سابق افغان سیاست دان روہب اللہ جان نے امریکی امداد کی معطلی پر افغان عوام کو طالبان کے جبر کے خلاف پُرامن آواز اٹھانے کی تلقین کی ہے۔

May 30, 2026

بلوچستان میں سرگرم کالعدم تنظیم بی ایل اے کی خاتون کمانڈر شہناز بلوچ کے اہلِ خانہ نے تربت پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان سے مکمل اور حتمی لاتعلقی کا اعلان کر دیا ہے.

May 30, 2026

طالبان کے امیر ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ نے عید کے خطبے میں عوام پر اندھی اطاعت لازم قرار دے دی ہے، جسے ماہرین نے اندرونی اختلافات اور اقتدار بچانے کی کوشش قرار دیا ہے۔

May 30, 2026

نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار اور امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کے مابین واشنگٹن میں اہم ملاقات ہوئی ہے، جس میں تجارت، سلامتی اور انسدادِ دہشت گردی سمیت دوطرفہ شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا گیا ہے۔

May 30, 2026

حکومت نے عوام کو بڑا ریلیف دیتے ہوئے ایک ہفتے کے لیے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 22، 22 روپے جبکہ مٹی کے تیل میں 41 روپے 44 پیسے فی لیٹر کی بڑی کمی کر دی ہے۔

May 30, 2026

فلم زومبیڈ کے فرضی منظر کو مطیع اللہ جان کی جانب سے صوبائی رنگ دینے پر مبصرین نے اسے تفریحی صنعت کو نقصان پہنچانے کا حربہ قرار دیا ہے۔

May 30, 2026

ڈیورنڈ لائن پر افغان وزیر کا بیانیہ مسترد: کابل کا غیر سنجیدہ رویہ اور دہشت گردوں کی پناہ گاہیں اصل چیلنج

پاکستان نے افغان وزیر نور اللہ نوری کے ڈیورنڈ لائن سے متعلق بیان کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ سرحد کے وجود سے انکار زمینی حقیقت نہیں بدل سکتا، کابل ٹی ٹی پی کی محفوظ پناہ گاہوں سے توجہ ہٹانے کے لیے بیانیہ مسخ کرنے سے گریز کرے
پاکستان نے افغان وزیر نور اللہ نوری کے ڈیورنڈ لائن سے متعلق بیان کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ سرحد کے وجود سے انکار زمینی حقیقت نہیں بدل سکتا، کابل ٹی ٹی پی کی محفوظ پناہ گاہوں سے توجہ ہٹانے کے لیے بیانیہ مسخ کرنے سے گریز کرے

افغان وزیر کا اشتعال انگیز بیان: پاکستان کا کرارا جواب۔ ڈیورنڈ لائن عالمی سطح پر تسلیم شدہ سرحد ہے۔ ٹی ٹی پی کی پناہ گاہیں اور دہشت گردی ہی اصل مسئلہ ہے، کابل بیانیہ مسخ نہ کرے

April 10, 2026

چین کی میزبانی میں ہونے والے ارمچی مذاکرات کی کامیابی اور خطے میں استحکام کی امیدوں کے برعکس افغان حکومت کے وزیر برائے سرحد و قبائلی امور نور اللہ نوری نے پاکستان کے خلاف شدید اشتعال انگیز اور غیر سفارتی بیان جاری کیا ہے۔ ویڈیو پیغام میں افغان وزیر نے ڈیورنڈ لائن کے وجود سے انکار کرتے ہوئے پاکستان کو “پنجاب” کے نام سے پکارا اور جارحانہ دھمکیاں دی ہیں۔ انہوں نے ڈیورنڈ لائن کو سرحد ماننے سے انکار کرتے ہوئے پاکستان کی سرحدی باڑ کو ‘افغانوں کے سینے پر خاردار تار’ قرار دیا ہے۔

افغان وزیر نے دھمکی آمیز لہجہ اختیار کرتے ہوئے پنجاب کا حشر بھی روس اور امریکہ جیسا کرنے کا ذکر کیا، جس پر پاکستانی حکام کا مؤقف ہے کہ سرحدوں کا انکار کرنے سے تاریخی اور قانونی حقائق تبدیل نہیں ہوں گے۔ پاکستانی حکام اور دفاعی ماہرین نے ان ریمارکس کو زمینی حقائق کو مسخ کرنے اور دہشت گردی کے اصل مسئلے سے توجہ ہٹانے کی ایک ناکام کوشش قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔

