حوثی حملوں کے بعد پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے مکہ دفاعی معاہدے کے تحت عسکری سربراہان کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا ہے۔

September 25, 2026

شفا انٹرنیشنل ہسپتال میں عمران خان کی ممکنہ منتقلی اور خصوصی تیاریوں سے متعلق مہر بخاری کا دعویٰ غلط اور بے بنیاد ثابت ہو گیا ہے۔

September 25, 2026

سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے افغان شہریوں کی ہلاکت اور اسلحے کی منتقلی سے متعلق گردش کرنے والی رپورٹ من گھڑت اور بے بنیاد پراپیگنڈا ہے۔

September 25, 2026

مشاہد حسین کا دعویٰ تاریخی شواہد کے منافی ہے۔ پاکستان نے اسامہ بن لادن اور ایمن الظواہری کو تربیت نہیں دی۔

September 25, 2026

رانا ثناء اللہ نے کہا کہ لانگ مارچ مؤخر کیے جانے تک پی ٹی آئی سے مذاکرات نہیں ہوسکتے، حکومت اور تحریک انصاف میں بیک ڈور رابطے جاری ہیں۔

September 24, 2026

پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے منشور میں پاک افغان سرحد سے متعلق بیانیے پر سیاسی اور قانونی حلقوں میں شدید بحث چھڑ گئی ہے۔

September 24, 2026

آزادیٔ صحافت یا بیانیہ سازی؟ فریڈر فنڈڈ رپورٹس کے اعداد و شمار اور معیار پر کڑی تنقید

فریڈم نیٹ ورک کی رپورٹ میں قانونی کارروائیوں کو ‘خلاف ورزی’ قرار دے کر حقائق کو مسخ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ماہرین نے اسے غیر جانبدارانہ رپورٹ کے بجائے ‘کلوزڈ سرکٹ نیریٹیو’ قرار دے دیا۔
فریڈم نیٹ ورک کی رپورٹ میں قانونی کارروائیوں کو 'خلاف ورزی' قرار دے کر حقائق کو مسخ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ماہرین نے اسے غیر جانبدارانہ رپورٹ کے بجائے 'کلوزڈ سرکٹ نیریٹیو' قرار دے دیا۔

پاکستان میں آزادیٔ صحافت کے نام پر بیانیہ سازی کا انکشاف۔ ڈونر فنڈڈ رپورٹس میں قانونی احتساب کو ریاستی جبر بنا کر پیش کرنے کے حقائق سامنے آگئے۔

May 2, 2026

پاکستان میں آزادیٔ اظہارِ رائے اور صحافیوں کے تحفظ کے نام پر کام کرنے والی تنظیموں کی حالیہ رپورٹس کے حوالے سے ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے، جہاں ماہرین اور تجزیہ کاروں نے ان رپورٹس کو حقیقت کے بجائے “بیانیہ سازی” قرار دیا ہے۔ خاص طور پر اسلام آباد میں مقیم غیر سرکاری تنظیم ‘فریڈم نیٹ ورک’ اور ڈنمارک کی تنظیم ‘آئی ایم ایس’ کے اشتراک سے تیار کردہ حالیہ رپورٹ کے اعداد و شمار اور طریقہ کار پر سنگین سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

اعداد و شمار اور قانونی کاروائی

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ صحافیوں کے خلاف 142 خلاف ورزیاں ہوئیں، تاہم باریک بینی سے جائزہ لینے پر معلوم ہوتا ہے کہ ان میں سے 61 کیسز وہ ہیں جن میں قانون کے مطابق ایف آئی آرز درج کی گئیں یا نوٹسز جاری ہوئے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، جب ریاست کے مروجہ قوانین جیسے پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ یا تعزیراتِ پاکستان کے تحت ہونے والی قانونی کارروائیوں کو بھی “جبر اور خلاف ورزی” کے خانے میں ڈالا جائے، تو یہ قانون کی حکمرانی اور تشدد کے درمیان فرق کو دھندلا کر ایک سیاسی تاثر پیدا کرنے کی کوشش معلوم ہوتی ہے۔

