افغانستان میں سلامتی اور داخلی استحکام کو درپیش خطرات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے، جہاں ایک جانب کابل میں دھماکے نے تشویش پیدا کی ہے تو دوسری جانب شمال مشرقی صوبے نورستان میں قیمتی معدنی وسائل پر کنٹرول کے معاملے نے طالبان حکومت کے اندر سنگین اختلافات کو جنم دے دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق نورستان میں قیمتی معدنیات کی تلاش اور نکاسی کے لیے بعض چینی کمپنیوں کو لیز دی گئی، جس پر طالبان قیادت کے درمیان شدید اختلاف سامنے آیا۔ بتایا جاتا ہے کہ طالبان کے سینئر رہنما ملا جابر نے یہ لیز طاقت کے زور پر منظور کرائی، جبکہ وزیر دفاع ملا یعقوب اور دیگر بااثر طالبان رہنماؤں نے اس کی سخت مخالفت کی۔ ان اختلافات نے نہ صرف طالبان کی داخلی صف بندی کو متاثر کیا بلکہ صوبے میں بدامنی کی صورتحال کو بھی مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
اسی تناظر میں نورستان کے ایک ضلعی یا صوبائی گورنر کے قتل کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، جسے مقامی ذرائع معدنی تنازع اور اندرونی کشمکش سے جوڑ رہے ہیں۔ اگرچہ طالبان حکام کی جانب سے اس قتل کی تفصیلات محدود رکھی گئی ہیں، تاہم یہ واقعہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ معدنی وسائل پر اختیار کی جنگ کس حد تک شدت اختیار کر چکی ہے۔
دوسری جانب کابل میں پیش آنے والا دھماکہ بھی ملک میں عدم تحفظ کے احساس کو بڑھا رہا ہے۔ اگرچہ دھماکے کی مکمل نوعیت اور ذمہ داروں کے بارے میں حتمی معلومات سامنے نہیں آ سکیں، مگر یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب افغانستان پہلے ہی سیاسی کشمکش، معاشی دباؤ اور سکیورٹی چیلنجز کا شکار ہے۔
ماہرین کے مطابق افغانستان میں اندرونی اختلافات، قدرتی وسائل پر کنٹرول کی کشمکش اور غیر ملکی سرمایہ کاری، بالخصوص چینی مفادات، ملک کے امن و استحکام کے لیے نئے خطرات پیدا کر رہے ہیں۔ ان حالات میں طالبان حکومت کے لیے نہ صرف داخلی اتحاد برقرار رکھنا مشکل ہوتا جا رہا ہے بلکہ سکیورٹی صورتحال بھی مزید غیر یقینی بنتی دکھائی دے رہی ہے۔
دیکھیں: افغانستان کے دارالحکومت کابل میں دھماکہ، 9 افراد ہلاک