ڈیورنڈ لائن اور قانونی حقائق

پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ ڈیورنڈ لائن کا وجود نہ ہونے کا دعویٰ محض ایک افسانہ ہے۔ تاریخی حقائق کے مطابق ڈیورنڈ لائن پر 1893 میں برطانوی ہند اور اس وقت کے افغان امیر عبدالرحمٰن خان کے مابین باقاعدہ معاہدہ ہوا تھا، جس کی توثیق بعد ازاں 1905، 1919، 1921 اور 1930 میں یکے بعد دیگرے آنے والی افغان حکومتوں نے کی۔ بین الاقوامی قانون کے تحت پاکستان نے اسے ایک قانونی سرحد کے طور پر وراثت میں حاصل کیا ہے اور یہ آج عالمی سطح پر تسلیم شدہ ہے۔ پاکستان نے اپنی سرحد کے 98 فیصد حصے پر باڑھ لگا دی ہے، جو کسی بھی خود مختار ریاست کا اپنی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے ایک معیاری عمل ہے۔

دہشت گردی اور افغان سرزمین کا استعمال

پاکستانی مؤقف کے مطابق کابل کی جانب سے بار بار سرحدی تنازع کو ہوا دینا دراصل دہشت گرد گروپوں خصوصاً ٹی ٹی پی کی محفوظ پناہ گاہوں کے معاملے سے نظریں چرانے کی ایک سوچی سمجھی کوشش ہے۔ اقوام متحدہ کی 2024 اور 2025 کی مانیٹرنگ رپورٹس واضح طور پر تصدیق کرتی ہیں کہ ٹی ٹی پی کنڑ، ننگرہار، خوست اور پکتیکا میں موجود ہے، جہاں سے وہ پاکستان پر سرحد پار حملے کرتی ہے۔ گلوبل ٹیررازم انڈیکس 2026 کے مطابق، سال 2025 میں پاکستان میں ہونے والی 1,139 اموات میں سے بڑی تعداد کی ذمہ دار ٹی ٹی پی ہے، اور 2021 کے بعد سے اس عسکریت پسند گروہ کی تنظیم نو اور حملوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔

سرحدی باڑھ اور علاقائی استحکام

پاکستان نے واضح کیا ہے کہ وہ کوئی غیر ملکی غاصب نہیں بلکہ ایک ذمہ دار پڑوسی ہے جس نے دہائیوں تک لاکھوں افغان مہاجرین کی میزبانی کی ہے۔ سرحدی باڑھ کا مقصد دراندازی، اسمگلنگ اور عسکریت پسندوں کی نقل و حرکت کو روکنا ہے جس نے ہزاروں پاکستانیوں کی جانیں لی ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ خطے میں استحکام کا دارومدار صرف ایک نکتے پر ہے، اور وہ ہے افغان سرزمین کا ٹی ٹی پی اور دیگر اتحادی گروہوں کی جانب سے استعمال بند کرنا۔ کابل کے حالیہ بیانات اور دھمکیاں ان عملی اقدامات کے برعکس ہیں جن کا وعدہ ارومچی مذاکرات کے دوران کیا گیا تھا۔

دیکھیے: بی ایل اے سربراہ بشیر زیب کی افغانستان میں گورنر ہرات سے ملاقات، بی ایل اے کے افغانستان میں ٹھکانے سامنے آگئے

متعلقہ مضامین

سابق افغان سیاست دان روہب اللہ جان نے امریکی امداد کی معطلی پر افغان عوام کو طالبان کے جبر کے خلاف پُرامن آواز اٹھانے کی تلقین کی ہے۔

May 30, 2026

بلوچستان میں سرگرم کالعدم تنظیم بی ایل اے کی خاتون کمانڈر شہناز بلوچ کے اہلِ خانہ نے تربت پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان سے مکمل اور حتمی لاتعلقی کا اعلان کر دیا ہے.

May 30, 2026

طالبان کے امیر ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ نے عید کے خطبے میں عوام پر اندھی اطاعت لازم قرار دے دی ہے، جسے ماہرین نے اندرونی اختلافات اور اقتدار بچانے کی کوشش قرار دیا ہے۔

May 30, 2026

نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار اور امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کے مابین واشنگٹن میں اہم ملاقات ہوئی ہے، جس میں تجارت، سلامتی اور انسدادِ دہشت گردی سمیت دوطرفہ شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا گیا ہے۔

May 30, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *