عالمی فوجداری عدالت (آئی سی سی) نے افغان طالبان کے سپریم لیڈر ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ سمیت چار سینئر رہنماؤں کے وارنٹ گرفتاری باضابطہ طور پر پبلک کر دیے ہیں۔ ان رہنماؤں میں طالبان کے چیف جسٹس عبدالحکیم حقانی، وزیر تعلیم حبیب اللہ آغا اور وزیر اعلیٰ تعلیم ندا محمد ندیم شامل ہیں۔
عدالتی دستاویزات کے مطابق یہ وارنٹس جولائی اور ستمبر 2025 کے دوران خفیہ طور پر جاری کیے گئے تھے۔ آئی سی سی کے ججز کے احکامات کے بعد 5 اکتوبر 2026 کو ان خفیہ وارنٹس کو ڈی کلاسیفائی کر کے دنیا کے سامنے لایا گیا۔
آئی سی سی کا مؤقف ہے کہ ان طالبان رہنماؤں کے خلاف انسانیت کے خلاف جرائم، بالخصوص صنفی بنیاد پر خواتین اور لڑکیوں پر منظم ظلم و ستم کے ارتکاب کے ٹھوس اور معقول شواہد موجود ہیں۔
عدالت نے واضح کیا کہ 15 اگست 2021 کو اقتدار میں آنے کے بعد سے طالبان حکومت نے ایسی پالیسیاں اپنائیں جن کے تحت خواتین کی تعلیم، روزگار، آزادانہ نقل و حرکت، اظہارِ رائے، ضمیر، مذہب اور نجی زندگی پر سخت قدغنیں عائد کی گئیں۔ یہ سلسلہ کم از کم 20 جنوری 2025 تک بلا روک ٹوک جاری رہا۔
عدالتی ریکارڈ میں صنفی بنیاد پر ہونے والے جبر سے جڑے دیگر سنگین جرائم کا بھی حوالہ دیا گیا ہے، جن میں ماورائے عدالت قتل، قید، جسمانی تشدد، عصمت دری اور جبری گمشدگی جیسے الزامات شامل ہیں۔ خواتین اور لڑکیوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے والوں کو سیاسی مخالف سمجھ کر نشانہ بنایا گیا۔
پراسیکیوٹر آفس نے ان وارنٹس کے اجرا کے لیے ابتدائی درخواستیں 23 جنوری 2025 کو جمع کرائی تھیں، جن پر ججز نے بالترتیب 8 جولائی اور 9 ستمبر 2025 کو وارنٹس جاری کیے۔ عدالت کا کہنا ہے کہ ان خفیہ دستاویزات کو پبلک کرنے کا بنیادی مقصد مزید جرائم کی روک تھام، متاثرین کا تحفظ اور عالمی قانونی تعاون کو متحرک کرنا ہے۔
دوسری جانب، طالبان حکام عالمی فوجداری عدالت کے دائرہ اختیار کو تسلیم کرنے سے پہلے ہی انکار کر چکے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، آنے والے دنوں میں طالبان کے مزید سینئر اراکین کے خلاف بھی قانونی کارروائی اور نئے وارنٹس جاری کیے جانے کا قوی امکان ہے۔