بلوچستان کی موجودہ سیاسی صورتحال اور حالیہ انتخابی اعداد و شمار نے ان تمام منفی دعوؤں کی حقیقت کو واضح کر دیا ہے جو صوبے میں حقیقی عوامی نمائندگی کے فقدان کا پروپیگنڈا کرتے رہے ہیں۔ جمہوری عمل میں عوام کی بھرپور شرکت اور نئی قیادت کی شمولیت اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ یہاں کے عوام سیاسی استحکام اور جمہوری تسلسل پر مکمل یقین رکھتے ہیں۔
نئی قیادت کی شمولیت اور انتخابی نتائج
موجودہ بلوچستان اسمبلی کی 51 جنرل نشستوں کے نتائج کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو یہ اہم حقیقت سامنے آتی ہے کہ 14 ارکان پہلی مرتبہ منتخب ہو کر ایوان کا حصہ بنے ہیں۔ یہ تبدیلی نہ صرف عوامی رائے اور بھرپور سیاسی مقابلے کی عکاسی کرتی ہے، بلکہ جمہوری عمل میں نئی قیادت کی شمولیت کو بھی ظاہر کرتی ہے۔ ماہرین کے مطابق حقیقی نمائندگی نہ ہونے کے تمام دعوے سیاسی طور پر مصلحت آمیز ہیں، جو انتخابی نتائج اور عوامی شرکت کے حقیقی رجحانات سے قطعاً میل نہیں کھاتے۔
قوم پرستی اور دہشت گردی
رپورٹ کے مطابق بعض بلوچ قوم پرست عناصر ایک مخصوص اور یکطرفہ بیانیہ پیش کرنے کے لیے انتخابی عمل کے تنوع اور جمہوری سرگرمیوں کو دانستہ طور پر نظر انداز کر رہے ہیں۔ ان عناصر کی جانب سے یہ کوشش بھی کی جاتی ہے کہ جائز سیاسی جدوجہد اور صوبے میں سرگرم دہشت گرد گروہوں کی پرتشدد کارروائیوں کے درمیان فرق کو دھندلا کر دیا جائے۔ تاہم، اس معاملے پر ریاست کا مؤقف بالکل دوٹوک ہے کہ شہریوں یا ریاستی اداروں کے خلاف کسی بھی قسم کا تشدد، خواہ وہ کسی بھی گروہ کی جانب سے ہو، صرف اور صرف دہشت گردی ہی کہلائے گا۔
ریاست کا دوٹوک مؤقف اور مذاکرات کی پالیسی
ریاستی اداروں نے اس بات کی وضاحت کر دی ہے کہ نسلی یا مذہبی بنیاد پر کام کرنے والے دہشت گرد گروہوں میں کوئی تفریق نہیں کی جاتی اور تمام شرپسند عناصر کے ساتھ ایک ہی قانونی فریم ورک کے تحت سختی سے نمٹا جاتا ہے۔ جہاں تک مذاکرات کا سوال ہے، ریاست کے دروازے صرف ان سیاسی اداکاروں کے لیے کھلے ہیں جو آئینِ پاکستان کے دائرے میں رہ کر سیاست کرنے پر یقین رکھتے ہیں۔ دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث گروہوں کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات یا مفاہمت کی کوئی گنجائش موجود نہیں ہے۔