عوام کے بچوں کو احتجاج اور جیلوں کے راستے دکھانے والی قیادت اپنے بچوں کے لیے بلیو پاسپورٹ اور بیرونِ ملک محفوظ مستقبل تلاش کر رہی ہے۔ یہ وہی اشرافیہ سیاست ہے جہاں کارکنوں کے لیے انقلاب اور لیڈروں کے خاندانوں کے لیے “سیف ایگزٹ” کا انتظام کیا جاتا ہے۔

May 13, 2026

اجلاس میں مطالبہ کیا گیا کہ مولانا محمد ادریس شہید سمیت تمام سابقہ شہداء، بالخصوص مولانا سمیع الحق شہید اور مولانا حامد الحق شہید کے قاتلوں کو فی الفور گرفتار کیا جائے اور حقائق کو منظرِ عام پر لایا جائے۔

May 13, 2026

یہ لڑائی کرسی اور فنڈز کے ذاتی مفادات کے ٹکراؤ کا نتیجہ ہے جہاں عوام کی ان کے نزدیک کوئی اہمیت نہیں۔ جب ان انقلابیوں کا اندرونی مفاد ٹکراتا ہے تو یہ ایک دوسرے پر جانوروں کی طرح جھپٹ پڑتے ہیں۔ یہ گروہ خود کو ظلم کے خلاف جدوجہد کا علمبردار کہتا ہے لیکن حقیقت میں یہ خود ایک دوسرے کے لیے سب سے بڑا ظلم ثابت ہو رہے ہیں۔

May 13, 2026

سزا معطلی اور ضمانت کا ضابطہ فوجداری کے سیکشن چار سو چھبیس میں بالکل واضح ہے جس کے تحت سات سال سے زیادہ سزا والے مقدمات میں اپیل کا فیصلہ دو سال تک نہ آنے پر ہی عدالت معطلی کی درخواست سن سکتی ہے۔

May 13, 2026

چند مخصوص طاقتیں اس پائیدار امن کی کوششوں سے ناراض ہیں۔ یہی طاقتیں اب اپنے پرانے ایجنڈے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے متحرک ہو چکی ہیں۔ خیبر پختونخوا میں حالیہ دہشت گردی کے واقعات اسی سلسلے کی کڑی ہیں کیونکہ اتنے بڑے پیمانے کی کارروائیاں صرف افغانستان کے بس کی بات نہیں بلکہ اس کے پسِ پردہ بھارت اور اسرائیل جیسی عالمی طاقتوں کی منصوبہ بندی شامل ہے۔

May 13, 2026

فواد چوہدری نے اپنے ردعمل میں واضح کیا کہ اگر فوج اور پولیس نے خیبر پختونخوا چھوڑ دیا تو وہاں بڑے پیمانے پر قتل و غارت ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے میں بھارتی اور افغان ایجنسیاں صوبے میں تباہی مچا دیں گی۔

May 13, 2026

گڈ اینڈ بیڈ طالبان کا بیانیہ: الزامات، حقیقت اور پس منظر

ماہرین کے مطابق حالیہ تنقید کرنے والے وہی سیاسی و فکری دھڑے ہیں جو ماضی میں ان پالیسیوں کا حصہ رہے یا خاموش تماشائی بنے رہے۔
گڈ اینڈ بیڈ طالبان

یہ بیانیہ دراصل انسداد دہشت گردی کے موجودہ آپریشنز کو کمزور کرنے کی ایک کوشش ہے۔

August 9, 2025

حالیہ دنوں میں بعض پشتون قوم پرست اور انارکسٹ حلقوں کی جانب سے یہ الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ ریاست دہشت گردی کے خلاف اقدامات کو جواز فراہم کرنے کے لیے “اچھے اور برے طالبان” کی تفریق پیدا کر رہی ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ بیانیہ دراصل انسداد دہشت گردی کے موجودہ آپریشنز کو کمزور کرنے کی ایک کوشش ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ ماضی میں پاکستان تحریک انصاف کے دور حکومت میں بعض شدت پسند عناصر کو خیبر پختونخوا میں دوبارہ آباد ہونے کی اجازت دی گئی، تاہم اس وقت ان حلقوں کی جانب سے اس پالیسی پر کسی قسم کاکوئی اعتراض سامنے نہیں آیا۔

ماہرین کے مطابق حالیہ تنقید کرنے والے وہی سیاسی و فکری دھڑے ہیں جو ماضی میں ان پالیسیوں کا حصہ رہے یا خاموش تماشائی بنے رہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے واقعات پر خاموشی اور سیکیورٹی فورسز کے اقدامات کی مخالفت ایک غیر جانبدارانہ رویہ نہیں ہے بلکہ اس سے دہشت گرد عناصر کو بالواسطہ فائدہ پہنچ سکتا ہے۔

ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایسے بیانیے نہ تو امن کے قیام میں مددگار ثابت ہوتے ہیں اور نہ ہی ریاست کی ساکھ کو مضبوط بناتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف تمام قومی اقدامات کی غیر مشروط حمایت کی جائے تاکہ شہریوں اور سیکیورٹی اہلکاروں کی جانوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

دیکھیں: کرک میں دہشتگردوں کا سکیورٹی اہلکاروں پر حملہ، تین اہلکار شہید

متعلقہ مضامین

عوام کے بچوں کو احتجاج اور جیلوں کے راستے دکھانے والی قیادت اپنے بچوں کے لیے بلیو پاسپورٹ اور بیرونِ ملک محفوظ مستقبل تلاش کر رہی ہے۔ یہ وہی اشرافیہ سیاست ہے جہاں کارکنوں کے لیے انقلاب اور لیڈروں کے خاندانوں کے لیے “سیف ایگزٹ” کا انتظام کیا جاتا ہے۔

May 13, 2026

اجلاس میں مطالبہ کیا گیا کہ مولانا محمد ادریس شہید سمیت تمام سابقہ شہداء، بالخصوص مولانا سمیع الحق شہید اور مولانا حامد الحق شہید کے قاتلوں کو فی الفور گرفتار کیا جائے اور حقائق کو منظرِ عام پر لایا جائے۔

May 13, 2026

یہ لڑائی کرسی اور فنڈز کے ذاتی مفادات کے ٹکراؤ کا نتیجہ ہے جہاں عوام کی ان کے نزدیک کوئی اہمیت نہیں۔ جب ان انقلابیوں کا اندرونی مفاد ٹکراتا ہے تو یہ ایک دوسرے پر جانوروں کی طرح جھپٹ پڑتے ہیں۔ یہ گروہ خود کو ظلم کے خلاف جدوجہد کا علمبردار کہتا ہے لیکن حقیقت میں یہ خود ایک دوسرے کے لیے سب سے بڑا ظلم ثابت ہو رہے ہیں۔

May 13, 2026

سزا معطلی اور ضمانت کا ضابطہ فوجداری کے سیکشن چار سو چھبیس میں بالکل واضح ہے جس کے تحت سات سال سے زیادہ سزا والے مقدمات میں اپیل کا فیصلہ دو سال تک نہ آنے پر ہی عدالت معطلی کی درخواست سن سکتی ہے۔

May 13, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *