بھارتی کمپنی ‘آدتیہ برلا گلوبل ٹریڈنگ’ پر جعل سازی کے ذریعے ایران سے ممنوعہ یوریا درآمد کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے، جس نے مودی سرکار کو عالمی سطح پر شدید سفارتی دباؤ اور سبکی سے دوچار کر دیا ہے۔

May 1, 2026

بلوچستان اسمبلی میں 14 نئے ارکان کی شمولیت نے انتخابی نمائندگی کے خلاف منفی پروپیگنڈے کو بے نقاب کر دیا ہے، جبکہ ریاست نے واضح کیا ہے کہ مذاکرات صرف آئین کے دائرے میں رہنے والوں سے ہوں گے۔

May 1, 2026

تحریکِ طالبان پاکستان نے شمالی وزیرستان میں پشتون روایات کو پامال کرتے ہوئے خواتین کو ہراساں کرنے اور مقامی لوگوں کے مال و اسباب لوٹنے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے، جس سے ان کا مذموم چہرہ بے نقاب ہو گیا ہے۔

May 1, 2026

یہ صورتحال خوارج اور دیگر دہشت گرد گروہوں کے لیے اپنی مذموم کارروائیاں جاری رکھنے میں آسانی پیدا کرتی ہے۔ عوامی مطالبہ زور پکڑ رہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کو دہشت گردی کے خلاف واضح پوزیشن اختیار کرنی چاہیے، کیونکہ ان کا مبہم رویہ کمزور ذہنوں کو غلط پیغام دے رہا ہے۔

May 1, 2026

سہیل آفریدی کا بیانیہ حقائق سے زیادہ جذباتی سیاست پر مبنی ہے، جو افغان طالبان کی جارحیت پر پردہ ڈالنے اور قومی اداروں کے خلاف نفرت پھیلانے کی ایک منظم کوشش دکھائی دیتی ہے۔

May 1, 2026

برطانیہ میں اظہر مشوانی کی قیادت میں مذہبی رہنما حافظ طاہر اشرفی اور ان کی فیملی کو ہراساں کرنے کے واقعے نے سیاسی غنڈہ گردی اور اخلاقی پستی کو بے نقاب کر دیا ہے۔

May 1, 2026

مولانا فضل الرحمان کے حالیہ بیانات پر عوامی و سیاسی حلقوں میں تشویش، خوارج کی حمایت کا تاثر مضبوط ہونے لگا

یہ صورتحال خوارج اور دیگر دہشت گرد گروہوں کے لیے اپنی مذموم کارروائیاں جاری رکھنے میں آسانی پیدا کرتی ہے۔ عوامی مطالبہ زور پکڑ رہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کو دہشت گردی کے خلاف واضح پوزیشن اختیار کرنی چاہیے، کیونکہ ان کا مبہم رویہ کمزور ذہنوں کو غلط پیغام دے رہا ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے ایک بار پھر سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے فتنہ الخوارج کے بیانیے کو تقویت دی ہے، جسے ماہرین ان کے خلاف جاری کرپشن کیسز سے توجہ ہٹانے کا حربہ قرار دے رہے ہیں۔

گزشتہ روز مولانا فضل الرحمان نے باجوڑ اور وزیرستان میں فوجی آپریشنز پر سوال اٹھا دیے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ بیانیہ ریاست کے بجائے دہشت گردوں کے مفاد میں ہے۔

May 1, 2026

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی جانب سے 30 اپریل 2026 کو ایک بار پھر ریاستی اداروں کے خلاف سخت بیانیہ اختیار کیا گیا ہے۔ مولانا نے اپنے حالیہ بیان میں باجوڑ اور وزیرستان میں سکیورٹی فورسز کی جانب سے دہشت گردوں کے خلاف کی جانے والی کاروائیوں پر سوالات اٹھائے ہیں۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ بیانیہ فتنہ الخوارج کے موقف کو تقویت دینے کے مترادف ہے۔

ریاستی اقدامات کی مخالفت کا تسلسل

مولانا فضل الرحمان کا یہ رویہ نیا نہیں ہے، وہ ماضی میں بھی نیشنل ایکشن پلان اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کیے جانے والے مختلف ریاستی اقدامات کی مخالفت کرتے رہے ہیں۔ جب بھی ریاست انتہا پسندی کے نیٹ ورکس کو محدود کرنے کے لیے سخت فیصلے کرتی ہے، ان کی جانب سے تنقیدی بیانات سامنے آنے لگتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ریاستی کارروائیوں کو متنازع بنانا براہِ راست ان عناصر کو فائدہ پہنچاتا ہے جو ملک میں انتشار پھیلانے کے درپے ہیں۔

ذاتی مفادات اور الزامات

بعض حلقوں کی جانب سے یہ الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کا یہ تند و تیز بیانیہ دراصل ان کی اپنی متنازع سیاسی اور مالی تاریخ سے توجہ ہٹانے کی ایک کوشش ہے۔ نیب کی جانب سے ان کے خلاف آمدن سے زائد اثاثوں اور سرکاری زمین کی کم قیمت پر الاٹمنٹ جیسے سنگین معاملات پر تحقیقات جاری ہیں۔ 64 کنال سرکاری زمین کی غیر قانونی الاٹمنٹ اور ڈیزل پرمٹ اسکیم جیسے اسکینڈلز بھی ان کے نام سے منسوب رہے ہیں۔

قومی ابہام اور سلامتی کے خطرات

ایسے وقت میں جب ریاست دہشت گردی کے خلاف واضح موقف اپنائے ہوئے ہے، سیاسی قیادت کی جانب سے مسلسل شکوک و شبہات پیدا کرنا قومی سطح پر کنفیوژن کا باعث بن رہا ہے۔ یہ صورتحال خوارج اور دیگر دہشت گرد گروہوں کے لیے اپنی مذموم کارروائیاں جاری رکھنے میں آسانی پیدا کرتی ہے۔ عوامی مطالبہ زور پکڑ رہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کو دہشت گردی کے خلاف واضح پوزیشن اختیار کرنی چاہیے، کیونکہ ان کا مبہم رویہ کمزور ذہنوں کو غلط پیغام دے رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

بھارتی کمپنی ‘آدتیہ برلا گلوبل ٹریڈنگ’ پر جعل سازی کے ذریعے ایران سے ممنوعہ یوریا درآمد کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے، جس نے مودی سرکار کو عالمی سطح پر شدید سفارتی دباؤ اور سبکی سے دوچار کر دیا ہے۔

May 1, 2026

بلوچستان اسمبلی میں 14 نئے ارکان کی شمولیت نے انتخابی نمائندگی کے خلاف منفی پروپیگنڈے کو بے نقاب کر دیا ہے، جبکہ ریاست نے واضح کیا ہے کہ مذاکرات صرف آئین کے دائرے میں رہنے والوں سے ہوں گے۔

May 1, 2026

تحریکِ طالبان پاکستان نے شمالی وزیرستان میں پشتون روایات کو پامال کرتے ہوئے خواتین کو ہراساں کرنے اور مقامی لوگوں کے مال و اسباب لوٹنے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے، جس سے ان کا مذموم چہرہ بے نقاب ہو گیا ہے۔

May 1, 2026

سہیل آفریدی کا بیانیہ حقائق سے زیادہ جذباتی سیاست پر مبنی ہے، جو افغان طالبان کی جارحیت پر پردہ ڈالنے اور قومی اداروں کے خلاف نفرت پھیلانے کی ایک منظم کوشش دکھائی دیتی ہے۔

May 1, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *