ڈیرہ اسماعیل خان میں سکیورٹی فورسز کے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران فتنہ الخوارج کے تین اہم سرغنہ سمیت آٹھ دہشت گرد ہلاک ہو گئے۔

October 4, 2026

گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ صوبے کو بچانے کے لیے ایمرجنسی لگانا پڑی تو ضرور لگائیں گے، اور اس صورت میں پی ٹی آئی کے لیے وہ اکیلے ہی کافی ہیں۔

October 4, 2026

حکومت اور پی ٹی آئی مذاکرات میں بنیادی تعطل خیبر پختونخوا میں انسدادِ دہشت گردی پر تحریری تعاون نہ ملنے کی وجہ سے پیدا ہوا، جبکہ سویلین عمل سے متعلق الزامات کو مسترد کر دیا گیا۔

October 4, 2026

طویل مذاکرات میں حکومت کے بڑے پن کے باوجود پی ٹی آئی نے انسدادِ دہشت گردی اور نیشنل ایکشن پلان پر تعاون سے انکار کر کے انتشار کی راہ چن لی۔

October 4, 2026

سعودی عرب اور یمن نے بحیرہ احمر کی بحالی کیلئے حوثیوں کیخلاف مشترکہ فوجی کارروائی کا حتمی خاکہ تیار کر لیا۔

October 4, 2026

طلال چوہدری کا کہنا ہے کہ معاہدہ طے تھا مگر اپوزیشن ٹیم کو کے پی سے ڈکٹیٹ کیا گیا، کے پی حکومت کے عدم تعاون پر مذاکرات ناکام ہوئے۔

October 4, 2026

سیلاب سے زرعی شعبے کی کمر ٹوٹ گئی، ملکی معیشت کو 1.4 ارب ڈالرز کا نقصان

زرعی شعبہ سب سے زیادہ متاثر ہونے کی توقع ہے جس کا تخمینہ 302 ارب روپے (1 ارب ڈالر) لگایا گیا ہے۔
سیلاب سے زرعی شعبے کی کمر ٹوٹ گئی، ملکی معیشت کو 1۔4 ارب ڈالرز کا نقصان

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ابتدائی طور پر 0.33 فیصد جی ڈی پی نقصان معمولی لگتا ہے تاہم جیسے جیسے براہِ راست اور بالواسطہ اثرات واضح ہوں گے، حتمی نقصان کا تخمینہ اس سے کہیں زیادہ ہو سکتا ہے۔

September 8, 2025

سال 2025 کے مون سون سیلاب پاکستان کی نازک معیشت پر بھاری نقصان کا باعث بنیں گے، جس کا ابتدائی تخمینہ 409 ارب روپے یا 1.4 ارب ڈالر لگایا گیا ہے، جو ملکی جی ڈی پی کا 0.33 فیصد بنتا ہے۔

زرعی شعبہ سب سے زیادہ متاثر ہونے کی توقع ہے جس کا تخمینہ 302 ارب روپے (1 ارب ڈالر) لگایا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، یہ نقصان مجموعی خسارے کا تقریباً تین چوتھائی حصہ اور جی ڈی پی کا تقریباً 0.24 فیصد بنتا ہے، جو زرعی شعبے کی شدید موسمیاتی جھٹکوں جیسے سیلاب، خشک سالی یا دیگر غیر متوقع شدید موسم کے لیے حساسیت اور غذائی تحفظ و دیہی روزگار پر لاحق خطرات کی واضح عکاسی کرتا ہے۔

سیلاب نے پنجاب میں تقریباً 13 لاکھ ایکڑ زرعی زمین ڈبو دی ہے جس سے چاول، گنا، کپاس اور مکئی جیسی اہم فصلیں تباہ ہوگئی ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حالیہ سیلاب ملک بھر میں لاکھوں ایکڑ زرعی زمین کو متاثر کرچکے ہیں جس سے پیداوار میں کمی اور لوگوں کے روزگار کے ذرائع خطرے میں ہیں۔

