جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی جانب سے 30 اپریل 2026 کو ایک بار پھر ریاستی اداروں کے خلاف سخت بیانیہ اختیار کیا گیا ہے۔ مولانا نے اپنے حالیہ بیان میں باجوڑ اور وزیرستان میں سکیورٹی فورسز کی جانب سے دہشت گردوں کے خلاف کی جانے والی کاروائیوں پر سوالات اٹھائے ہیں۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ بیانیہ فتنہ الخوارج کے موقف کو تقویت دینے کے مترادف ہے۔
ریاستی اقدامات کی مخالفت کا تسلسل
مولانا فضل الرحمان کا یہ رویہ نیا نہیں ہے، وہ ماضی میں بھی نیشنل ایکشن پلان اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کیے جانے والے مختلف ریاستی اقدامات کی مخالفت کرتے رہے ہیں۔ جب بھی ریاست انتہا پسندی کے نیٹ ورکس کو محدود کرنے کے لیے سخت فیصلے کرتی ہے، ان کی جانب سے تنقیدی بیانات سامنے آنے لگتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ریاستی کارروائیوں کو متنازع بنانا براہِ راست ان عناصر کو فائدہ پہنچاتا ہے جو ملک میں انتشار پھیلانے کے درپے ہیں۔
ذاتی مفادات اور الزامات
بعض حلقوں کی جانب سے یہ الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کا یہ تند و تیز بیانیہ دراصل ان کی اپنی متنازع سیاسی اور مالی تاریخ سے توجہ ہٹانے کی ایک کوشش ہے۔ نیب کی جانب سے ان کے خلاف آمدن سے زائد اثاثوں اور سرکاری زمین کی کم قیمت پر الاٹمنٹ جیسے سنگین معاملات پر تحقیقات جاری ہیں۔ 64 کنال سرکاری زمین کی غیر قانونی الاٹمنٹ اور ڈیزل پرمٹ اسکیم جیسے اسکینڈلز بھی ان کے نام سے منسوب رہے ہیں۔
قومی ابہام اور سلامتی کے خطرات
ایسے وقت میں جب ریاست دہشت گردی کے خلاف واضح موقف اپنائے ہوئے ہے، سیاسی قیادت کی جانب سے مسلسل شکوک و شبہات پیدا کرنا قومی سطح پر کنفیوژن کا باعث بن رہا ہے۔ یہ صورتحال خوارج اور دیگر دہشت گرد گروہوں کے لیے اپنی مذموم کارروائیاں جاری رکھنے میں آسانی پیدا کرتی ہے۔ عوامی مطالبہ زور پکڑ رہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کو دہشت گردی کے خلاف واضح پوزیشن اختیار کرنی چاہیے، کیونکہ ان کا مبہم رویہ کمزور ذہنوں کو غلط پیغام دے رہا ہے۔