غزہ کی پٹی میں فلسطینی وزارتِ صحت نے تصدیق کی ہے کہ گذشتہ 48 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں 6 افراد شہید ہوئے، جن میں 4 نئے شہداء شامل ہیں، جبکہ 37 زخمی افراد ہسپتالوں میں لائے گئے۔
وزارتِ صحت کے مطابق 11 اکتوبر 2025 کی جنگ بندی کے بعد سے اب تک شہداء کی تعداد 1191 تک پہنچ چکی ہے، جبکہ 3853 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ اسی مدت میں 803 لاشیں ملبے سے نکالی گئیں۔
محکمہ صحت کے مطابق 7 اکتوبر 2023 سے اب تک مجموعی شہداء کی تعداد 73 ہزار 317 اور زخمیوں کی تعداد ایک لاکھ 73 ہزار 961 تک جا پہنچی ہے۔
لاپتا افراد کی تلاش
رپورٹ کے مطابق زمینی حالات کی خرابی اور ایمبولینس و شہری دفاع کے عملے کی رسائی نہ ہونے کے باعث اب بھی متعدد افراد ملبے تلے اور سڑکوں پر لاپتا ہیں۔ اسرائیلی افواج جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مختلف علاقوں میں فائرنگ جاری رکھے ہوئے ہیں۔
گرفتاریوں میں اضافہ
دوسری جانب فلسطینی حقوقی تنظیم کلب برائے اسیران کے مطابق 2026 کے آغاز سے اب تک مقبوضہ مغربی کنارے میں 3600 گرفتاریاں ریکارڈ کی جا چکی ہیں، جبکہ ہزاروں افراد کو میدانی تفتیش کا نشانہ بھی بنایا گیا۔
تنظیم کے مطابق روزانہ کی گرفتاریاں اور میدانی تفتیشیں شہریوں کو طویل حراست، گھروں سے بے دخلی اور جسمانی و ذہنی تشدد کا نشانہ بنانے کا ذریعہ بن چکی ہیں۔
نابلس میں کارروائی
تنظیم کے بیان کے مطابق حالیہ کشیدگی نابلس کے قصبے تل میں عروج پر پہنچی، جہاں ایک واقعے کے بعد درجنوں شہریوں کو حراست میں لے کر ان سے تفتیش کی گئی۔ صرف گذشتہ روز شام سے آج صبح تک مغربی کنارے کے مختلف علاقوں سے کم از کم 80 شہری گرفتار کیے گئے۔
قیدیوں کی تعداد
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جولائی کے آغاز میں اسرائیلی جیلوں میں قیدیوں کی تعداد 9400 سے تجاوز کر چکی تھی، جن میں 3244 انتظامی قیدی بھی شامل ہیں، جبکہ فوجی کیمپوں میں زیرِ حراست افراد اس تعداد میں شامل نہیں۔
دیکھیے: مقبوضہ کشمیر: بھارتی مظالم میں اضافہ، 3500 سے زائد کشمیری گرفتار