یکطرفہ ذرائع اور ریاستی موقف

رپورٹ کی غیر جانبداری اس وقت مشکوک ہو جاتی ہے جب یہ دیکھا جائے کہ ڈیٹا جمع کرنے کے لیے صرف متاثرہ فریقوں، یونینز اور پریس کلبز پر انحصار کیا گیا، جبکہ ریاستی، عدالتی یا ادارہ جاتی موقف کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ تفصیل کے بغیر الزامات عائد کرنا تجزیہ نہیں بلکہ “تاثر سازی” ہے۔ 39 مبینہ جسمانی حملوں کے کیسز میں بھی یہ واضح نہیں کہ کتنے واقعات ذاتی رنجشوں یا مقامی تنازعات کا نتیجہ تھے، لیکن انہیں مجموعی طور پر “ریاستی جبر” کے طور پر پیش کیا گیا۔

ڈونر فنڈڈ ایجنڈا

رپورٹ میں بیرونی امداد اور ڈنمارک جیسے ممالک کی تنظیموں کی مداخلت پر بھی سوال اٹھایا گیا ہے۔ یہ نکتہ اہمیت کا حامل ہے کہ جو قوانین یورپ میں ‘رول آف لاء’ کے تحت تسلیم کیے جاتے ہیں، وہی معیار پاکستان میں ‘جبر’ کیسے بن جاتے ہیں؟ بین الاقوامی میڈیا سپورٹ جیسے ادارے اکثر مقامی قوانین اور قومی سلامتی کے تناظر کو نظر انداز کر کے ہر ریگولیٹری کارروائی کو خلاف ورزی قرار دیتے ہیں، جسے ریاستی فریم ورک کو کمزور کرنے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔

ایڈوائزری بورڈ اور میڈیا ایکو سسٹم

فریڈم نیٹ ورک کے ایڈوائزری بورڈ میں شامل شخصیات، جن میں مظہر عباس، بینظیر شاہ، فرزانہ علی اور دیگر شامل ہیں، کے حوالے سے یہ تاثر عام ہے کہ ان کا بیانیہ اکثر ریاستی پالیسیوں کے خلاف یکطرفہ رخ رکھتا ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ اس رپورٹ کو نمایاں کرنے والے بیشتر چہرے ایک مخصوص میڈیا گروپ (جیو ٹی وی) سے وابستہ ہیں، جس سے اس پوری مشق کے پیچھے چھپے مقاصد اور توازن پر سوال اٹھنا فطری ہے۔

نتیجہ فکر رپورٹ کا خلاصہ یہ ہے کہ پاکستان میں صحافت کو مکمل آزادی حاصل ہے، لیکن اس کا مطلب قانون سے بالاتر ہونا نہیں ہے۔ صحافی بھی ملک کے شہری ہیں اور ان پر بھی وہی قوانین لاگو ہوتے ہیں جو عام شہری پر۔ آزادیٔ اظہار کے نام پر غلط معلومات کی فراہمی یا اداروں کے خلاف منظم مہم کو تحفظ نہیں دیا جا سکتا۔ اصل سوال یہ باقی ہے کہ کیا ایک ایسی ایڈوکیسی رپورٹ کو ‘مکمل حقیقت’ تسلیم کیا جا سکتا ہے جس میں زمینی حقائق کی تصدیق اور قانونی پس منظر غائب ہو؟

متعلقہ مضامین

حوثی حملوں کے بعد پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے مکہ دفاعی معاہدے کے تحت عسکری سربراہان کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا ہے۔

September 25, 2026

شفا انٹرنیشنل ہسپتال میں عمران خان کی ممکنہ منتقلی اور خصوصی تیاریوں سے متعلق مہر بخاری کا دعویٰ غلط اور بے بنیاد ثابت ہو گیا ہے۔

September 25, 2026

سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے افغان شہریوں کی ہلاکت اور اسلحے کی منتقلی سے متعلق گردش کرنے والی رپورٹ من گھڑت اور بے بنیاد پراپیگنڈا ہے۔

September 25, 2026

مشاہد حسین کا دعویٰ تاریخی شواہد کے منافی ہے۔ پاکستان نے اسامہ بن لادن اور ایمن الظواہری کو تربیت نہیں دی۔

September 25, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *