حالیہ دہشت گردی کے واقعات کے تناظر میں مذہبی و سماجی حلقوں نے اس امر پر زور دیا ہے کہ معصوم شہریوں کو نشانہ بنانا نہ صرف انسانیت کے خلاف جرم ہے بلکہ اسلامی تعلیمات کی صریح خلاف ورزی بھی ہے۔ اسلامی فقہ میں “فساد فی الارض” اُس شدید بگاڑ اور تباہی کو کہا جاتا ہے جو معاشرے کو اندر سے کھوکھلا کر دے، ایسا تشدد جو صرف جانیں ہی نہیں لیتا بلکہ خوف، بے یقینی اور معاشی تباہی کو بھی جنم دیتا ہے۔
علمائے کرام کے مطابق اسلام واضح طور پر بے گناہ افراد کے قتل کو حرام قرار دیتا ہے۔ خودکش حملے، بازاروں، مساجد اور دیگر عوامی مقامات پر تشدد کے واقعات کو دین کے نام پر جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔ دینی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے اعمال دراصل دین کے خلاف جرائم ہیں اور انہیں کسی صورت مذہبی جواز فراہم نہیں کیا جا سکتا۔
ماہرین کے مطابق شدت پسند عناصر اپنے اقدامات کے ذریعے نہ صرف انسانی جانوں کا ضیاع کرتے ہیں بلکہ مقامی معیشت کو بھی شدید نقصان پہنچاتے ہیں۔ ایسے واقعات کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جاتے ہیں، خوف اور عدم تحفظ کا ماحول پیدا ہوتا ہے اور سماجی ڈھانچہ کمزور پڑ جاتا ہے۔
سماجی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ خود کو مسلمان کہنے کے باوجود بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانا کھلا تضاد ہے جو اسلام کی اصل روح—امن، عدل اور رحم—سے انحراف کو ظاہر کرتا ہے۔
علمائے دین نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ شدت پسندی کے بیانیے کو مسترد کریں اور نوجوان نسل کو صحیح دینی تعلیمات سے روشناس کرائیں تاکہ معاشرے کو فساد اور انتشار سے محفوظ رکھا جا سکے۔ ان کے مطابق پائیدار امن کے لیے ریاست، مذہبی قیادت اور معاشرے کے تمام طبقات کو مشترکہ کردار ادا کرنا ہوگا۔