یمن کے علاقے تعز سے تعلق رکھنے والے حوثی مذہبی رہنما علوی بن سہل بن عقیل کی ایک ویڈیو سامنے آئی ہے۔ اس ویڈیو میں وہ حرمین شریفین سے متعلق انتہائی متنازع گفتگو کر رہے ہیں۔ ان کا یہ بیان سوشل میڈیا پر تیزی سے گردش کر رہا ہے۔
اس ویڈیو کے وائرل ہوتے ہی عوام میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ مختلف حلقوں نے اس گفتگو پر سخت ناپسندیدگی ظاہر کی ہے۔ لوگ اسے مقدس مقامات کے احترام کے منافی قرار دے رہے ہیں۔
مسلم دنیا کا ردعمل اور تشویش
مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے عقیدت کا مرکز ہیں۔ مسلمانوں کا ماننا ہے کہ یہ مقامات پوری امت کی مشترکہ امانت ہیں۔ لہٰذا ان کے تقدس پر کسی قسم کا سمجھوتہ ممکن نہیں۔
The Houthi appointed Mufti of Taiz declaring on video that they would attack Makkah and Madinah.
— Tam Khan (@Tamkhan) September 18, 2026
But clowns still say it’s fake. They fall for the taqiya of the Houthis.
Evil terrorist scum. pic.twitter.com/8yOjOHzSY7
سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے مقدس شہروں کا نام استعمال کرنے کی مذمت کی جا رہی ہے۔ مذہبی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ شعائر اللہ کا احترام ہر حال میں لازم ہے۔ کسی گروہ کو اس حد کو پار کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
مقدس مقامات کا تحفظ
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ حرمین شریفین کا تحفظ امت مسلمہ کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔ اس سلسلے میں تمام اسلامی ممالک کو واضح موقف اپنانا چاہیے۔ مقدس مقامات کو ہر قسم کے علاقائی اور سیاسی تنازعات سے الگ رکھنا بے حد ضروری ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایسے بیانات سے خطے میں مزید بے چینی پیدا ہو سکتی ہے۔ اس لیے عالم اسلام کو بیداری کا ثبوت دینا ہو گا۔ حرمین کے تقدس اور امن و امان کو یقینی بنانا سب کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