وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کا حالیہ بیان اور جارحانہ لہجہ سیاسی و حکومتی حلقوں میں موضوع ِ بحث بن گیا ہے۔ حکومتی نمائندوں کا کہنا ہے کہ عین ایسے وقت میں جب خیبرپختونخوا اور بلوچستان دہشت گردی کی لہر کی زد میں ہیں اور صوبائی حکومت سکیورٹی اداروں کے ساتھ مل کر اس عفریت کا مقابلہ کر رہی ہے، ایسا اشتعال انگیز لہجہ قومی مفاد کے منافی ہے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق حال ہی میں وفاق اور صوبے کے مابین تعاون کی بہترین فضا دیکھی گئی تھی۔ وزیراعلیٰ نے کور کمانڈر کے ہمراہ اپیکس کمیٹی میں شرکت کی اور قومی سلامتی مشیر و وفاقی وزیر داخلہ کے ساتھ مل کر صوبے کے لیے اہم فیصلے کیے۔ مزید برآں وزیراعلیٰ ہی کی درخواست پر عدالتی احکامات کے تحت بانی پی ٹی آئی کو جیل میں ماہر ڈاکٹرز اور بیٹوں سے رابطے کی سہولیات بھی فراہم کی گئیں۔ ان تمام مثبت اقدامات کے بعد دوبارہ ‘لفظی جنگ’ کا آغاز تعاون کی فضا کو سبوتاژ کرنے کے مترادف ہے۔
حکومتی نمائندوں کا مؤقف ہے کہ وزیراعلیٰ کی تقریر ان کے آئینی منصب کے تقاضوں سے متصادم ہے کیونکہ ایک چیف ایگزیکٹو کا بنیادی کام سیاسی محاذ آرائی کے بجائے عوامی ریلیف، امن و امان کا قیام اور گورننس کی بہتری ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ بیانات دراصل پی ٹی آئی کے اندرونی اختلافات، علیمہ خان کی انتظامی معاملات میں مداخلت اور حالیہ احتجاجات کی ناکامی سے توجہ ہٹانے کی ایک کوشش محسوس ہوتے ہیں۔
سیاسی ماہرین کے مطابق خیبرپختونخوا کے عوام اس وقت مہنگائی، بے روزگاری اور سکیورٹی جیسے سنگین مسائل سے نبرد آزما ہیں۔ ایسے میں عوام کو “سوشل میڈیا کا وزیراعلیٰ” نہیں بلکہ ایسا سربراہ چاہیے جو پولیس اور سی ٹی ڈی کو مضبوط کرے اور تعلیمی و طبی نظام میں بہتری لائے۔
واضح رہے کہ وفاقی حکومت کے رویے میں خیبرپختونخوا کے حوالے سے نمایاں بہتری آئی ہے، تاہم صوبائی حکومت کی جانب سے اداروں کے خلاف محاذ آرائی صوبے کو مزید تنہائی اور محرومی کی طرف دھکیل سکتی ہے۔ ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ پی ٹی آئی کو اپنی حکمت عملی پر نظرِ ثانی کرنی چاہیے کیونکہ تصادم کی سیاست سے نہ ہسپتال بنتے ہیں اور نہ ہی نوجوانوں کو روزگار ملتا ہے۔
دیکھیے: ڈی آئی خان میں سکیورٹی فورسز کا کامیاب آپریشن؛ 5 دہشت گرد ہلاک