنوں سے ملاقات اور پارٹی کارکنوں سے خطاب کریں گے۔ 10 جنوری کو وزیراعلیٰ کراچی سے حیدرآباد روانہ ہوں گے، جہاں وہ مقامی سیاسی و تنظیمی رہنماؤں سے ملاقاتیں کریں گے، اور رات گئے واپس کراچی پہنچیں گے۔ 11 جنوری کو کراچی میں مختلف طے شدہ ملاقاتوں کے بعد وہ اپنا دورہ مکمل کریں گے۔

وزیردفاع خواجہ آصف کا ردِعمل

وزیردفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا اپنے صوبے میں دہشت گردی کے خلفشار کو ختم کرنے پر کام کریں۔وزیر اعلیٰ دوسرے صوبوں کا دورہ کرنے کی بجائے اپنے صوبے کے ہر کونے میں جائیں۔وزیر اعلیٰ اپنے صوبے کو لوگوں کو قیادت کے ہونے کا احساس دلائیں۔ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا شہداء کے جنازوں میں شرکت کریں۔

لوگوں کو احساس دلائیں کہ آپ شہداء کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کر رہے ہیں، وزیر دفاع خواجہ آصف نے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے دوسرے صوبوں کو رنگ بازی قرار دے دیا، خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ سیاسی ورکر کو اپنا صوبہ چھوڑ کر دوسری جگہوں پر رنگ بازی نہیں کرنی چاہیے۔پاکستان تحریک انصاف کا دہشت گردی کے خلاف واضح مؤقف نہیں ہے۔

ممکنہ اثرات اور نتائج

وزیراعلیٰ کے یہ بین الصوبائی دورے ایک طرف تو پارٹی کی قومی سطح پر سیاسی سرگرمیوں کو تقویت دے سکتے ہیں اور مختلف صوبوں میں سیاسی ہم آہنگی کا تاثر پیدا کر سکتے ہیں، تاہم دوسری جانب اگر خیبرپختونخوا کے زمینی مسائل کو بروقت اور مؤثر انداز میں حل نہ کیا گیا تو یہ دورے حکومت کی ساکھ کو نقصان بھی پہنچا سکتے ہیں۔

آنے والے دنوں میں یہ بات واضح ہو جائے گی کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے یہ دورے محض سیاسی سرگرمیوں تک محدود رہتے ہیں یا ان کے نتیجے میں واقعی کوئی بین الصوبائی تعاون، پالیسی ہم آہنگی یا عملی فائدہ سامنے آتا ہے۔ فی الحال، خیبرپختونخوا کے عوام کی نظریں اس بات پر جمی ہیں کہ ان کے مسائل کو کس حد تک ترجیح دی جاتی ہے۔

دیکھیں: پاکستان اور چین کا دہشت گردی کیخلاف تعاون مزید مضبوط کرنے اور سی پیک بلارکاوٹ آگے بڑھانے پر اتفاق

متعلقہ مضامین

بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں حالیہ حملوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے شہریوں، تنصیبات اور سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانے کی مذمت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کی کوئی توجیہہ نہیں ہو سکتی اور جو عناصر اس کے لیے نرم گوشہ رکھتے ہیں وہ دراصل قومی یکجہتی کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

February 13, 2026

یہ مسئلہ صرف نسلی تناسب کا نہیں بلکہ ریاستی شمولیت اور سیاسی جواز کا ہے۔ ایک ایسا ملک جہاں دہائیوں سے جنگ، بیرونی مداخلت اور داخلی تقسیم رہی ہو، وہاں طاقت کا ارتکاز مزید بے چینی کو جنم دے سکتا ہے۔ خاص طور پر ہزارہ برادری، جو مذہبی اقلیت بھی ہے، خود کو دوہری محرومی کا شکار محسوس کرتی ہے۔

February 13, 2026

اس اعتراف نے طالبان کے اس دیرینہ دعوے کی نفی کر دی ہے جس میں وہ عالمی سطح پر یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے رہے ہیں کہ ان کا القاعدہ جیسی تنظیموں سے اب کوئی تعلق نہیں رہا۔

February 13, 2026

دوسری جانب وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے حکومتی موقف پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریاست کی جانب سے بانی پی ٹی آئی کو جیل میں “وی وی آئی پی” طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں، جن میں روزانہ کی بنیاد پر وائٹلز کی چیکنگ اور سردی سے بچاؤ کے لیے ہیٹر کی فراہمی شامل ہے۔

February 13, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Seraphinite AcceleratorOptimized by Seraphinite Accelerator
Turns on site high speed to be attractive for people and search engines.