اقتصادی اثرات کے پیشِ نظر اے ایچ ایل نے مالی سال 2026 کے لیے پاکستان کی جی ڈی پی گروتھ کا تخمینہ 3.4 فیصد سے کم کر کے 3.2 فیصد کردیا ہے جبکہ زرعی شعبے کی پیش گوئی 2.2 فیصد سے گھٹا کر صرف 1.1 فیصد کر دی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق متاثرہ علاقوں میں زرعی پیداوار 15 سے 20 فیصد تک کم ہو سکتی ہے جو جی ڈی پی گروتھ پر 0.5 تا 1.0 فیصد تک اثر ڈال سکتی ہے۔

فوری تباہی کے علاوہ، مٹی کی نمکیت، آبپاشی کے نظام میں رکاوٹیں اور سپلائی چین میں خلل جیسے ثانوی اثرات بھی دباؤ بڑھا سکتے ہیں جس سے غذائی اشیاء کی قیمتیں 20 تا 30 فیصد تک بڑھنے اور گندم و کپاس جیسی اہم اشیاء کی درآمدات میں 10 تا 15 فیصد اضافہ ہونے کا امکان ہے۔

تجارتی شعبے کو بھی نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔ مالی سال 2026 میں تجارتی توازن 1.9 ارب ڈالر کمزور ہوسکتا ہے کیونکہ ٹیکسٹائل صنعت کی طلب پوری کرنے کے لیے کپاس کی درآمدات میں 1 ارب ڈالر سے زیادہ اضافہ متوقع ہے۔ اسی دوران اہم فصلوں کی برآمدات سے آمدن میں نمایاں کمی کا امکان ہے، چاول کی برآمدات 278 ملین ڈالر، گنے کی 283 ملین ڈالر اور ٹیکسٹائل کی برآمدات تقریباً 300 ملین ڈالر تک کم ہو سکتی ہیں۔

مہنگائی کے حوالے سے بھی خطرات واضح ہیں۔ فصلوں کی پیداوار اور غذائی تحفظ پر اثرات کی وجہ سے قیمتوں میں اضافہ متوقع ہے۔

گوشت، چاول، سبزیاں اورچینی کی قلت سے مالی سال 2026 کے لیے سالانہ اوسط سی پی آئی 7.2 فیصد تک پہنچ سکتی ہے، جبکہ سیلاب سے پہلے یہ تخمینہ 5.5 فیصد تھا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ابتدائی طور پر 0.33 فیصد جی ڈی پی نقصان معمولی لگتا ہے تاہم جیسے جیسے براہِ راست اور بالواسطہ اثرات واضح ہوں گے، حتمی نقصان کا تخمینہ اس سے کہیں زیادہ ہو سکتا ہے۔

دیکھیں: امریکی فوجی طیارہ سیلاب متاثرین کیلئے خصوصی امداد لے کر نور خان ائیر بیس پہنچ گیا

متعلقہ مضامین

ڈیرہ اسماعیل خان میں سکیورٹی فورسز کے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران فتنہ الخوارج کے تین اہم سرغنہ سمیت آٹھ دہشت گرد ہلاک ہو گئے۔

October 4, 2026

گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ صوبے کو بچانے کے لیے ایمرجنسی لگانا پڑی تو ضرور لگائیں گے، اور اس صورت میں پی ٹی آئی کے لیے وہ اکیلے ہی کافی ہیں۔

October 4, 2026

حکومت اور پی ٹی آئی مذاکرات میں بنیادی تعطل خیبر پختونخوا میں انسدادِ دہشت گردی پر تحریری تعاون نہ ملنے کی وجہ سے پیدا ہوا، جبکہ سویلین عمل سے متعلق الزامات کو مسترد کر دیا گیا۔

October 4, 2026

طویل مذاکرات میں حکومت کے بڑے پن کے باوجود پی ٹی آئی نے انسدادِ دہشت گردی اور نیشنل ایکشن پلان پر تعاون سے انکار کر کے انتشار کی راہ چن لی۔

October 4, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *