سی ٹی ڈی نے پنجاب اور سندھ میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے دوران دہشت گردی کے بڑے منصوبوں کو خاک میں ملا دیا ہے۔ اٹک میں فائرنگ کے تبادلے میں فتنہ الخوارج کے 5 دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے جبکہ کراچی میں کالعدم بی ایل اے اور ایف اے کے کے 5 مبینہ کارندوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
پانچ دہشت گرد ہلاک
اٹک سے ملنے والی تفصیلات کے مطابق سی ٹی ڈی نے سرحدی علاقے کے قریب ایک خفیہ اطلاع پر کارروائی کی۔ اس دوران فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں نے ٹیم پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ جوابی کاروائی میں 5 خطرناک دہشت گرد موقع پر ہی مارے گئے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ گروہ پنجاب کے مختلف اضلاع میں حملوں کی منصوبہ بندی مکمل کر چکا تھا۔
اسلحہ اور بارودی مواد
ہلاک دہشت گردوں کے ٹھکانے سے تلاشی کے دوران ایک خودکش جیکٹ، 2 دستی بم، 3 سب مشین گنز اور بھاری مقدار میں بارودی مواد برآمد ہوا ہے۔ سی ٹی ڈی حکام نے برآمد ہونے والا اسلحہ اور دھماکا خیز مواد تحویل میں لے کر مزید تفتیش شروع کر دی ہے تاکہ ان کے نیٹ ورک کے دیگر مہروں تک پہنچا جا سکے۔
پانچ دہشت گرد گرفتار
دوسری جانب کراچی میں سی ٹی ڈی نے انٹیلی جنس اداروں کے تعاون سے دو بڑے آپریشنز کیے۔ ان کارروائیوں میں کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کے تین ارکان عمران خان، ظہیر احمد اور محمد ریاض جبکہ ایف اے کے کے دو ارکان حجت اللہ اور حبیب اللہ کو گرفتار کیا گیا۔ تحقیقات کے مطابق بی ایل اے کے کارندے شہر میں حساس تنصیبات کی ریکی میں ملوث تھے۔
افغانستان سے تربیت
کراچی سے گرفتار ہونے والے ملزمان نے حال ہی میں افغانستان کے تربیتی کیمپوں سے دہشت گردی کی تربیت حاصل کی تھی اور وہ اپنے ہینڈلرز کو حساس معلومات فراہم کر رہے تھے۔ گرفتار ملزم ظہیر احمد سیکیورٹی فورسز پر حملوں اور بھتہ خوری میں بھی ملوث رہا ہے۔ حکام کے مطابق یہ گرفتاریاں کراچی میں تخریب کاری کے لیے منظم ہونے والے نیٹ ورکس کے لیے ایک بڑا دھچکا ہیں۔