چین کی میزبانی میں ہونے والے ارمچی مذاکرات کی کامیابی اور خطے میں استحکام کی امیدوں کے برعکس افغان حکومت کے وزیر برائے سرحد و قبائلی امور نور اللہ نوری نے پاکستان کے خلاف شدید اشتعال انگیز اور غیر سفارتی بیان جاری کیا ہے۔ ویڈیو پیغام میں افغان وزیر نے ڈیورنڈ لائن کے وجود سے انکار کرتے ہوئے پاکستان کو “پنجاب” کے نام سے پکارا اور جارحانہ دھمکیاں دی ہیں۔ انہوں نے ڈیورنڈ لائن کو سرحد ماننے سے انکار کرتے ہوئے پاکستان کی سرحدی باڑ کو ‘افغانوں کے سینے پر خاردار تار’ قرار دیا ہے۔
افغان وزیر نے دھمکی آمیز لہجہ اختیار کرتے ہوئے پنجاب کا حشر بھی روس اور امریکہ جیسا کرنے کا ذکر کیا، جس پر پاکستانی حکام کا مؤقف ہے کہ سرحدوں کا انکار کرنے سے تاریخی اور قانونی حقائق تبدیل نہیں ہوں گے۔ پاکستانی حکام اور دفاعی ماہرین نے ان ریمارکس کو زمینی حقائق کو مسخ کرنے اور دہشت گردی کے اصل مسئلے سے توجہ ہٹانے کی ایک ناکام کوشش قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔
ڈیورنڈ لائن اور قانونی حقائق
پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ ڈیورنڈ لائن کا وجود نہ ہونے کا دعویٰ محض ایک افسانہ ہے۔ تاریخی حقائق کے مطابق ڈیورنڈ لائن پر 1893 میں برطانوی ہند اور اس وقت کے افغان امیر عبدالرحمٰن خان کے مابین باقاعدہ معاہدہ ہوا تھا، جس کی توثیق بعد ازاں 1905، 1919، 1921 اور 1930 میں یکے بعد دیگرے آنے والی افغان حکومتوں نے کی۔ بین الاقوامی قانون کے تحت پاکستان نے اسے ایک قانونی سرحد کے طور پر وراثت میں حاصل کیا ہے اور یہ آج عالمی سطح پر تسلیم شدہ ہے۔ پاکستان نے اپنی سرحد کے 98 فیصد حصے پر باڑھ لگا دی ہے، جو کسی بھی خود مختار ریاست کا اپنی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے ایک معیاری عمل ہے۔
Taliban-ruled #Afghanistan's Minister for Borders and Tribal Affairs, Noorullah Noori, has made remarks highly critical of #Pakistan, a day after #China announced that the weeklong “informal meetings” it hosted and mediated between the two countries were “candid and pragmatic"… pic.twitter.com/HTIlEgEJGx
— Ayaz Gul (@AyazGul64) April 9, 2026
دہشت گردی اور افغان سرزمین کا استعمال
پاکستانی مؤقف کے مطابق کابل کی جانب سے بار بار سرحدی تنازع کو ہوا دینا دراصل دہشت گرد گروپوں خصوصاً ٹی ٹی پی کی محفوظ پناہ گاہوں کے معاملے سے نظریں چرانے کی ایک سوچی سمجھی کوشش ہے۔ اقوام متحدہ کی 2024 اور 2025 کی مانیٹرنگ رپورٹس واضح طور پر تصدیق کرتی ہیں کہ ٹی ٹی پی کنڑ، ننگرہار، خوست اور پکتیکا میں موجود ہے، جہاں سے وہ پاکستان پر سرحد پار حملے کرتی ہے۔ گلوبل ٹیررازم انڈیکس 2026 کے مطابق، سال 2025 میں پاکستان میں ہونے والی 1,139 اموات میں سے بڑی تعداد کی ذمہ دار ٹی ٹی پی ہے، اور 2021 کے بعد سے اس عسکریت پسند گروہ کی تنظیم نو اور حملوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔
سرحدی باڑھ اور علاقائی استحکام
پاکستان نے واضح کیا ہے کہ وہ کوئی غیر ملکی غاصب نہیں بلکہ ایک ذمہ دار پڑوسی ہے جس نے دہائیوں تک لاکھوں افغان مہاجرین کی میزبانی کی ہے۔ سرحدی باڑھ کا مقصد دراندازی، اسمگلنگ اور عسکریت پسندوں کی نقل و حرکت کو روکنا ہے جس نے ہزاروں پاکستانیوں کی جانیں لی ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ خطے میں استحکام کا دارومدار صرف ایک نکتے پر ہے، اور وہ ہے افغان سرزمین کا ٹی ٹی پی اور دیگر اتحادی گروہوں کی جانب سے استعمال بند کرنا۔ کابل کے حالیہ بیانات اور دھمکیاں ان عملی اقدامات کے برعکس ہیں جن کا وعدہ ارومچی مذاکرات کے دوران کیا گیا تھا۔