دبئی سے تل ابیب جانے والی فلائی دبئی کی پرواز میں ہنگامی اور ہائی جیکنگ سگنل فعال ہونے کے بعد طیارے کا رخ سعودی عرب کی جانب موڑ دیا گیا۔ طیارہ سعودی شہر تبوک کے ہوائی اڈے پر بحفاظت اتر گیا۔
پرواز میں 174 مسافر سوار تھے۔ واقعے کے بعد سعودی سیکیورٹی فورسز نے طیارے کو گھیرے میں لے لیا، جبکہ پائلٹس کو حراست میں لے کر تحقیقات شروع کردی گئیں۔
سگنل کیسے فعال ہوا؟
فلائٹ ٹریکنگ کے مطابق طیارے سے پہلے ہنگامی کوڈ 7700 اور اس کے بعد ہائی جیکنگ یا غیر قانونی مداخلت کی نشاندہی کرنے والا کوڈ 7500 جاری ہوا۔
رپورٹس کے مطابق طیارہ تقریباً 34 ہزار فٹ کی بلندی پر پرواز کر رہا تھا، تاہم غیر معمولی صورت حال کے دوران اس کی بلندی کم ہو کر 17 ہزار فٹ تک پہنچ گئی۔
فلائٹ ڈیٹا کے مطابق کاک پٹ میں موجود دونوں پائلٹس کے درمیان جھگڑا ہوا۔ صورت حال اس وقت مزید سنگین ہوگئی جب ایک پائلٹ نے طیارے کا رخ تبدیل کرنے کی کوشش کی اور دوسرے پائلٹ نے اسے روکنے کی کوشش کی۔
ذرائع کے مطابق دونوں پائلٹس کے درمیان ہاتھا پائی کے دوران طیارہ مزید تقریباً 4 ہزار فٹ نیچے آیا۔ صورتحال کو قابو کرنے کے لیے فضائی عملے نے بھی مداخلت کی۔
طیارہ سعودی عرب میں لینڈ
ہائی جیکنگ سگنل فعال ہونے کے بعد زمین پر موجود ایئر ٹریفک کنٹرولرز بھی الرٹ ہوگئے۔ طیارے کا رخ تبدیل کیا گیا اور اسے سعودی عرب کے شہر تبوک میں ہنگامی طور پر اتارا گیا۔
رپورٹس کے مطابق طیارے کی لینڈنگ کے بعد سعودی سیکیورٹی فورسز نے اسے گھیرے میں لے لیا اور پائلٹس کو حراست میں لے لیا۔ طیارے کے بلیک باکس اور دیگر شواہد کی مدد سے واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔
ابتدائی تحقیقات
اسرائیلی میڈیا کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں طیارہ ہائی جیک ہونے کے شواہد نہیں ملے۔ رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ہنگامی سگنل کاک پٹ میں پائلٹس کے درمیان جھگڑے کے دوران فعال ہوا۔ اسرائیلی وزیر اعظم کے ترجمان نے بھی واقعے کو ہائی جیکنگ قرار نہیں دیا۔
دوسری جانب ہنگامی صورت حال کے بعد اسرائیلی حکام نے طیارے کی نگرانی شروع کردی تھی۔ رپورٹس کے مطابق اسرائیلی جنگی طیارے بھی فضا میں بھیجے گئے۔
اسرائیل میں ہنگامی اجلاس
واقعے کے بعد اسرائیلی سیکیورٹی حکام متحرک ہوگئے۔ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اور وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے ہنگامی اجلاس طلب کیا، جس میں فوج اور سیکیورٹی اداروں کے اعلیٰ حکام نے صورتحال کا جائزہ لیا۔
فلائی دبئی کی پرواز دبئی ایئرپورٹ سے تل ابیب کے بن گوریون ایئرپورٹ کے لیے روانہ ہوئی تھی، تاہم کاک پٹ میں پیش آنے والی غیر معمولی صورت حال کے بعد اسے سعودی عرب میں اتار دیا گیا۔