ملک میں ‘آزادی’ اور ‘انقلاب’ کے بلند و بانگ دعوے کرنے والی سیاسی قیادت کے قول و فعل کا تضاد ایک بار پھر عوامی بحث کا مرکز بن گیا ہے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی مبینہ سی سی ٹی وی فوٹیج نے ان انقلابی دعوؤں کی قلعی کھول دی ہے، جس میں بیرسٹر گوہر علی خان، محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس کو پرتعیش کھانے، سیور فوڈ، پراٹھے اور کوئٹہ چائے سے لطف اندوز ہوتے دکھایا گیا ہے۔
یہ فوٹیج ایک ایسے وقت میں منظرِ عام پر آئی ہے جب ان قائدین کی جانب سے یہ تاثر دیا جا رہا تھا کہ وہ شدید مشکلات کا شکار ہیں اور بھوک سے نڈھال ہو رہے ہیں۔ بالخصوص بیرسٹر گوہر کے حوالے سے یہ دعویٰ کیا جاتا رہا کہ وہ محض سوکھی روٹی اور سادہ دودھ پر گزارہ کر رہے ہیں، تاہم منظرِ عام پر آنے والی ویڈیو میں مرغن غذاؤں اور چائے کی ضیافت نے ان تمام دعوؤں کو مشکوک بنا دیا ہے۔
طلعت حسین نے اپنے ویلاگ میں CCTV فوٹیج چلا دی جس میں اچکزئی راجہ ناصر بیرسٹر گوہر سیور فوڈ کھا رہے ہیں کوئٹہ چائے اور پراٹھے پھاڑ رہے ہیں
— Kippsam Malik (@KeepsamM) February 19, 2026
اخے سوکھی روٹی اور سوکھا دودھ بیرسٹر گوہر نے کھایا تھا 😆😆 pic.twitter.com/d4IvqlNviP
عوامی اور سیاسی حلقوں میں یہ سوال شدت سے اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا اس ‘نام نہاد آزادی’ اور جس ‘انقلاب’ کی نوید سنائی جا رہی تھی، اس کا مقصد صرف قیادت کے لیے آسائشیں اور عوام کے لیے محض مشکلات پیدا کرنا ہے؟ ناقدین کا کہنا ہے کہ جو قیادت بند کمروں میں شاہانہ ضیافتوں سے مستفیض ہو رہی ہو اور باہر عوام کو گمراہ کن بیانیے دے رہی ہو، وہ سڑکوں پر موجود عام آدمی کے دکھوں کا مداوا کرنے میں قطعی سنجیدہ نہیں ہو سکتی۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اس صورتحال نے اس ‘انقلابی بیانیے’ پر بڑا سوالیہ نشان لگا دیا ہے جس کے نام پر عوام کو متحرک کیا جاتا رہا ہے۔ قیادت کے اس طرزِ عمل سے یہ واضح ہوتا ہے کہ انقلابی نعرے محض سیاسی مقاصد کے حصول کا ذریعہ ہیں، جبکہ حقیقت میں عوامی مفاد اور سادگی ان کے ایجنڈے کا حصہ نہیں۔ سوشل میڈیا پر صارفین اس تضاد کو “عوام متاثر اور لیڈر مستفیض” کی بدترین مثال قرار دے رہے ہیں، جو اس نام نہاد جدوجہد کے اصل چہرے کو بے نقاب کرتی ہے۔