افغان وزارتِ دفاع نے صوبہ نورستان کے ضلع کامدیش میں داعش اور دیگر عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائی مکمل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ کابل انتظامیہ کے مطابق یہ جنگجو ڈیورنڈ لائن پار کر کے علاقے میں داخل ہوئے تھے اور کارروائی کے دوران انہیں شکست دی گئی۔
دوسری جانب مزاحمتی گروہ افغان فریڈم فائٹرز نے طالبان حکومت کے ان تمام دعوؤں کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ طالبان کے بیانات حقائق کے برعکس ہیں اور خطے کی اصل صورتحال کو چھپانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
شہریوں کی گرفتاری
تنظیم نے دعویٰ کیا ہے کہ طالبان نے عام اور بے گناہ شہریوں کو حراست میں لے کر جنگجوؤں کے طور پر پیش کیا۔ بیان کے مطابق زیرِ حراست افراد کو تشہیر کی غرض سے کنڑ اور نورستان کے بازاروں میں بھی گھمایا گیا۔
متضاد بیانیے پر سوالات
افغان فریڈم فائٹرز نے طالبان کے بدلتے مؤقف پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ 26 اور 27 ستمبر کو جن افراد کو سابق فوجی بتایا گیا تھا، انہیں اچانک داعش کا جنگجو کیسے قرار دے دیا گیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ عسکری ناکامیوں کو چھپانے کے لیے من گھڑت الزامات کا سہارا لیا جا رہا ہے۔